Thursday, 02 December 2021
  1.  Home/
  2. Asif Mehmood/
  3. Kya Hamara Media Inteha Pasand Hai?

Kya Hamara Media Inteha Pasand Hai?

کیا ہمارا میڈیا انتہا پسند ہے؟ انتہا پسندی کا کسی خاص حلیے یا لباس سے کوئی تعلق نہیں۔ اس کا تعلق رویے اور افتاد طبع سے ہے۔ ضروری نہیں کہ ایک مذہبی رجحان رکھنے والا آدمی ہی انتہا پسند ہو۔ آپ کے رویوں میں اگر اعتدال نہیں اور آپ توازن کھو بیٹھے ہوں اور آپ کو اپنی روش پر مریضانہ حد تک اصرار ہو تو مبینہ روشن خیالی کی چکا چوند میں بھی آپ انتہا پسند ہو سکتے ہیں۔

میڈیا کا تعلق ابلاغ سے ہے۔ اگر اس باب میں یہ توازن کھو دے گا تو انتہا پسند کہلائے گا۔ سوال یہ ہے کہ اس توازن کا عالم کیا ہے؟ چند سوالات میں آپ کے سامنے رکھ دیتا ہوں۔ ان پر غور کرنے سے صورت حال کسی حد تک واضح ہو جائے گی۔

پاکستان ایک وفاق ہے جس کی اکائیاں ہیں۔ مین سٹریم میڈیا میں جتنا وقت دیگر صوبوں کو دیا جاتا ہے کیا اتنا وقت بلوچستان کو ملتا ہے؟ کوئٹہ سے آخر کتنے ٹاک شو ہورہے ہیں؟ بلوچستان کیا صرف اس لیے رہ گیا ہے کہ وہاں کے دھماکے کی خبریں نشر ہوا کریں؟ کیا وہاں کے معاشرے کی کوئی ایسی خبر نہیں جو چینلز پر جگہ پا سکے؟ کیا کبھی وہاں کے مسائل اپنی معنویت کے ساتھ یر بحث آئے؟ کیا میڈیا صرف دو چار بڑے شہروں کا نام ہے اور باقی کا پاکستان اس کے لیے علاقہ غیر ہے؟ لاہور کراچی کے ساتھ بھلے میڈیا کے کارپوریٹ مفادات جڑے ہوں گے اور بلوچستان میں ان کے امکانات نہیں ہوں گے لیکن وفاقی یونٹ پر اس بے رحمی سے اپنے کارپوریٹ مفادات کو ترجیح دینا اور پاکستان کے رقبے کے اعتبار سے سب سے بڑی اکائی کو اس بے رحمی سے نظر انداز کر دینا کیا ایک انتہا پسند رویہ نہیں؟ کیا لاہور، اسلام آباد اور کراچی ہی پاکستان ہیں؟

انتہا پسندی کیا ہے؟ معقولیت کو پامال کر دینا اور ہذیانی انداز میں چیخنا اور بلاوجہ کی شعلہ بیانی۔ تو کیا یہ کام ہمارا مین سٹریم الیکٹرانک میڈیا سارا دن نہیں کرتا؟ کیا ٹاک شوز کا اسلوب سماج میں اعتدال کو فروغ دے رہا ہے یا تلخی کو؟ کیا خبریں دھیمے اور شائستہ اندا زسے تحمل کے ساتھ نہیں پڑھی جا سکتیں؟ کیا چیخ چیخ کر بات کرنا ضروری ہوتا ہے؟ کیا ٹاک شوز کا مقصد مکالمہ ہے یا دنگل؟ مہمانوں کا انتخاب ان کی عقل و دانش کی بنیاد پر ہونا چاہیے یا زبان درازی اور شعلہ بیانی کی بنیاد پر؟ مقبول مہمان وہ ہونا چاہیے جسے موضوع پر گرفت ہو یا وہ ہونا چاہیے جو لوگوں کے گریبان گرمی گفتار سے جلا کر راکھ کرنے پر قدرت رکھتا ہو؟ جو مہمان ایک بار بد تمیزی کر لے اسے بار بار بلایا جاتا ہے۔ کوئی مہمان ریکارڈڈ پروگرام میں گالی دے دے تو یہ ریکارڈنگ رات کو پورے اہتمام سے نشر کی جاتی ہے۔ میڈیا کی افتاد طبع کے اس پہلو کو انتہا پسندی نہ کہا جائے تو پھر کیا نام دیا جائے؟

کھیل، سیاست، ثقافت، ادب، مذہب ہر شعبہ زندگی سے لوگ جڑے ہیں اور سبھی اپنے اپنے دائرہ کار میں قابل احترام ہیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ کسی بھی شعبہ زندگی سے کوئی جاں سے گزر جائے تو اہتمام سے اس کا ذکر ہوتا ہے لیکن اہل مذہب میں سے جید علمائے کرام رخصت ہو جائیں جن کا فرقہ واریت یا انتہا پسندی سے کوئی تعلق نہ ہو اور ان کی زندگی صرف علم و تحقیق میں گزری ہو تب بھی عملا ان کی خبر نشر کرنے سے گریزکیا جاتا ہے؟ اس رویے کو انتہا پسندی کے علاوہ کیا نام دیا جائے؟

پاکستان کا الیکٹرانک میڈیا جب لائسنس لیتا ہے تو اس لائسنس کی کچھ شرائط ہوتی ہیں جن میں مذہبی اقدار کی پاسداری بھی شامل ہے۔ یہ اصول بھی مسلمہ ہے کہ پیمرا اس ضمن میں آئین میں دی گئی حدود و قیود کے اندر رہ کر ہدایات جاری کر سکتا ہے۔ اب حقیقت یہ ہے کہ مختلف اوقات میں پیمرا لگ بھگ نصف درجن نوٹی فی کیشن جاری کر چکا ہے جن میں چینلز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پانچ وقت اذان نشر کیا کریں۔ کیا ہم آزاد صحافت سے پوچھ سکتے ہیں کہ اس نوٹی فی کیشن پر عمل نہ کرنے کی وجہ کیا ہے؟

وقت تو آپ کے پاس وافر ہے۔ اتنا وافر کہ ایک پروگرام تین تین بار دکھایا جاتا ہے۔ ایک ایک خبر کی دہی بنا دی جاتی ہے اور معمولی سی بات ہوتی ہے اور نیوز اینکر سارا دن اس میں مدھانی چلاتے رہتے ہیں۔ ہر چیز چلانے کے لیے آپ کے پاس وقت ہوتا ہے لیکن اذان چلانے کا وقت نہیں ہوتا۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ اذان کا حکم نامہ آئین کے آرٹیکل 31 کے عین مطابق ہے۔ یہ پیمرا کے قوانین کے دائرہ کار سے ماورا بھی نہیں۔ پھر اس حکم پر عمل نہ کرنے کی کیا دلیل ہے؟ سوائے اس کے کہ اس سے آپ کی مبینہ روشن خیالی متاثر ہوتی ہے۔ کیا یہ رویہ فکری انتہا پسندی نہیں ہے؟

رمضان المبارک میں ایک بالکل دوسرا رویہ ہمارے سامنے ہوتا ہے۔ جو چینلز پانچ وقت کی اذان نشر کرنے کے روادار نہیں ہوتے وہ اچانک مذہبی ہو جاتے اور رمضان ٹرانسمیشن شروع ہو جاتی ہیں۔ یہاں ماہ مقدس کو تہوار بنا دیا جاتا ہے اور اس ٹرانسمیشن کے نام پر وہ کچھ دکھایا جاتا ہے جو تفریح تو کہلا سکتا ہے لیکن اس کا تزکیے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اس مشق کا تعلق بھی دین سے نہیں، کاروبار سے ہے۔ ہر سال شور اٹھتا ہے اور معاملات عدالتوں تک جاتے ہیں کہ کیا رمضان ٹرانسمیشن ایسی ہونی چاہییں۔ سوال وہی ہے کیا رمضان جیسے ماہ مقدس میں ایسا رویہ کارپوریٹ انتہا پسندی نہیں کہلائے گا؟

تعلیمی ادارے حیا کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈریس کوڈ دے دیں تو طوفان کھڑا ہو جاتا ہے کہ یہ کون ہوتے ہیں لباس کا تعین کرنے والے۔ کیا خلق خدا بھی پوچھ سکتی ہے کہ میڈیا میں سر دوپٹے سے بے نیاز ہو جانا محض ایک اتفاق رائے ہے یا سکرین کی ضروریات کے پیش نظر یہاں بھی کچھ چیزیں بطور ڈریس کوڈ نافذ کی جا چکی ہیں؟ اگر نافذ کی جا چکی ہیں تو کیا بھی ایک طرح کی انتہا پسندی نہیں؟ بھلے آپ اسے روشن خیال انتہا پسندی کہہ لیجیے؟

یہ صرف نمونے کے چند سوالات ہیں۔ آپ اپنے مشاہدے کی بنیاد پر ان میں اضافہ کر سکتے ہیں۔