Friday, 03 July 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Saleem Zaman
  4. Sitaron Se Aage Jahan Aur Bhi Hain

Sitaron Se Aage Jahan Aur Bhi Hain

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

مجھے زمین بدر کر دیا گیا تھا اور میں ہجرت کرکے چاند پر چلا آیا۔ یہاں ویرانے میں، میں نے اپنا ایک چھوٹا سا گھر بسایا، زندگی آباد کی اور رفتہ رفتہ برسوں کا سفر کٹ گیا۔ ایک دن، میرے اندر کے مسلمان نے انگڑائی لی اور میرا دل تڑپ اٹھا کہ میں اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہو جاؤں۔ میں گھر سے باہر نکلا تو چاند کے سیاہ افق پر زمین کا ایک بہت بڑا، چمکتا ہوا نیلا گولا نظر آ رہا تھا۔ میرے ذہن میں فوراً تصور ابھرا کہ میرا کعبہ تو اسی نیلے گولے کے اندر موجود ہے، چنانچہ میں نے اسی نیلے سیارے کی طرف رخ کیا اور ہاتھ باندھ کر نماز شروع کر دی۔ برسوں میرا یہی معمول رہا۔ میں زمین نامی اس چمکتے ستارے کو دیکھتا اور سجدے میں گر جاتا۔ لیکن ایک دن، جب میں سلام پھیر کر اٹھا، تو میرے پوتے نے، جو اسی چاند کی مٹی پر پیدا ہوا تھا اور جس نے کبھی زمین کو نہیں دیکھا تھا، مجھے حیرت سے دیکھا اور کہنے لگا: "دادا ابا! تم تو ستارہ پرست ہو؟ تم تو خلا میں چمکنے والے اس نیلے ستارے کی پرستش کر رہے ہو!"

میرے پوتے کے اس معصومانہ مگر کاٹ دار جملے نے میرے پاؤں تلے سے زمین نکال دی۔ میں نے سوچا کہ تاریخ کا یہ کتنا بڑا تضاد ہے کہ میں تو اپنے رب کے کعبے کو سجدہ کر رہا ہوں، لیکن کائنات کے اس دوسرے رخ سے دیکھنے والی نئی نسل کے لیے میرا یہ عمل "ستارہ پرستی" (Star Worship) کی ہوبہو شکل اختیار کر چکا ہے۔

تھوڑی دیر کو یہاں پر رک کر آپ یہ تصور کریں کہ کہیں قدیم تاریخ اور علم الاساطیر میں بھی ستاروں کی پوجا کا آغاز ایسے تو نہیں ہوا؟ کیا پتا ماضیِ بعید میں متبادل زمینوں یا ستاروں سے ہجرت کرکے کچھ ایسی مخلوقات اس زمین پر آئی ہوں، جنہیں آج کی متبادل تاریخ میں "انونکّی"(Anunnaki) یا آسمان سے اترنے والے "فالن اینجلز" (Fallen Angels) کہا جاتا ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ جب وہ اپنے تباہ شدہ سیاروں کو چھوڑ کر یہاں زمین پر آباد ہوئے، تو ان کا دل اپنے آبائی ستاروں اور پرانے کائناتی قبلوں سے لگا رہا ہو اور وہ یادِ وطن میں انہی آسمانی افقوں کی طرف رخ کرکے مصلّے بچھاتے ہوں؟ وقت گزرنے کے ساتھ، ان کی آنے والی نسلوں نے اصل بندگی کو بھلا دیا اور مادی آنکھ سے دیکھتے ہوئے اپنے آباؤ اجداد کے ان قدیم قبلوں (ستاروں) ہی کو معبود سمجھ کر پوجنا شروع کر دیا۔

"بک آف اینوک" (Book of Enoch) میں جب رسولِ خدا حضرت ادریس علیہ الصلاۃ والسلام کے کائناتی سفر کا ذکر آتا ہے، تو وہ خلا کی بلندیوں میں ایک ایسے عظیم اور نورانی مکان کا مشاہدہ کرتے ہیں جس میں روحیں اور فرشتے مسلسل آ جا رہے ہوتے ہیں۔ یہ وہی "بیت المعمور" ہے جو کعبہ کے عین اوپر واقع ہے۔ چنانچہ، اگر انسان خلا کی لامتناہی وسعتوں میں بھی دوربین لے کر زمین نامی ستارے کو ڈھونڈتا رہا اور اسی کی طرف منہ کرنے پر اصرار کرتا رہا، تو وہ غیر شعوری طور پر اسی ستارہ پرستی کے تاریخی مغالطے کو جنم دے رہا ہوگا۔

جب تک ہم زمین کے اوپر ہیں، شریعت کا زمینی قانون ہم پر لاگو رہتا ہے۔ مثال کے طور پر زمین کے قطبین (North and South Poles) پر جہاں چھ ماہ کا دن اور چھ ماہ کی رات ہوتی ہے اور سورج کا نکلنا اور ڈھلنا عام دنیا سے بہت تبدیل ہے، وہاں فقہا نے حکم دیا کہ نمازوں کو مکہ مکرمہ یا قریبی متعدل علاقے کے اوقات کے مطابق پڑھ لیا جائے، کیونکہ ہم بہرحال اسی کرۂ زمین کا حصہ ہیں اور کعبہ کے جغرافیائی دائرے میں موجود ہیں۔ لیکن جب ہم اس پورے کرے (سیارے) کو ہی چھوڑ جائیں، تو پھر زمینی کعبہ کی مادی جہت کا تصور ہی مٹ جاتا ہے۔

فرض کریں کل انسان مریخ (Mars) پر بستی بساتا ہے۔ مریخ اور زمین دونوں سورج کے گرد الگ الگ رفتار سے اپنے مداروں (Orbits) میں گھوم رہے ہیں۔ مریخ سے زمین مستقل ایک جگہ نظر نہیں آئے گی، بلکہ وہ خلا میں اپنی پوزیشن مسلسل بدلتی رہے گی اور کبھی سورج کے پیچھے چھپ جائے گی۔ وہاں مکہ کا رخ تلاش کرنا سائنسی طور پر ناممکن ہے اور اگر ہم نظامِ شمسی سے باہر نکل جائیں، تو زمین اربوں تاروں میں ایک غیر مرئی ذرہ بن کر کھو جائے گی۔ وہاں قبلے کی کوئی مادی ضرورت باقی نہیں رہے گی، بلکہ وہاں قرآن کا وہ آفاقی قانون چلے گا جس کا اعلان اللہ رب العزت نے پہلے ہی فرما دیا تھا:

"وَلِلّٰہِ الُمَشُرِقُ وَالُمَغُرِبُ فَاَیُنَمَا تُوَلُّوُا فَثَمَّ وَجُہُ اللہِ"

(اور مشرق و مغرب سب اللہ ہی کا ہے، پس تم جس طرف بھی رخ کرو گے، اِسی طرف اللہ کی توجہ ہے۔)

خلا کی اس کائناتی وسعت میں انسان اپنے ماحول کے مطابق بندگی کرے گا۔ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (ISS) پر ہر 90 منٹ میں سورج طلوع اور غروب ہوتا ہے، جس کا مطلب ہے 24 گھنٹے میں 16 بار دن اور رات کا بدلنا۔ روایتی فقہ کا یہ اصرار کہ وہاں بھی گھڑی دیکھ کر زمین کی پانچ نمازیں پڑھو، نظامِ فطرت کے خلاف ہے، کیونکہ اس منطق سے تو خلائی مسافر کو 24 گھنٹے میں 80 نمازیں پڑھنی چاہئیں!

اللہ کا قانون یہ ہے کہ نماز اپنے مقررہ وقت پر فرض ہے۔ یہ اللہ نے کائنات کے ضابطے اور شریعت کے قانون میں مستقل طور پر ڈال دیا ہے کہ بندگی کا تعلق اس ماحول کے مادی اور متبادل وقت سے جڑا ہوا ہے۔ اللہ کا قانون انسان کو لکیر کا فقیر نہیں بناتا۔ اگر انسان کائنات کے کسی ایسے سیارے پر بستی بساتا ہے جہاں زمین ہی کی طرح مستقل دن اور رات کا قدرتی چکر موجود ہو، تو وہاں اسی سیارے کی کائناتی گھڑی کا اعتبار ہوگا۔ مثال کے طور پر اگر ہم پلوٹو (Pluto) پر ہوں، تو پلوٹو کا اپنا ایک پورا دن اور رات زمین کے تقریباً 153 گھنٹوں (قریب ساڑھے چھ زمینی دن) کے برابر ہوتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ پلوٹو پر تقریباً 76 گھنٹے کا دن ہوگا اور 76 گھنٹے ہی کی رات ہوگی۔ چونکہ وہاں دن اور رات کا یہ چکر مستقل اور مربوط طریقے سے آ رہا ہے، اس لیے پلوٹو کے اس پورے کائناتی دن اور رات کے ایک چکرکے اندر ہم پر پانچوں نمازیں ان کے اپنے مقررہ وقت کے حساب سے فرض ہوں گی۔

یہ تو بات تھی ان کرّوں اور سیاروں کی جہاں وقت کسی نہ کسی دائرے میں چل رہا ہے۔ لیکن اگر ہم کسی ایسے غیر معمولی خلائی زون میں ہوں جہاں ثقل (Gravity) کے شدید دباؤ کی وجہ سے وقت کی رفتار ہی بدل جائے، جیسا کہ کسی بلیک ہول (Black Hole) کے قریبی افق پر ہوتا ہے، تو وہاں کا منظرنامہ انسانی عقل کو دنگ کر دے گا۔ اگر ہم کسی ایسے بلیک ہول کے اثر پذیری والے علاقے میں مقیم ہوں جہاں زمان و مکان (Space-Time) کے مڑ جانے کی وجہ سے وہاں کا صرف ایک دن زمین کے 80 سال کے برابر ہو جائے اور فرض کریں کہ اس خلائی زون میں ہماری اوسط زندگی بھی اسی 80 سال کے برابر ہو، تو چونکہ شریعت کا اصول وقت کے فطری ظہور (طلوع و غروب اور زوال) سے بندھا ہے، اس لیے ہماری پوری زندگی کے اس ایک طویل کائناتی دن میں ہم پر کل ملا کر صرف پانچ نمازیں ہی فرض ہوں گی! کیونکہ وہاں کا ایک دن ہماری زمینی زندگی کی پوری بساط کو سمیٹے ہوئے ہوگا۔

اگر کائناتی مسافر خلا کے کسی ایسے زون یا علاقے میں مقیم ہے جہاں مستقل اور ابدی رات ہے، تو وہاں وہ چوبیس گھنٹے کی فرضی گنتی کے چکر میں پڑنے کے بجائے صرف عشاء کی نماز مکمل ادا کرے گا، کیونکہ اس کا پورا ماحول ہی رات کا ہے۔ اگر وہ کسی ایسے علاقے میں ہے جہاں مستقل فجر کا سماں ہے اور صبح ہو رہی ہے، تو وہ وہاں صرف فجر کی نماز پڑھے گا اور اگر وہ کسی ایسے خلائی زون میں ہے جہاں سورج مستقل نصف النہار (زوال کی شکل میں) اس کے سامنے کھڑا ہے اور ہمیشہ دن ہی رہتا ہے، تو وہاں وہ صرف دوپہر (ظہر) کی نماز کے دو فرض قصر کی نیت سے ادا کرے گا، کیونکہ وہ کائنات کا مسافر ہے۔

اسی کائناتی رحمت اور وسعت کا سب سے بڑا ثبوت ہمیں رسولِ کریمﷺ کی تعلیمات میں ملتا ہے۔ آپ چونکہ "رحمت للعالمین" ہیں، اسی لیے آپ کا دیا ہوا دین رہتی دنیا اور بدلتے کائناتی حالات کے لیے لچک دار ہے۔ آقا کریمﷺ نے زمین پر عام حالات (صبح، شام، دن، رات کی موجودگی) کے باوجود سفر، خوف، بارش یا ہنگامی حالات میں دو دو نمازوں کو ایک وقت میں جمع کرنے (جمع بین الصلاتین) کا جو فارمولا دیا، وہ دراصل مستقبل کے اسی خلائی سفر کا پیشگی حل تھا۔ آقا کریمﷺ نے ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو ایک ساتھ ملا کر پڑھنے کی جو عملی اجازت دی، اس کا مقصد ہی یہ تھا کہ کل کو انسان کائنات میں جہاں کہیں بھی ہو اور جس حالت میں بھی ہو، وہ حالات کے مطابق اپنی بندگی کو سمیٹ سکے۔ یہ نبوی فارمولا واضح کرتا ہے کہ دین مادی اوقات کی سختی کا نام نہیں، بلکہ انسانی حالات اور ماحول کے مطابق بندگی کا نام ہے۔

جب مادی اسباب اور زمین ہی پیچھے چھوٹ جائیں، تو بندگی اپنی اصل روح کے ساتھ مادی حدود اور گنتی کے ہندسوں سے آزاد ہو کر خالصتاً آفاقی بن جاتی ہے۔ اس آفاقی سفر کا نقشہ کھینچتے ہوئے مفسرین اور قدیم روایات (جیسے تفاسیرِ کلوانی اور تاریخِ انبیاء کے ابواب) میں بابِ مدینۃ العلم، مولا کائنات سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم سے مروی اس مفہوم کا سراغ ملتا ہے کہ "ہر آسمان کا اپنا ایک مستقل قبلہ ہے (جو بیت المعمور کی سیدھ میں فرشتوں کے لیے متبادل مرکز ہے)"۔ اس کائناتی اصول کی روشنی میں جب کائناتی مسافر اس زمینی آسمان کی حدود سے نکل کر دوسرے آسمان کی حدود میں داخل ہوگا، تو وہاں زمین کا کعبہ نہیں بلکہ اس مخصوص کائناتی دائرے کا اپنا مقررہ قبلہ اس کی بندگی کا مرکز بنے گا اور اگر انسان ترقی اور ارتقاء کے مراحل طے کرتا ہوا ان ساتوں آسمانوں کی حدود کو بھی پار کر جائے، تو پھر فرشتوں کے اصل مرکزِ طواف یعنی "بیت المعمور" کو قبلہ بنا کر بارگاہِ الٰہی میں سجدہ ریز ہونا پڑے گا۔ یہ اللہ کا نظام ہے، اسے انسانوں کے بنے بنائے محدود دائروں میں قید نہیں کیا جا سکتا۔

یہاں ایک اور اہم ترین باریک نکتہ سمجھنا ضروری ہے کہ کائنات کے ان بدلتے ہوئے حالات میں، جب آپ پر پلوٹو یا بلیک ہول کے اصول کے مطابق وقت آنے پر نماز فرض ہوگی تو آپ وہ نماز تو اپنے وقت پر لازمی پڑھیں گے، لیکن اس طویل کائناتی دن یا رات کے باقی تمام حصوں میں جب روایتی زمینی نماز کا کوئی وقت موجود نہیں ہوگا، تو آپ اپنے رب کے ساتھ کیسے جڑیں گے؟ وہاں ایک دوسرا قانون آفاقی طور پر آپ کی بندگی کو سنبھالے گا اور وہ ہے ربِ کائنات کا ابدی قانون:

"اِنَّ اللہَ وَ مَلٰٓئِکَتَہ، یُصَلُّوُنَ عَلَی النَّبِیِّ ؕ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیُنَ اٰمَنُوُا صَلُّوُا عَلَیُہِ وَ سَلِّمُوُا تَسُلِیُمًا"

(بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی کریمﷺ پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود بھیجو اور خوب سلام بھیجا کرو۔)

ہمیں اس لطیف حقیقت پر غور کرنا چاہیے کہ قرآنِ مجید میں نماز کے علاوہ باقی تمام تسبیحات اور عبادات کے لیے اللہ پاک نے "ذکر" کا لفظ استعمال فرمایا ہے اور "ذکر اللہ" یقیناً بہت بڑی چیز ہے۔ لیکن درودِ پاک کے لیے اللہ نے ذکر کا نہیں، بلکہ "صلاۃ" کا لفظ منتخب فرمایا ہے۔ صلاۃ کی اصل حقیقت ہی "حضوری، آمنے سامنے کا رابطہ اور زندہ حاضری" ہے۔ جس طرح نماز (صلاۃ) پڑھتے ہوئے بندہ خدا کے حضور کھڑا ہوتا ہے اور یہ شعور رکھتا ہے کہ اس کا رب اسے دیکھ رہا ہے، بالکل اسی طرح جب درودِ پاک کے لیے "صلاۃ" کا لفظ آتا ہے تو یہ کائنات کی وہ واحد کیفیت بن جاتی ہے جس میں زمان و مکان کے فاصلے مٹ جاتے ہیں اور پڑھنے والا غائبانہ ذکر نہیں کر رہا ہوتا، بلکہ وہ آقا کریمﷺ کے مادی و روحانی وجودِ مبارک کے سامنے حاضر ہوتا ہے، جہاں آقا کریمﷺ خود اس کا درود و سلام سماعت فرماتے اور اسے جواب عطا فرما رہے ہوتے ہیں۔ باقی تمام اذکار ذکر کی کیٹیگری میں ہیں، مگر درودِ پاک براہِ راست "بارگاہِ مصطفویﷺ" کی حاضری اور صلاۃ ہے۔

چونکہ رسولِ کریمﷺ رحمت للعالمین ہیں، اس لیے چاہے ہماری زمین کا عالم ہو، پلوٹو اور مریخ جیسے سیاروں کا مادی دائرہ ہو، ساتوں آسمانوں اور بیت المعمور کا نورانی جہان ہو یا اس سے بھی پرے حجاباتِ رفعت کے پوشیدہ عوالم ہوں، پوری کائنات میں سب سے اعلیٰ، ارفع اور مستقل چیز درودِ پاک ہے۔ یہ وہ واحد حقیقت ہے جو ہر زمان اور مکان کے اندر، ہر عرش اور فرش کے اندر اور ہر آسمانی و زمینی قبلے کے اندر ایک جیسی اور غیر بدلتے قانون کے طور پر قائم رہے گی۔

اس کائناتی سفر کے دوران، جب آپ مقررہ وقت پر فرض نماز ادا کرنے کے بعد، اپنے پورے طویل دن یا رات میں زبان پر "صلّو علیہِ وسلّمو تسلیما" جاری رکھیں گے، تو آپ زمین سے دور خلا کے سنسنان زون میں بھی تنہا نہیں ہوں گے، بلکہ آپ اسی الٰہی اور ملکوتی صلاۃ کے دائرے میں شامل رہیں گے جس میں پوری کائنات مصروفِ بندگی ہے۔ مادی جہتیں اور گھڑیاں بھلے خاموش ہو جائیں، لیکن آقا کریمﷺ کی بارگاہ میں پیش کیا جانے والا یہی درود و سلام آپ کی بندگی کو ہر پل زندہ رکھے گا اور بارگاہِ الٰہی میں آپ کی حاضری کو مستقل شرفِ قبولیت عطا کرتا رہے گا۔ کیونکہ کائنات مٹ سکتی ہے، وقت تھم سکتا ہے، مگر ذکرِ مصطفیٰﷺ کا یہ آفاقی قانون ازل سے ابد تک جاری و ساری ہے۔

اہم تنبیہی نوٹ: یہ تحریر خالصتاً ایک کائناتی فکشن (Cosmic / Sci-Fi Fiction) اور متبادل تاریخ پر مبنی ایک فکری و علمی مکالمہ ہے۔ اس تحریر کو صرف وہی لوگ صحیح تناظر میں سمجھ سکتے ہیں جو آج سے سو یا دو سو سال بعد کی انسانی پیش رفت اور سائنسی امکانات کا سوچ رہے ہوں، یا جنہیں علمِ فلکیات اور کاسمولوجی (Cosmology) سے گہری دلچسپی ہو۔ اس تحریر میں نہ تو مروجہ اسلامی فقہ سے کسی قسم کا کوئی اختلاف کیا گیا ہے اور نہ ہی فقہ کی موجودہ زمینی شکل کو چیلنج کرنے کی کوئی مہم جوئی کی گئی ہے۔ راقم الحروف کا علم اتنا وسیع نہیں ہے کہ وہ شریعت کے مسلمہ اور قائم شدہ زمینی ضابطوں پر بحث کر سکے، یہ محض ایک علمی و تخلیقی تخیل ہے جو یہ واضح کرتا ہے کہ دینِ اسلام کائناتی وسعتوں میں بھی انسان کے لیے کس قدر لچک، رہنمائی اور آفاقیت رکھتا ہے۔

Check Also

Governor Punjab Ke Naam Khula Khat

By Khalid Mahmood Faisal