Monday, 29 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Shahid Mehmood
  4. Sargodha Mein Zulm Hua

Sargodha Mein Zulm Hua

سرگودھا میں ظلم ہوا

آٹھ سال کی معصوم منتہا عمر کے اس حصہ میں تھی جب بچیاں تتلیوں کی طرح اڑتی پھرتی ہیں اور گھر سمیت اہل محلہ بھی ایسی بچیوں کو شفقت سے سر پر ہاتھ رکھتے ہیں۔ وہ بچیاں جو کبھی سب کی سانجھی ہوا کرتی تھیں لیکن آج معصوم اور خوبصورت پھولوں کو مسلنے کا جانے کہاں سے منحوس دور آگیا ہے۔ پچھلے کچھ عرصہ میں کتنی ہی بچیاں ظالموں کی ہوس کا نشانہ بنی ہیں۔ سرگودھا جیسے پرامن اور پرسکون شہر میں دن دیہاڑے منتہا چیز لینے دکان پر جاتی ہے تو واپس نہیں لوٹتی ہے۔ جب کسی کی بیٹی چند لمحے بھی نظروں سے اوجھل ہوتی ہے اور ڈھونڈنے سے نہیں ملتی ہے تو جانے والدين کے دل میں کیا کیا وسوسے پیدا ہونے لگتے ہیں۔

منتہا بھی جب گھر نہیں لوٹی تو پریشانی پیدا ہونے لگی اور گھر والوں نے ارد گرد ہر طرف اسے ڈھونڈا۔ جب کہیں نہیں ملی تو پولیس کو رپورٹ کی اور محلے میں موجود سی سی ٹی وی کیمرہ میں دیکھا تو وہ بچی ایک دکان کے اندر داخل ہوئی تھی اور پھر کبھی واپس نہیں آئی۔ کیسے گھٹیا اور بیمار ذہنیت کے لوگ تھے کہ ایک معصوم بچی کو بھی نہیں بخشا اور وہ معصوم بچی جو روزانہ اس دکان پر جایا کرتی تھی اور اپنی معصوم اور شوخ باتوں سے اس دکان دار کو انکل یا بھائی کہتی ہوگی لیکن اسے کیا معلوم تھا کہ ان انسانوں کے اندر شفقت کے رشتے نہیں بلکہ ہوس کے درندے بستے ہیں۔ ان درندوں کو یہ بھی خیال نہیں آیا کہ یہ معصوم ان کے اپنے ہی محلے کی بچی ہے اور ہو سکتا ہے کہ انھیں کی بیٹیوں یا بہنوں کی دوست بھی ہو اور ان کے ساتھ کھیلتی کودتی بھی ہو۔ ان بد بخت انسانوں نے اپنی بیٹیوں جیسی معصوم بچی کی بے حرمتی کی اور اس بے دردی سے قتل کیا جیسے کسی جنگل کے بھیڑیے نے چیر پھاڑ کیا ہو۔

ایسے ہی چند درندہ صفت لوگوں کی وجہ سے اب یہ بچیاں محفوظ نہیں رہی ہیں اور یہاں تک کہ اب عام شریف شخص ڈرنے لگا ہے اور کسی بچی کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بھی سوچتا ہےکہ اب کسی بیٹی کے والدین کو معاشرے پر اعتماد نہیں رہا ہے۔ ذرا سوچیں ایسے معاشرے کی حالت کیا ہوگی جہاں ہر بیٹی کا باپ دوسروں کو چور اور قاتل سمجھنے لگے۔ ابتدائی میڈیکل رپورٹ کے مطابق بچی کے ساتھ ریپ ہوا تھا اور پھر بے دردی کے ساتھ اس کے گلے کو کاٹا گیا اور اس کے سر کو کچلا گیا اور پھر چھت پر کوڑے میں پھینک دیا گیا تھا۔

معصوم بچی کے والدین کا کہنا ہے کہ دکان کے مالک کے ساتھ ان کا جھگڑا ہوا تھا جس پر انھیں دکان کے مالک نے نتائج بھگتنے کی دھمکی بھی دی تھی جس کے بعد یہ اندوهناک واقعہ پیش آیا تھا۔ اس واقعہ کی ایف آئی آر پانچ ملزمان کے خلاف درج ہوئی جو گرفتار ہو چکے ہیں جبکہ ان میں سے ایک ملزم ارسلان سی سی ڈی سے مبینہ مقابلہ میں مارا گیا۔ ارسلان مذکورہ دکان پر کام کرتا تھا اور عدالتی حکم کے مطابق پولیس ریمانڈ پر تھا اور وہی روایتی طریقہ سے پولیس مقابلہ ہوا اور ملزم مارا گیا جس کو پولیس کی نگرانی میں دفنا دیا گیا۔

میں سمجھتا ہوں کہ اس طرح کا جرم کرنے والوں کو مکمل تحقیقات کے بعد سرعام پھانسی ملنی چاہئے۔ کیونکہ جب نامکمل تفتیش پر کسی ملزم کی جان جاتی ہے تو معاشرے میں اس کے لئے ایک بڑی تعداد میں لوگوں کے دلوں میں ہمدردی کے جذبات جنم لینے لگتے ہیں اور ہم جیسے لوگ بھی پریشان ہوتے ہیں کہ مارا جانے والا واقعی مجرم تھا بھی کہ نہیں۔ کیونکہ پولیس ڈیپارٹمنٹ کی جو تصویر عام آدمی کے ذہن میں بنی ہوئی ہے وہ بڑی خوفناک ہے۔ میرا خیال ہے کہ سرپرائز موت دینے کی بجائے مکمل جرم کی چھان بین ہونی چاہئے تاکہ مجرموں کو سبق آمیز سزا مل سکے۔

اس وقت سوشل میڈیا پر ارسلان کے حق میں کمپين چل رہی ہے اور اس کی والدہ اور اہل خانہ کا دعوٰی ہے کہ ان کا بیٹا اس جرم میں ملوث نہیں تھا۔ ان حالات میں اور بھی ضروری ہوگیا ہے کہ اس سارے معاملہ کی چھان پھٹک کی جائے۔ اگر ارسلان نے کوئی جرم کیا بھی ہے تو اسے سزا مل چکی ہے لیکن ارسلان کے والدین کا بطور پاکستانی حق ہے کہ انھیں تمام شواہد فراہم کئے جائیں ورنہ اس قدر گھمبیر الزام کے ساتھ اگر کسی کا بچہ موت کے منہ میں چلا جائے تو اس کے والدین اور اہل خانہ کے دل میں ساری زندگی خلش موجود رہتی ہے اور یہی وہ احساس ہوتا ہے جو مزید جرائم کو جنم دیتا ہے۔ سرگودھا واقعہ ہمارے معاشرے پر ایک بد نما دھبہ ہے۔

ایسے واقعات مہذب دنیا میں بھی ہوتے ہیں لیکن ان کا سسٹم ایسے معاملات کی جان دار تحقیق کرکے مجرم کو بچنے نہیں دیتا ہے اور باقی لوگوں کے لئے ایک عبرت ناک مثال بن جاتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس طرح کے واقعات ٹیسٹ کیس ہوا کرتے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سسٹم کس قدر میچور اور پختہ ہے۔ جلد اور جامع تحقیقات ہی کسی نظام کی کریڈیبلٹی بناتی ہیں۔ اگر سسٹم بھی عام آدمی کی طرح سوچنے لگے اور فوری انصاف کے نام پر ادھورا نصاف دینے لگے تو پھر معاملات شدت پسندی کی طرف چلے جاتے ہیں اور کسی بھی معاشرے میں یہ بیماری کسی نامور اور کینسر سے کم نہیں ہوتی ہے۔

اب اگر میڈیکل رپورٹس اور شواہد کے مطابق ارسلان مجرم ثابت نہ ہوا تو پھر پولیس کو اس معاملہ سے نکلنے کے لئے جانے کتنے ہی مزید جھوٹ بولنے پڑیں گے اور جانے کتنے لوگوں کو مجرم بنانے کی جدوجہد کرنا پڑے گی اور ایسے نامکمل انصاف میں ہی ہمیشہ مجرم بچ نکلتا ہے۔ ہم روزانہ دیکھتے ہیں کہ چھوٹے چھوٹے مجرم سرعام جرم کرتے ہیں اور اسی نظام کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھا کر بچ نکلتے ہیں اور پھر ڈان بن جاتے ہیں جن کے ڈیروں پر پولیس اہلکار حاضری لگاتے ہیں۔

ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم فیصلے سسٹم کو مضبوط کرنے کے لئے نہیں کرتے ہیں بلکہ چند شخصیات کی پسند ناپسند پر پر انسانوں کی زندگیاں بھی لے لیتے ہیں اور نظام کی جان بھی نکال دیتے ہیں۔ ابھی کل کی بات ہے کہ چکوال میں آسٹریلیا سے آیا ہوا خاندان فوری انصاف کی بھینٹ چڑھا تھا اور چند سال پہلے ساہیوال میں بھی اسی طرح کے انصاف نے پورا خاندان چھلنی کردیا تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ قومیں فوری انصاف سے نہیں بنتی ہیں بلکہ مربوط نظام انصاف سے پروان چڑھتی ہیں۔ حکومت کو چاہیئے کہ فضول قسم کے قوانین بنانے کی بجائے نظام انصاف کو مضبوط کرنے کے لئے قانون سازی کرے اور سی سی ڈی کو شہریوں کو مارنے کا لائسنس دینے کی بجائے تحقیقاتی نظام کو مضبوط کرے اور عدالتی نظام کو مستعد بنائے۔ اکثر کریمینل عدالتوں کے جج کہتے ہیں کہ کیسز کا فیصلہ پولیس کے کمزور تفتیشی نظام کی وجہ سے لٹکتا ہے۔

اب آپ خود سمجھ سکتے ہیں کہ جس پولیس کا تفتیشی نظام ہی کمزور ہے اس کے ہاتھ میں فوری انصاف کا چابک پکڑا دینے سے نظام مزید کمزور اور متنازعہ ہی ہوگا۔ فوری انصاف کی جو روش چل نکلی ہے اس کے نتائج کوئی امید افزا نہیں ہوں گے بلکہ شدت پسندانہ ہوں گے کیونکہ یہی روش جب لوگوں نے اختیار کی تو پھر انارکی پیدا ہوگی اور ہر کوئی انصاف کا بیڑا خود اٹھالے گا۔ چکوال میں ماری جانے والی بچی کے دادا کی گفتگو سن لیں تو روح کانپ جاتی ہے کہ وہ پولیس اہلکار کی ویسے ہی فوری موت چاہتا ہے اور ارسلان کی ماں اور بہن بھی انصاف چاہتے ہیں اور وہ دونوں سمجھتے ہیں کہ ان کے پیاروں کا خون پولیس کے ہاتھوں پر ہے اور اس سوچ کے پیچھے کمزور تحقیقاتی عمل ہے۔

Check Also

Jangen Hoti Rahen Gi

By Rashid Ahraz