Saturday, 18 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Syed Mehdi Bukhari
  4. Sanday Ka Tail

Sanday Ka Tail

سانڈے کا تیل

گئے زمانوں کی بات ہے۔ شاید آج بھی کسی چھوٹے شہر، قصبے یا پرانے بازار میں سانڈے کا تیل بیچنے والا کہیں نہ کہیں اپنی سائیکل کھڑی کرتا ہو۔ مجھے تو مدت ہوئی ایسا تماشا دیکھے ہوئے۔ وہ آتا، سائیکل اسٹینڈ پر لگاتا، زمین پر ایک چادر بچھاتا اور اس پر چند ٹوکریاں سجا دیتا۔ پھر ان ٹوکریوں سے زندہ سانڈے نکال کر قطار سے بٹھا دیتا۔ ساتھ ہی تیل کی شیشیاں سج جاتیں۔ چار دیواری کے بغیر ایک مکمل دکان آباد ہو جاتی لیکن اس کی اصل دکان تو لوگوں کے ذہنوں میں کھلتی تھی۔ جونہی چند لوگ اسے دیکھ کر رکتے، وہ فوراً مجمع بنانے کا فن شروع کر دیتا۔ زمین پر فحش رسالوں کے چند اوراق بھی پھیلا دیتا۔ وہی اوراق جنہیں دیکھنے کی اخلاقی اجازت کسی کے پاس نہیں ہوتی تھی مگر نظریں سب کی وہیں جمی ہوتی تھیں۔ چند لمحوں میں دائرہ بن جاتا، سانڈے بے حرکت پڑے رہتے اور تماشائیوں کی دھڑکنیں حرکت میں آ جاتیں۔

پھر وہ اعلان کرتا کہ آج سب سے آخر میں دنیا کا سب سے خطرناک سانپ دکھایا جائے گا۔ صرف سانپ ہی نہیں، اس کا منکا بھی۔ ایسا منکا جسے دودھ میں بھگو کر پی لیا جائے تو مرد ستر حوروں کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو جائے۔ یہ جملہ سنتے ہی ہجوم کا منہ مزید کھُل جاتا۔ اب وہ اپنے اصل مقصد کی طرف آتا۔ سانڈے کا تیل۔ اس کی ایسی ایسی خصوصیات بیان کرتا کہ سننے والے اپنی ساری کمزوریاں ایک شیشی میں بند ہوتی محسوس کرنے لگتے۔ تقریر ختم ہونے سے پہلے ہی کئی لوگ تیل خرید چکے ہوتے۔ جو خرید نہ سکتے وہ کم از کم اپنے تخیل میں ضرور خرید لیتے اور پھر جب ہر شخص بے صبری سے خطرناک سانپ کا منتظر ہوتا وہ اچانک سامان سمیٹنا شروع کر دیتا اور ساتھ اعلان کرتا "بھائیو! وقت ختم ہوگیا۔ اگلے جمعہ، اسی جگہ، دنیا کا خطرناک ترین سانپ اور اس کا منکا ضرور دکھاؤں گا"۔ وہ اپنی سائیکل پر سامان لادتا اور اگلے چوک کی طرف روانہ ہو جاتا، جہاں پھر وہی مجمع، وہی تقریر، وہی وعدہ اور وہی اگلا جمعہ اس کا منتظر ہوتا۔

وقت بدلا، سائیکلیں گاڑیوں میں بدل گئیں، چوک ٹی وی اسکرینوں میں تبدیل ہو گئے، پھر موبائل فونوں اور سوشل میڈیا کی دیواروں پر آ بسے۔ مگر سانڈے کا تیل بیچنے کا فن زندہ رہا۔ آج بھی بازار وہی ہے، مجمع بھی وہی، گاہک بھی وہی، صرف انداز بدل گئے ہیں۔

فرق صرف یہ آیا ہے کہ پہلے سانڈے کا تیل جسمانی کمزوری کا علاج تھا، اب سیاسی، معاشی اور قومی کمزوریوں کا نسخہ بن گیا ہے۔ پہلے شیشی خریدی جاتی تھی، اب نعرہ خریدا جاتا ہے۔ پہلے منکا اگلے جمعے دکھانے کا وعدہ ہوتا تھا اب سنہری مستقبل اگلے الیکشن، اگلے بجٹ یا اگلے منصوبے یا انقلاب آنے کے بعد والا ہوتا ہے۔ ہم شاید دنیا کی ان قوموں میں سے ہیں جنہیں حقیقت سے زیادہ اس کی دلکش تشہیر پسند ہے۔ ہمیں وہ شخص کم متاثر کرتا ہے جو کہے کہ راستہ لمبا ہے، محنت کرنی پڑے گی، قربانیاں دینا ہوں گی۔ ہمیں وہ زیادہ بھاتا ہے جو کہے کہ بس ایک دھکا اور سب کچھ بدل جائے گا۔ اسی لیے ہمارے ہاں سیاست دان سے زیادہ مقرر مقبول ہوتا ہے۔ لیڈر سے زیادہ شعبدہ باز۔ حقیقت پسند سے زیادہ خواب فروش۔ ہمیں تقریریں چاہئیں، معجزے چاہئیں، نیا نغمہ، نیا سین، نئی امید، نیا خواب۔ ہمیں وہ شخص پسند آتا ہے جو ہماری تلخ حقیقت پر رنگین پردہ ڈال دے۔ جو شکر نہ دے سکے کم از کم شکر جیسی بات تو کرتا رہے۔

جو افراد سانڈے کا تیل خرید سکتے ہیں وہ کوئی بھی منجن، پھکی، چورن یا مرہم خرید سکتے ہیں۔ بس یہ ہے کہ بیچنے والا گاہکوں کی نفسیات و خواہشات کی نبض پر زبردست انگلی رکھتا ہو۔ مجمع کی نفسیات کو شاندار گرماگرم تقریر کے دھاگے میں پرونے کا کمال رکھتا ہو۔ ہمارے مقبول نغمے ہی دیکھ لیں "پل بھر کے لیے کوئی ہمیں پیار کر لے جھوٹا ہی سہی، رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ، جنا تیری مرضی نچاں میں بیلیا، چین اک پل نہیں اور کوئی حل نہیں، ایک دنیا نئی دکھا دی ہے تو نے کیا شے مجھے پلا دی ہے، جو بچا تھا وہ لٹانے کے لیے آئے ہیں، میں دنیا بھلا دوں گا تیری چاہت میں، وے سب تو سوہنیا ہائے وے من موہنیا۔۔ "

روٹی تو ہم سب کما ہی رہے تھے آئندہ بھی کما لیں گے۔ زندگی پہلے بھی ہمیں گزار رہی تھی آئندہ بھی گزار لے گی۔ بس کوئی ہمیں انٹرٹین کرتا رہے۔ نت نئے جادو سے حیران کرتا رہے۔ شکر دو نہ دو شکر جیسی بات کرتے رہو۔ قسم سے ہم تمہارے ساتھ ہیں جب تک مارکیٹ میں کوئی نیا جادوگر یا شعبدے باز نمودار نہیں ہو جاتا۔ وہ میرؔ کا شعر ہے ناں

یہ توہم کا کارخانہ ہے
یاں وہی ہے جو اعتبار کیا

Check Also

Androoni Khalfishar Ko Kam Kijiye

By Rao Manzar Hayat