Tuesday, 14 July 2026
  1.  Home
  2. Rauf Klasra
  3. Neela, Surkh Ya Sabz?

Neela, Surkh Ya Sabz?

نیلا، سرخ یا سبز؟

ٹی وی پروگرام میں بات ہو رہی تھی کہ اس وقت پورے ملک میں پارلیمنٹ سے صوبائی اسمبلیوں تک، ارکان کی کل تعداد گیارہ سو کے قریب ہے۔ وہ ملک کے اُن گیارہ، بارہ کروڑ لوگوں سے ووٹ لے کر یہاں پہنچتے ہیں جن کے پاس سبز پاسپورٹ ہیں۔ لیکن پارلیمنٹ پہنچ کر انہیں سبز پاسپورٹ بُرا لگنا شروع ہو جاتا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے پاسپورٹ کا رنگ تبدیل کیا جائے کیونکہ اکثر انہیں اور ان کے بچوں کو دنیا بھر کے ایئر پورٹس پر سبز پاسپورٹ کی وجہ سے روک لیا جاتا ہے یا پوچھ گچھ ہوتی ہے۔ اس پوچھ گچھ سے بچنے کا ایک ہی حل انہیں سمجھ میں آیا کہ پاسپورٹ کا رنگ ہی بدل ڈالو۔

اب ان کے پاسپورٹس دو طرح کے ہیں۔ ایک ڈپلومیٹک اور دوسرا سرکاری پاسپورٹ۔ یوں سبز، سرخ اور نیلے رنگ کے پاسپورٹس میں سے وہ جلد از جلد سبز رنگ سے جان چھڑانا چاہتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ اپنے بیوی بچوں کی بھی، تاکہ انہیں دنیا بھر کے کسی ایئرپورٹ پر سبز پاسپورٹ کی وجہ سے کوئی مسئلہ نہ ہو، جو عام پاکستانیوں کے ساتھ ہوتا رہتا ہے۔

ان ڈپلومیٹک پاسپورٹس کے اور بھی بہت سے فوائد ہیں جو سبز پاسپورٹ والے سوچ بھی نہیں سکتے۔ اکثر آپ نے یہ خبر پڑھی ہوگی کہ فلاں ملک نے پاکستانیوں کو بغیر ویزے آنے کی اجازت دے دی، یا ایئرپورٹ پر ہی آن آرائیول ویزا مل جائے گا۔ پورا ملک یہ سوچ کر جھوم اٹھتا ہے کہ شاید پچیس کروڑ پاکستانیوں کو یہ سہولت مل گئی۔ ایسی خبروں کے بعد مجھے اکثر دوستوں کے پیغامات ملتے ہیں کہ کہاں کہاں وہ بغیر ویزے کے جا سکتے ہیں۔

دراصل یہ سہولت صرف اُن پاکستانیوں کو حاصل ہوتی ہے جن کے پاس سرکاری یا سفارتی پاسپورٹس ہوتے ہیں۔ اس وقت دنیا کے تقریباً چالیس سے پچاس ملکوں کے ساتھ پاکستان کے ویزا فری انٹری کے معاہدے ہیں، جن کی نوعیت مختلف ہے لیکن یہ طے ہے کہ یہ سہولت صرف سرکاری اور سفارتی پاسپورٹ پر ہے۔ اندازہ کریں کہ جن پچاس ملکوں میں جانے کے لیے آپ کو بے شمار شرائط پوری کرنا پڑتی ہیں اور اکثر ویزا کے بجائے انکار ملتا ہے، وہاں ان اراکین اور ان کے خاندان کے افراد کو ایئرپورٹ پر اترتے ہی ویزا مل جائے گا۔

اس سے بڑھ کر، جب آپ سبز رنگ کے بجائے سرخ یا بلیو پاسپورٹ پکڑے جہاز پر سوار ہوتے یا کسی ملکی یا غیر ملکی ایئرپورٹ پر اترتے ہیں تو آپ کی ٹور ہی کچھ اور ہوتی ہے۔ پھر کوئی آپ کو مشکوک نظروں سے نہیں دیکھتا کہ اس کے ہاتھ میں عام پاسپورٹ ہے، اسے چیک تو کریں کہیں کوئی گڑبڑ تو نہیں۔ ایئرپورٹس پر قانون نافذ کرنے والے اداروں یا نگرانی کرنے والوں کی پاکستان کے سبز پاسپورٹ سے اچھی شناسائی ہے۔ ہمارے سرخ اور بلیو پاسپورٹ کا علم نہ ہونے کے برابر ہے۔

یہی وہ محرک ہے جس کی وجہ سے ارکانِ اسمبلی اب تاحیات سفارتی پاسپورٹ چاہتے ہیں اور صرف اپنے لیے نہیں بلکہ اگر ایک ایم این اے یا ایم پی اے کے دس پندرہ بچے ہیں (کچھ کے ہیں بھی)، تو ان سب کو بھی سفارتی پاسپورٹ ملے گا۔

اندازہ کریں کہ جن پچیس کروڑ سبز پاسپورٹ والوں سے ووٹ لے کر یہ گیارہ سو ارکان پارلیمنٹ میں پہنچتے ہیں، ایوان میں پہنچتے ہی وہ پہلا کام یہ کرتے ہیں کہ اپنے پاسپورٹ کا رنگ باقیوں سے علیحدہ کرا لیں، کہیں سے نہ لگے کہ ہم ان جیسے پاکستانی ہیں۔ یعنی دوسرے الفاظ میں وہ عام لوگوں سے کہنا چاہتے ہیں: ساڈے نیڑے نہ لگنا۔ ہم آپ سے مختلف خلائی مخلوق ہے جن کا آپ جیسی زمینی مخلوق کا کچھ لینا دینا نہیں ہے۔

About Rauf Klasra

Rauf Klasra is a Pakistani journalist and Urdu language columnist. He files stories for both the paper and television whereas his column appears in Urdu weekly Akhbr-e-Jahaan and Dunya newspaper. Rauf was earlier working with The News, International where he filed many investigative stories which made headlines.

Check Also

Dunya Ki Tareekh Ki Sab Se Faisla Kun Jang?

By Zafar Syed