Rehan Tariq Case: Ghair Mohtat Guftgu Na Karen
ریحان طارق کیس: غیر محتاط گفتگو نہ کریں

معروف پوڈ کاسٹر اور اینکر ریحان طارق کی عدالت پیشی کے وقت "پاکستان زندہ باد" کے نعرے لگانے کی ویڈیو دیکھی، ایسا لگا جیسے وہ کوئی بہت بڑا کارنامہ سر انجام دے کر آ رہے ہوں۔ آج کل یہ رجحان بن چکا ہے کہ گرفتاری کے وقت کیمرے کے سامنے "پاکستان زندہ باد" کے نعرے لگائے جاتے ہیں، گویا انہیں ملک دشمنی کے جرم میں گرفتار کیا گیا ہو۔ لوگ اپنی حرکتیں نہیں سدھارتے، غلطیوں اور رویوں کا جائزہ لینے کے بجائے یہ سمجھتے ہیں کہ نعرے لگا کر ہر قسم کی ذمہ داری سے بچا جا سکتا ہے۔
بتایا جارہا ہے کہ ریحان طارق کو ایف آئی اے کے این سی سی آئی اے (NCCIA) ونگ نے علامہ جواد نقوی کے ساتھ ہونے والی ایک حالیہ پوڈ کاسٹ کے تناظر میں گرفتار کیا، جس میں سیدنا معاویہؓ کے بارے میں متنازع گفتگو کی گئی تھی۔ اس گفتگو نے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو شدید مجروح کیا اور سوشل میڈیا پر سخت عوامی ردِعمل سامنے آیا۔ ریحان طارق ہوں یا کوئی اور، سب کو اپنی زبان پر قابو رکھنا چاہیے۔ انبیاء کرام، صحابۂ کرام اور دیگر مقدس مذہبی شخصیات سے متعلق کوئی بھی بات کہنے سے پہلے سو بار سوچنا چاہیے کہ کہیں اس سے توہین یا ان ہستیوں کے مقام و مرتبے میں کمی کا کوئی پہلو تو نہیں نکلتا۔ آپ کی نیت کچھ بھی ہو، لیکن جب بات زبان سے نکل جائے تو پھر دی جانے والی صفائیاں عوام قبول نہیں کرتے۔
حقیقت یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر "ویوز" کی ہوس نے بہت سے لوگوں کو اندھا کر دیا ہے۔ لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ کیا کہنا چاہیے اور کیا نہیں۔ مذہبی معاملات میں غیر معمولی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر کسی کے مذہبی جذبات مجروح ہوں تو ردِعمل آنا ایک فطری بات ہے، جس کی ذمہ داری اسی شخص پر عائد ہوتی ہے جو اشتعال انگیز یا توہین آمیز گفتگو کا مرتکب ہو۔ قانون کو اس کے خلاف ایکشن لینا چاہیے۔ یہ چاہے سوال کرنے والا صحافی کو یا جواب دینے والا علامہ ہو۔ قانون سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے اور سب کی یکساں گرفت ہونی چاہیے۔
روزنامہ دنیا میں کام کے دوران، ادارتی صفحے کے انچارج اور سینئر صحافی سجاد کریم انجم صاحب نے مجھے ایک بہت اہم نصیحت کی تھی کہ: "میڈیا پر کبھی ایسا لفظ لکھو، نہ بولو جس سے مذہب یا قومی سلامتی کے "اداروں" کی توہین کا کوئی پہلو نکلتا ہو۔ ایسا کرکے تم خود ہی مشکل میں پھنس جاؤ گے۔ خاص طور پر مذہبی معاملات میں خاموشی اختیار کرنا ہی عافیت ہے، ورنہ جان اور ایمان دونوں خطرے میں پڑ سکتے ہیں"۔
میرا خیال ہے سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کو خاص طور پر محتاط رہنا چاہیے کہ ان کے کسی لفظ سے کسی مقدس شخصیت کی توہین کا پہلو نہ نکلتا ہو۔ سوشل میڈیا پر بات بہت جلد اور بہت دور تک جاتی ہے۔ بصورتِ دیگر نقصان آپ کا اپنا ہی ہوگا۔ اگر آپ کو اس معاشرے میں باعزت طریقے سے رہنا ہے تو اپنے لہجے اور گفتگو میں توازن لانا ہی پڑے گا۔

