Thursday, 09 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Idrees Abbasi
  4. Murree Ke Junglaat Pe Aik Khamosh Wardat

Murree Ke Junglaat Pe Aik Khamosh Wardat

مری کے جنگلات پہ ایک خاموش واردات

پنجاب اسمبلی سے منظور ہونے والا فارسٹ (ترمیمی) ایکٹ 2026 محض چند قانونی الفاظ کا اضافہ نہیں بلکہ ایک ایسی ترمیم ہے جس کے دور رس اثرات پورے پوٹھوہار پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس ترمیم کے ذریعے حکومت کو یہ اختیار مل گیا ہے کہ "قومی اہمیت کے منصوبے" کے نام پر محفوظ (Reserved Forest) اور نیم محفوظ (Protected Forest) جنگلات کی قانونی حیثیت تبدیل کی جا سکے۔ سوال یہ نہیں کہ آج اس اختیار کو کس نیت سے استعمال کیا جائے گا، بلکہ یہ ہے کہ بیوروکریسی کو کل اس اختیار کو غلط استعمال کرنے سے کون روکے گا؟

مری صرف ایک خوبصورت سیاحتی مقام نہیں بلکہ راولپنڈی اور اسلام آباد کا سب سے اہم واٹر شیڈ ہے۔ انہی جنگلات کی بدولت بارش کا پانی محفوظ ہوتا، زیرِ زمین آبی ذخائر ری چارج ہوتے اور کروڑوں لوگوں کو پانی میسر آتا ہے۔ اگر انہی جنگلات میں قومی منصوبوں، ریسٹ ہاؤسز یا دیگر تعمیرات کے لیے قانونی راستہ کھول دیا گیا تو اس کا نقصان صرف مری نہیں بلکہ پورے خطے کو بھگتنا پڑے گا۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ایک طرف حکومت مری کی ری ماڈلنگ، تجاوزات کے خاتمے اور جنگلات کی بحالی کے بلند بانگ دعوے کر رہی ہے، جبکہ دوسری طرف اسی حکومت نے خاموشی سے ایک ایسی قانونی ترمیم بھی کر دی ہے جو مستقبل میں انہی جنگلات میں نئی تعمیرات اور مختلف منصوبوں کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔ اگر مقصد واقعی جنگلات کا تحفظ ہے تو پھر یہ واضح تضاد کس منطق پر مبنی ہے؟

اس سے بھی زیادہ افسوسناک پہلو پنجاب اسمبلی کا کردار ہے۔ کیا ایوان میں کسی رکن نے یہ سوال نہیں اٹھایا کہ جنگلات صرف درختوں کا مجموعہ نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کی زندگی، پانی اور ماحول کی ضمانت ہیں؟ کیا حکومتی اور اپوزیشن ارکان سب اس ترمیم کے ممکنہ نتائج سے بے خبر تھے یا خاموشی ہی کو سیاست سمجھ لیا گیا؟

مزید حیرت اس بات پر ہے کہ وزیرِ جنگلات و ماحولیات مریم اورنگزیب عالمی فورمز پر موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف پیش کرتی رہی ہیں۔ ان سے بجا طور پر توقع تھی کہ وہ ایسی ترمیم میں کم از کم اتنے مضبوط حفاظتی تقاضے ضرور شامل کراتیں کہ کسی بھی حکومت یا ادارے کو جنگلات کے بے دریغ استعمال کا راستہ نہ ملتا۔ اگر ماحولیات واقعی حکومتی ترجیح ہے تو پھر اس ترمیم کی موجودہ شکل کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔

بادی النظر میں یہ ترمیم آئین کے آرٹیکل 9 (حقِ زندگی) اور آرٹیکل 14 (انسانی وقار) کی عدالتی تشریحات سے مطابقت نہیں رکھتی، کیونکہ پاکستان کی اعلیٰ عدالتیں متعدد فیصلوں میں قرار دے چکی ہیں کہ صاف، محفوظ اور صحت مند ماحول کا حق، حقِ زندگی کا لازمی جزو ہے۔ اس لیے اس ترمیم کی آئینی حیثیت اور ماحولیاتی اثرات کا عدالتی جائزہ ناگزیر دکھائی دیتا ہے۔

مری کے نمائندے تو اس ترمیم پہ خاموش رہے۔ اب اس معاملے کا اگلا فورم عدالت ہے۔ مری کی وکلا برادری، ماہرینِ ماحولیات اور سول سوسائٹی کو چاہیے کہ وہ لاہور ہائی کورٹ (پنڈی بینچ) میں آئینی درخواست دائر کریں تاکہ اس قانون کی آئینی اور ماحولیاتی حیثیت کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جا سکے۔ جب منتخب نمائندے عوام کے قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے مؤثر آواز بلند نہ کر سکیں تو یہ ذمہ داری باشعور شہریوں اور وکلا پر عائد ہو جاتی ہے۔

مری کے جنگلات کسی حکومت، اشرافیہ یا وقتی منصوبے کی ملکیت نہیں، بلکہ آنے والی نسلوں کی امانت ہیں۔ اگر آج ان کی قانونی حفاظت کمزور کر دی گئی تو کل شاید نہ جنگلات باقی رہیں گے، نہ پانی اور نہ ہی وہ مری جسے ہم سب اپنی قدرتی شناخت سمجھتے ہیں۔

About Muhammad Idrees Abbasi

Engineer Muhammad Idrees Abbasi is former advisor world bank and writes on politics and social topics.

Check Also

Rehan Tariq Case: Ghair Mohtat Guftgu Na Karen

By Abid Mehmood Azaam