Thursday, 09 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Aftab Alam
  4. Zindagi Kitni Haseen Hai

Zindagi Kitni Haseen Hai

زندگی کتنی حسین ہے

زندگی کو دیکھنے والی آنکھ اگر صرف ظاہری مناظر تک محدود رہے تو زندگی محض واقعات کا ایک سلسلہ معلوم ہوتی ہے، لیکن جب یہی نگاہ اپنے اندر اترنا سیکھ لے تو زندگی ایک راز بن جاتی ہے۔ ایسا راز جسے الفاظ مکمل طور پر بیان نہیں کر سکتے۔ زندگی ایک سوال بھی ہے، ایک جواب بھی، ایک سفر بھی ہے اور منزل کی جستجو بھی۔ انسان جتنا اس کے قریب آتا ہے، اتنا ہی محسوس کرتا ہے کہ زندگی کو سمجھنے سے زیادہ اسے جینا ضروری ہے۔

گلزار صاحب نے اسی فلسفہ حیات کو نہایت سادگی مگر گہرائی کے ساتھ یوں بیان کیا ہے:

زندگی کیا ہے، جاننے کے لیے

زندہ رہنا بہت ضروری ہے

یہ صرف ایک شعر نہیں بلکہ ایک فکری اعلان ہے۔ زندگی کو دوسروں کے تجربات سے نہیں جانا جا سکتا۔ ہر انسان کو اپنی دھوپ خود سہنی پڑتی ہے، اپنی بارش خود محسوس کرنی ہوتی ہے، اپنی راتوں کی خاموشی میں اپنے ہی دل کی آواز سننی پڑتی ہے۔ تب کہیں جا کر زندگی اپنے کسی راز سے پردہ اٹھاتی ہے۔

زندگی کی خوبصورتی اس بات میں نہیں کہ اس میں کبھی دکھ نہ آئے، بلکہ اس بات میں ہے کہ دکھ کے بعد بھی انسان کے اندر مسکرانے کی صلاحیت باقی رہے۔ جو زندگی صرف آسائشوں کا نام ہو، وہ انسان کو مضبوط نہیں بناتی۔ اصل زندگی وہ ہے جو انسان کو ٹوٹنے کے بعد سنبھلنا، بکھرنے کے بعد سمٹنا اور اندھیروں میں بھی روشنی تلاش کرنا سکھا دے۔ یہی وہ لمحات ہیں جب انسان اپنے وجود کی وسعت کو پہچانتا ہے۔

اکثر انسان خوشی کو زندگی سمجھ لیتا ہے، حالانکہ خوشی زندگی کا صرف ایک رنگ ہے۔ زندگی ان تمام رنگوں کا مجموعہ ہے جن میں کبھی مسکراہٹ ہے، کبھی آنسو۔ کبھی وصل ہے، کبھی فاصلہ، کبھی خاموشی ہے، کبھی گفتگو۔ اگر ان میں سے ایک رنگ بھی مٹ جائے تو زندگی اپنی تکمیل کھو دیتی ہے۔ زندگی کا اصل حسن اس کے مختلف رنگوں میں پوشیدہ ہے، یکسانیت میں نہیں۔

زندگی کا سب سے حسین پہلو یہ ہے کہ وہ ہر لمحہ انسان کو ایک نیا موقع عطا کرتی ہے۔ گزرے ہوئے لمحے واپس نہیں آتے، مگر آنے والا لمحہ ہمیشہ ایک نئی امید لے کر آتا ہے۔ یہی امید زندگی کی سانس ہے۔ جس دن انسان امید کھو دیتا ہے، اسی دن زندگی اپنی روشنی کھونے لگتی ہے۔ لیکن جو شخص امید کو اپنے دل میں زندہ رکھتا ہے، وہ ویران راستوں میں بھی منزل کی خوشبو محسوس کر لیتا ہے۔

انسان کی اصل عظمت اس کی کامیابیوں سے نہیں بلکہ اس کے رویّے سے پہچانی جاتی ہے۔ نرم لہجہ، کھلا دل، دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرنے کا جذبہ، معاف کر دینے کی وسعت اور محبت بانٹنے کی صلاحیت۔۔ یہ وہ خوبیاں ہیں جو زندگی کو خوبصورت بناتی ہیں۔ دولت آسائش فراہم کر سکتی ہے، مگر زندگی کا حسن کردار سے جنم لیتا ہے۔ جس دل میں محبت آباد ہو، اس کے لیے دنیا کبھی مکمل طور پر ویران نہیں ہوتی۔

مذاہب اور روحانیت بھی انسان کو زندگی کی قدر کرنا سکھاتے ہیں۔ وہ یہ احساس بیدار کرتے ہیں کہ زندگی محض گزار دینے کی چیز نہیں بلکہ سنوارنے کی امانت ہے۔ انسان جب اپنے وجود کو مقصد، خیر اور محبت سے جوڑ لیتا ہے تو اس کی زندگی دوسروں کے لیے بھی روشنی کا سرچشمہ بن جاتی ہے۔ ایسی زندگی وقت گزر جانے کے بعد بھی اپنی خوشبو باقی رکھتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ زندگی کسی منزل کا نام نہیں بلکہ مسلسل چلتے رہنے کا نام ہے۔ جو رُک گیا، وہ زندگی کے بہاؤ سے کٹ گیا۔ جو چلتا رہا، وہ ہر موڑ پر ایک نئی دنیا دریافت کرتا گیا۔ زندگی ہمیں ہر روز یہ سبق دیتی ہے کہ شکست انجام نہیں، بلکہ ایک نئے آغاز کا دروازہ ہے۔ محرومی ہمیشہ نقصان نہیں، بلکہ کبھی کبھی نئی نعمتوں کی تمہید بھی ہوتی ہے۔

آخرکار انسان اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ زندگی کی خوبصورتی اس میں نہیں کہ اس کے راستے ہموار ہوں، بلکہ اس میں ہے کہ مسافر کا دل روشن ہو۔ روشن دل انسان خارزار میں بھی پھول دیکھ لیتا ہے اور تاریکی میں بھی صبح کی آہٹ سن لیتا ہے۔ جب نگاہ بدل جاتی ہے تو دنیا نہیں بدلتی، مگر دنیا کا مفہوم ضرور بدل جاتا ہے۔

زندگی واقعی حسین ہے، لیکن اس کا حسن آنکھوں سے پہلے دل کو دکھائی دیتا ہے۔ جو دل شکر، محبت، امید اور شعور سے معمور ہو، اس کے لیے زندگی کا ہر لمحہ ایک نعمت، ہر سانس ایک تحفہ اور ہر نیا دن ایک تازہ آغاز بن جاتا ہے۔

Check Also

Rehan Tariq Case: Ghair Mohtat Guftgu Na Karen

By Abid Mehmood Azaam