Thursday, 09 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mushtaq Ur Rahman Zahid
  4. Ana Ki Taskeen Aur Almi Tabahi Ka Safar

Ana Ki Taskeen Aur Almi Tabahi Ka Safar

انا کی تسکین اور عالمی تباہی کا سفر

​عالمی سیاست جب اصولوں، ضابطوں اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری سے نکل کر ایک فردِ واحد کی انا، مزاجی کیفیت اور جذباتی ہیجان کی بھینٹ چڑھنے لگے، تو امنِ عالم کا تصور ایک خواب بن کر رہ جاتا ہے۔ آج 8 جولائی 2026 کا دن عالمی سفارت کاری کی تاریخ میں ایک ایسے ہی اضطراب اور غیر متوقع بحران کے طور پر ثبت ہوگیا ہے، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنی غیر مستقل مزاجی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایران کے ساتھ ہوئے حالیہ سمجھوتوں کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ معاہدے کو توڑنے کا اعلان اور اس کے ساتھ ہی ایران کو "بے وقوف" قرار دینے کا بیان، سفارتی اخلاقیات اور بین الاقوامی آداب کی وہ بدترین مثال ہے جس نے دنیا کو ایک بار پھر حیرت اور تشویش کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔

​صدر ٹرمپ کا یہ بیان کہ "ایران بے وقوف ہے اور ہم اس معاہدے کو ختم کرتے ہیں"، ان کی اس محدود سفارتی بصیرت کا عکاس ہے جس میں عالمی تعلقات کو ایک عام کاروباری سودے بازی کی طرح دیکھا جاتا ہے۔ یہ رویہ واضح کرتا ہے کہ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی میں دلیل کی جگہ دھمکی نے لے رکھی ہے۔ ایک عالمی سپر پاور کے سربراہ کے لیے معاہدوں کا احترام اس کی ساکھ کا بنیادی ستون ہوتا ہے، لیکن ٹرمپ نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ ان کے نزدیک اپنی انا کی تسکین، عالمی امن اور استحکام سے زیادہ مقدم ہے۔ یہ اضطراب صرف ایران کے لیے نہیں، بلکہ ان تمام ممالک کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے جو امریکہ پر بطور ایک قابلِ اعتماد پارٹنر انحصار کرتے ہیں۔

​اس تلاطم خیز صورتحال میں مشرقِ وسطیٰ کے اہم ملک سعودی عرب کا کردار انتہائی بردباری پر مبنی رہا ہے۔ سعودی قیادت نے جس تحمل کا مظاہرہ کیا ہے، وہ عالمی سیاست میں ان کی پختہ سیاسی بصیرت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، اشتعال انگیزی اور بار بار بدلتے امریکی فیصلوں کے باوجود، سعودی عرب نے اپنے کردار کو علاقائی استحکام کے لیے وقف کیے رکھا۔ انہوں نے ثابت کیا ہے کہ ایک ذمہ دار مملکت ہونے کے ناطے وہ جذبات میں بہہ کر خطے کو جنگ کی آگ میں دھکیلنے کے بجائے سفارت کاری کو موقع دینے پر یقین رکھتے ہیں۔ یہ ضبطِ ان کی وہ سیاسی دانش مندی ہے جس نے اس نازک موڑ پر بھی خطے کو ایک بڑی تباہی سے بچائے رکھا ہے۔ ​

دوسری جانب اس سارے بحرانی منظر نامے میں پاکستان نے ایک بار پھر امن کے سفیر کا کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ ایران ہو یا کوئی اور، باہمی مسائل کا حل طاقت کے استعمال یا یکطرفہ فیصلوں میں نہیں بلکہ مذاکرات کی میز پر ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا محور ہمیشہ خطے میں استحکام رہا ہے اور اس حالیہ کشیدگی میں بھی پاکستان نے جس طرح غیر جانبداری اور مفاہمانہ انداز اپنایا، اس نے عالمی برادری میں پاکستان کے باوقار تشخص کو اجاگر کیا ہے۔ پاکستان نے نہ صرف اپنی سرزمین کو تنازعات سے دور رکھنے کی کامیاب حکمتِ عملی اپنائی، بلکہ فریقین پر یہ زور بھی دیا کہ وہ بندوق کی نالی کے بجائے بات چیت کو ترجیح دیں۔

​عالمی سیاست کا پہیہ انا کے سہارے نہیں، بلکہ باہمی احترام، اعتماد اور معاہدوں کی پاسداری سے گھومتا ہے۔ ٹرمپ کا یہ حالیہ بیان قیادت کے اس گہرے بحران کو ظاہر کرتا ہے جس کا شکار آج عالمی برادری ہے۔ جب دنیا کا سب سے طاقتور ملک معاہدوں کو توڑنے اور مقابل کو تضحیک کا نشانہ بنانے کو اپنی طاقت سمجھے، تو دنیا میں انارکی پھیلنا لازمی امر ہے۔ تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جو رہنما اپنی انا کو ریاست کے مفاد سے اوپر رکھتے ہیں، وہ ہمیشہ اپنے پیچھے تباہی اور عدم استحکام چھوڑ کر جاتے ہیں۔

آج کا دن مطالبہ کرتا ہے کہ سفارت کاری کو انا کے پنجرے سے آزاد کیا جائے۔ دنیا کو اب ایسے رہنماؤں کی اشد ضرورت ہے جو دیواریں نہیں بلکہ پل تعمیر کر سکیں، جو اشتعال کے بجائے تحمل کا راستہ اپنائیں اور جو عالمی امن کو کسی ایک فرد کی ضد کی بھینٹ نہ چڑھنے دیں۔ ٹرمپ کا یہ فیصلہ شاید وقتی طور پر ان کی انا کو تسکین پہنچا دے، لیکن طویل مدتی طور پر یہ امریکہ کی سفارتی ساکھ اور عالمی امن کے لیے ایک زہرِ ہلاہل ثابت ہوگا۔

Check Also

Inqilab, Bayania Algorithm Ke Reham o Karam Par

By Syed Mehdi Bukhari