جہاز خریداہے بھئی

ملک کے جمہوری نظام میں خواتین کو نظام کاحصہ بنانے کے لیے نشستیں مختص ہیں مگر کیونکہ انہوں نے ووٹ تو لینے نہیں ہوتے اور اگر قیادت سے قُربت بھی ہو تو بلا خوف و خطر ایسی ایسی حرکتیں کرجاتی ہیں جس پر جماعت اور قیادت بھی شرمندہ ہوتی ہے۔ پنجاب کے پاس وافر وسائل ہیں اور وزیرِ اعلیٰ پنجاب کا وزیرِ اعظم سے چچا بھتیجی کا رشتہ ہے اسی لیے اُنھیں دیگر وزرائے اعلیٰ سے زیادہ اختیارات اور اہمیت حاصل ہیں۔ جب وسائل ہوں تو بندے کا دل مچل ہی جاتا ہے کہ اُس کے پاس کچھ ایسا منفرد ہوتا کہ جو بھی دیکھے رشک کرے اور سراہے۔ اسی لیے پنجاب حکومت نے گیارہ ارب کا ایک اور مزید جہاز خرید لیا ہے حالانکہ ضروریات کے لیے پہلے ہی اچھا طیارہ موجود ہے لیکن دل کیا کہ نئی اور منفرد چیز ہو لہذاغریب عوام کے خون پسینے کی کمائی کے گیارہ ارب روپے سے دل خوش کرلیا۔
مختلف مکاتبِ فکرنے تنقید کی تو مخصوص نشستوں کے زریعے وزیرِ اطلاعات بننے والی عظمی بخاری نے ابتدامیں بتایا کہ طیارہ ایمرجنسی میں ضرورت مندوں کی مددکے لیے خرید اگیا ہے حالانکہ اِتنا پُرتعیش طیارہ دنیا کے امیر ترین ممالک کے حکمرانوں کے پاس ضرور ہوتا ہے بطور فضائی ایمبولینس استعمال نہیں ہوتا۔ جب یہی نُکتہ بار بار اُٹھایا گیا نیز طیارہ آسٹریا کے شہر ویانا تک حکومتی مسافر لیکر چلا گیا تو موقف میں تبدیلی کرتے ہوئے بتایا گیا کہ طیارہ کبھی کبھار وزیرِ اعلیٰ بھی استعمال کرلیا کریں گی جو کہ اب مکمل طور پر وزیرِ اعلیٰ کی صوابدید پر ہے۔ جس سے اتنی تو وضاحت ہوگئی ہے کہ ایمرجنسی کے استعمال والا جھوٹ محض تنقیدی حلقوں کو مطمئن کرنے کے لیے بولا گیا مگر کیونکہ صوبائی وزیرِ اطلاعات نے عوام کے پاس جاکر ووٹ تو لینے نہیں وہ مخصوص نشستوں کے زریعے صوبائی اسمبلی میں آئی ہیں نیز وزیرِ اعلیٰ کی بھی چہیتی ہیں اسی لیے بار بار جھوٹ بولنے پر شرمندہ نہیں بلکہ کارنامہ سمجھ کر نجی محافل میں فخر یہ سناتی ہیں۔ اب یہ معلوم نہیں کہ اپنے والد کی طرف سے لاہور میں دو پاکستانیوں کو قتل کرنے والے ریمنڈ ڈیوس کی وکالت پر بھی اُنھیں کچھ فخر ہے یا نہیں۔
مثل مشہور ہے کہ ایک جھوٹ چھپانے کے لیے مزید سو جھوٹ بولنے پڑتے ہیں ایسا ہی کچھ پنجاب حکومت سے ہورہا ہے۔ حزبِ مخالف سمیت کئی سنجیدہ لوگ بھی طیارہ خریدنے کے اقدام پر وزیرِ اعلیٰ مریم نواز کو ہدفِ تنقید بنا رہے ہیں مگر وزیرِ اعلیٰ کیونکہ خود کم ہی ایوان میں جلوہ افروز ہوتی ہیں اسی لیے تنقید کرنے والوں کا منہ بند کرنے کی ذمہ داری اُن کی ساتھی خواتین کے پاس ہے۔ ابھی گزشتہ دنوں جب پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں طیارہ خرید پر سوالات ہوئے تو سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے رعونت و تکبر سے کہہ دیا کہ طیارہ خریدا ہے بھئی۔ یہ درست جواب نہیں تھا بلکہ اعترافِ جُرم تھا اِس غیر متوقع جواب پر حزبِ مخالف نے شدید تنقید کی تو مریم اورنگزیب نے عمران خان دور میں پچاس روپے میں طیارہ چلانے کی کہانی سنادی۔ مزید باعثِ شرم یہ تھا کہ اسپیکر سمیت حکومتی نشستوں پر براجمان اراکین نے اعترافِ جُرم پر ہنس کر اپوزیشن کا مزاق اُڑایا جب بندہ بے وقوفی کرے اور اپنی بے وقوفی پر اَڑ جائے تو ایسا ہی ہوتا ہے جو طیارہ خریدنے کے سوال پر پنجاب میں ہورہا ہے۔ ڈھٹائی سے کہا جاتا ہے جہاز خریدا ہے بھی۔ حزبِ مخالف والو کرلو جو کرنا ہے ہم تو ایسی حرکتوں سے باز آنے والے نہیں۔
پنجاب میں شہد اور دودھ کی نہریں نہیں بہہ رہیں یہاں بھی غربت عام ہے۔ زراعت و صنعت تباہی سے دوچار ہے جس سے مہنگائی اور بے روزگاری بڑھتی جارہی ہیں مگر لگتا ہے حکمرانوں کو صورتحال کا ادراک تک نہیں وہ جُرم کرتے ہیں اور کوئی جواب طلبی پر فخر سے کہہ دیتے ہیں کہ ہاں کیا ہے۔ پنجاب میں ایسا شاہانہ اندازِ حکومت ہے جس کی ترجیحات اپنی زات کے سوا کچھ نہیں کیونکہ کنیز گروپ نے عوام سے جاکر براہ راست ووٹ تو لینے نہیں اسی لیے عوام مسائل سے لاتعلق ہیں۔ انھوں نے جماعت کی طرف سے خیرات میں ملنے والی نشستوں کے زریعے اسمبلی میں جا کر بیٹھ جانا ہوتا ہے اسی لیے منظورِ نظر کے عہدہ پر فائز رہنے کے لیے انجمن ستائشِ باہمی بناکر قیادت کو مطئمن کرنے کی کوشش میں ہیں مگر افسوس تو اِس پر ہے کہ مریم نواز کا تعلق تو سیاسی گھرانے سے ہیں جس کے والد وزیرِ اعظم رہ چکے چچا شہباز شریف دوسری بار وزیرِ اعظم کے منصب پر ہے اِس کے باوجود جانے کیوں سازشوں سے بے خبر ہیں؟ انھیں سمجھنا چاہیے کہ کنیز گروپ کو تو صرف اپنے مفاد سے غرض ہے جماعت یا قیادت جائے بھاڑ میں۔ انھیں کیا سروکار؟
جنوبی پنجاب میں اکثریت کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں پنجاب میں سرکاری سکول نجی تحویل میں دیکر اخراجات بچائے جارہے ہیں جس سے تعلیم مہنگی اور عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوچکی۔ صحت کی سہولتوں پر بات کرنا اِس لیے مناسب نہیں کہ یہاں اب ڈاکٹر بھی دیہاڑی دار کی طرح بھرتی کیے جاتے ہیں۔ تعلیم اور صاف پانی کے اخراجات بچا کر طیارہ خرید لیا گیا ہے جبکہ صحت کے نام پر چند گاڑیاں سڑکوں پر دوڑا کر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکی جارہی ہے۔ ستھرا پنجاب کے نام پر ہر ماہ اربوں روپیہ لوٹا جارہا ہے اور کوئی سوال پوچھے تو دھڑلے سے کہہ دیا جاتا ہے کہ طیارہ خریدا ہے بھئی۔ ایسا سوال کسی اور جمہوری ملک میں پوچھا جاتا تو حکمران شرمندہ ہوتے اور عوام سے معافی مانگ رہے ہوتے مگر ہمارے ہاں عوام کے نام پر انھیں ہی بے توقیر کرنے کی روایت پختہ ہے اور مخصوص نشستوں سے اسمبلی آنے والا کنیز گروپ اپنی اہمیت بڑھانے اور دیہاڑیاں لگانے کے چکر میں اپنی ہی قیادت کو کھائی کی طرف دھکیل رہا ہے جس کا بظاہر لگتا ہے قیادت کو احساس نہیں اور کھائی میں گرتے ہوئے بھی کنیز گروپ پراعتماد ہے وگرنہ طیارہ خریدا ہے بھئی جیسے بے باکانہ اعتراف پر ضرور خفا ہوتے اور دلیل سے جواب دینے کی ہدایات دیتے مگر یہاں تو لگتا ہے اہلِ دانش و حکمت پر کنیز گروپ حاوی ہے جبکہ حکمران انھی کی سرپرستی کو ذمہ داری سمجھ بیٹھے ہیں۔
خیر یہاں اقتدار کوایک ایسا موقع ملنا تصور کیا جاتا ہے جس میں عوامی خدمت کی بجائے بس لوٹ مار کرنی ہے پیسہ بنانا ہے اور پھر ملک اور بیرونِ ملک جائیدادیں بنانی ہیں اور باز پُرس پر کنیز گروپ کو صفائی پیش کرنے کے لیے آگے کر دینا حکمتِ عملی اور مہارت سمجھ لیا گیا ہے یہی ملک اور صوبے کی اصل بدقسمتی ہے اور غربت بڑھانے کی اہم وجہ بھی۔

