Thursday, 09 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mubashir Ali Zaidi
  4. Trump Greenland Ko Nahi Bhoole

Trump Greenland Ko Nahi Bhoole

ٹرمپ گرین لینڈ کو نہیں بھولے

انقرہ میں جاری نیٹو کانفرنس کے موقع پر امریکا اور یورپ کے تعلقات ایک بار پھر غیر یقینی کیفیت کا شکار ہیں۔ صدر ٹرمپ نے نیٹو کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا، یورپی اتحادیوں پر امریکا سے فائدہ اٹھانے کا الزام لگایا، ایک بار پھر گرین لینڈ پر امریکی کنٹرول کی خواہش کا اظہار کیا اور دھمکی دی کہ امریکا اپنے تمام فوجی دستے یورپ سے واپس بلا سکتا ہے۔ اس کے جواب میں یورپی ممالک دفاعی اخراجات میں بڑے اضافے کے اعلانات کررہے ہیں اور یہ پیغام دینے کی کوشش کررہے ہیں کہ اگر امریکا پیچھے ہٹتا ہے تو یورپ اپنی سلامتی کا بوجھ خود اٹھانے کے لیے تیار ہے۔

صدر ٹرمپ کی بنیادی شکایت نئی نہیں۔ وہ برسوں سے کہتے آئے ہیں کہ امریکا نیٹو کے دفاعی اخراجات کا غیر متناسب بوجھ اٹھا رہا ہے جبکہ یورپی ممالک اپنی ذمے داریاں پوری نہیں کرتے۔ اس بار بھی انھوں نے یہی مؤقف دوہرایا کہ امریکا سیکڑوں ارب ڈالر خرچ کرتا ہے لیکن جب امریکا کو ضرورت پڑتی ہے تو یورپی اتحادی ساتھ نہیں دیتے۔ انھوں نے خاص طور پر ایران کے خلاف امریکی کارروائی کے دوران یورپی حمایت نہ ملنے کا شکوہ کیا اور کہا کہ وہ دراصل اتحادیوں کو "آزما" رہے تھے کہ ضرورت پڑنے پر وہ امریکا کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں یا نہیں۔

یہی نہیں، صدر ٹرمپ نے نیٹو کو "کاغذی شیر" قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اور یورپ کے درمیان موجودہ تعلق "یکطرفہ" ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خاص طور پر جرمنی سمیت کئی ممالک نے برسوں تک دفاع پر خاطر خواہ سرمایہ کاری نہیں کی، اس لیے اب امریکا ہمیشہ کی طرح یورپ کی سلامتی کی ضمانت دینے کا پابند نہیں رہ سکتا۔

یورپی رہنماؤں کو اندازہ ہے کہ اگر اس اجلاس میں وہ کوئی واضح پیغام نہ دے سکے تو صدر ٹرمپ کی تنقید مزید سخت ہوسکتی ہے۔ اسی لیے اجلاس کے دوران نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے دفاعی سرمایہ کاری کے بڑے اعلانات کررہے ہیں۔ نئے فضائی دفاعی نظام، ڈرون شکن ٹیکنالوجی، میزائل پروگراموں اور دفاعی صنعت میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا گیا ہے تاکہ یہ دکھایا جاسکے کہ یورپی ممالک اب واقعی اپنی فوجی صلاحیتوں میں اضافہ کررہے ہیں۔

اس کے باوجود صدر ٹرمپ کے بیانات سے یہ تاثر نہیں مل رہا کہ وہ مطمئن ہیں۔ انھوں نے یہاں تک کہا کہ اگر اجلاس ترکی میں نہ ہوتا تو شاید وہ اس میں شرکت بھی نہ کرتے۔ ان کی جانب سے دوبارہ گرین لینڈ پر قبضے کی خواہش ظاہر کرنا بھی یورپی دارالحکومتوں میں تشویش کا باعث بنا ہے کیونکہ گرین لینڈ ڈنمارک کا حصہ ہے، جو خود نیٹو کا رکن ہے۔ یورپی رہنماؤں کو خدشہ ہے کہ اس قسم کے بیانات روس کے مقابلے میں اتحاد کے اندرونی اختلافات کو زیادہ نمایاں کرتے ہیں۔

اس بار یورپ کا ردعمل صرف سفارتی بیانات تک محدود نہیں ہے۔ کئی یورپی رہنماؤں نے واضح کیا ہے کہ وہ امریکی ناراضی کو کم کرنے کے لیے دفاعی بجٹ بڑھا رہے ہیں، لیکن اس سے بھی بڑھ کر ان کا مقصد ایک ایسا یورپ بنانا ہے جو واشنگٹن پر مکمل انحصار نہ کرے۔ سویڈن کے وزیر دفاع پال جانسن کا بیان خاص طور پر قابل توجہ تھا۔ انھوں نے کہا کہ ان کا کام "امریکا کو خوش کرنا نہیں" بلکہ ایک متوازن شراکت داری قائم کرنا ہے۔ ان کے مطابق یورپ کی امریکی فوجی طاقت پر ضرورت سے زیادہ انحصار خود یورپ اور امریکا دونوں کے لیے اچھا نہیں۔

روس کے یوکرین پر حملے کے بعد یورپ پہلے ہی اپنے دفاعی اخراجات میں نمایاں اضافہ کرچکا ہے۔ چند برس پہلے یورپی ممالک کا مجموعی دفاعی بجٹ 250 ارب یورو سے کم تھا، جو اب 400 ارب یورو سے تجاوز کرچکا ہے، جبکہ مزید اضافے کے منصوبے موجود ہیں۔ پولینڈ اور بالٹک ریاستیں اپنی قومی آمدنی کا تقریباً پانچ فیصد دفاع پر خرچ کررہی ہیں، جرمنی نے بھی اپنے اخراجات میں نمایاں اضافے کا اعلان کیا ہے اور برطانیہ، فرانس اور اٹلی بھی اسی سمت بڑھ رہے ہیں۔

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ یہ مسئلہ صرف پیسے کا نہیں۔ یورپی ماہرین خود تسلیم کرتے ہیں کہ امریکی فوجی صلاحیتوں کا متبادل فوری طور پر تیار کرنا آسان نہیں۔ امریکا کے پاس طویل فاصلے تک مار کرنے والے بمبار طیارے، فضائی ایندھن فراہم کرنے والے طیارے، بحری بیڑے، سیٹلائٹ نظام اور ایسی کئی عسکری صلاحیتیں موجود ہیں جن کی یورپ کے پاس کمی ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق اگر امریکا نے اپنی موجودہ فوجی ذمے داریوں میں بڑی کمی کی تو یورپی ممالک کو اس خلا کو پُر کرنے کے لیے کئی برس اور سیکڑوں ارب یورو درکار ہوں گے۔

نیٹو اب ایک نئی حکمت عملی پر کام کررہی ہے۔ یورپی ممالک مشترکہ دفاعی صنعت، میزائل پروگرام، فضائی نگرانی، جدید ڈرون ٹیکنالوجی اور مشترکہ اسلحہ سازی پر زیادہ زور دے رہے ہیں۔ ایئربس کے نئے ٹرانسپورٹ طیارے، فضائی نگرانی کے جدید نظام اور یورپی میزائل پروگرام اسی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے بھی اجلاس میں یورپی رہنماؤں سے اپیل کی ہے کہ وہ ایک مشترکہ اور مؤثر فضائی دفاعی نظام جلد از جلد تیار کریں کیونکہ روسی میزائل حملوں نے ثابت کردیا ہے کہ یہ ضرورت مستقبل کی نہیں بلکہ آج کی ہے۔

ٹرمپ کی اپنے فوجیوں کی واپسی کی دھمکی نے یورپ میں ایک اور بحث بھی چھیڑ دی ہے۔ اگر امریکا واقعی یورپ میں اپنے تقریباً 80 ہزار فوجیوں کی تعداد میں نمایاں کمی کرتا ہے تو روس کے خلاف روایتی دفاع کمزور ہوسکتا ہے۔ بعض سابق امریکی اور یورپی عہدیداروں کا خیال ہے کہ ایسی صورت میں نیٹو کو جوہری دفاعی حکمت عملی پر پہلے سے زیادہ انحصار کرنا پڑ سکتا ہے، جو خود ایک پریشان کن مرحلہ ہوگا۔

بہرحال صدر ٹرمپ کی سخت زبان وہی اثر پیدا کررہی ہے جس کی وہ برسوں سے خواہش ظاہر کرتے رہے ہیں۔ یورپی ممالک دفاعی اخراجات بڑھا رہے ہیں، مشترکہ فوجی منصوبوں پر کام کررہے ہیں اور اس بات پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں کہ اگر مستقبل میں امریکا اپنی توجہ ایشیا کی طرف منتقل کردے تو یورپ اپنی سلامتی کیسے یقینی بنائے گا۔ لیکن اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی سامنے آرہی ہے کہ فوجی خود انحصاری صرف بجٹ بڑھانے سے حاصل نہیں ہوتی۔ اس کے لیے جدید ٹیکنالوجی، مشترکہ دفاعی صنعت، سیاسی ہم آہنگی اور کئی برسوں کی مسلسل سرمایہ کاری درکار ہوگی۔

Check Also

Trump Greenland Ko Nahi Bhoole

By Mubashir Ali Zaidi