Takht e Firon
تختِ فرعون

نعرہ عوام کا، ووٹ حکمران کا، ملک سیاست دانوں کا، حکمرانی فوج کی، انصاف عدالت کا۔۔ مگر انصاف بھی اکثر طاقتور کے حصے میں زیادہ آتا دکھائی دیتا ہے۔
ہمیں نصاب میں پڑھایا جاتا ہے کہ جو قومیں انصاف کا دامن چھوڑ دیتی ہیں، وہ زوال کا شکار ہو جاتی ہیں، جبکہ جو قومیں عدل و انصاف کو اپنا شعار بناتی ہیں، وہی ترقی اور کامیابی کی راہ پر گامزن ہوتی ہیں۔ مگر ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہماری پاک سرزمین میں بچوں کو انصاف کی اہمیت تو ضرور پڑھائی جاتی ہے، مگر اس پر عمل کرنے کا شعور کم ہی دیا جاتا ہے۔ انہیں بتایا جاتا ہے کہ عدل و انصاف کسی بھی ریاست کی بنیاد ہوتے ہیں، لیکن یہ نہیں سکھایا جاتا کہ ان اصولوں کا آغاز ہمیں اپنے ہی معاشرے سے کرنا چاہیے۔
آج ہماری پاک سرزمین میں انصاف ایک ایسے خواب کی مانند محسوس ہوتا ہے جسے ہر شخص دیکھتا تو ہے، مگر اس کی تعبیر بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہے۔ بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جب کوئی انصاف کی کرسی پر بیٹھتا ہے تو گویا اسے کرسیِ انصاف نہیں بلکہ تختِ فرعون مل گیا ہو۔ جو کل انصاف، برابری اور قانون کی باتیں کرتا تھا، وہی اقتدار یا اختیار ملتے ہی انصاف کے تقاضوں کو پسِ پشت ڈال دیتا ہے۔ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے؟ کیا انصاف صرف کتابوں کے لیے رہ گیا ہے، یا پھر ہم نے اسے اپنی عملی زندگی سے بھی نکال دیا ہے؟
ہمارے ملک میں انصاف اس قدر مضبوط ہے کہ ابوذر جیسے لوگ قتل کرنے کے بعد بھی رہا ہو جاتے ہیں اور ایک غریب کو صرف غیر قانونی جگہ پر ریڈی لگانے کی وجہ سے سلاخوں میں بند کر دیا جاتا ہے اگر قانون سب کے لیے برابر ہے تو اس کا جھکاؤ طاقتور لوگوں کی طرف زیادہ دکھائی کیوں دیتا ہے۔
تو کیا جب تک ہمارے ملک میں انصاف کی کرسی پر بیٹھے لوگ جسٹس محمد آصف کے جیسے ہوں گے تب تک انصاف صرف ایک خواب ہی رہے گا؟ کیا کمزور شہری یہ امید بھی چھوڑ دے کہ اسے کبھی انصاف نہیں مل سکے گا؟ اگر انصاف طاقت کے دروازے پر دستک دیتا رہے اور غریب برسوں تک بیٹھا انتظار کرتا رہے تو پھر انصاف کی کرسی پر بیٹھنے والوں میں اور تخت فرعون پر بیٹھنے والوں میں کیا ہی فرق ہوگا؟
آخر میں سوال صرف یہ نہیں کہ انصاف کہاں ہے، بلکہ یہ ہے کہ انصاف کب تک صرف کتابوں، تقریروں اور عدالتوں کی دیواروں تک محدود رہے گا؟ جس دن قانون واقعی طاقتور اور کمزور کے درمیان فرق کیے بغیر نافذ ہوگا، اسی دن پاکستان کی بنیاد بھی مضبوط ہوگی۔ کیونکہ قومیں صرف نعروں سے نہیں، بلکہ انصاف سے زندہ رہتی ہیں۔
شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو صرف یہ نہ پڑھائیں کہ "انصاف کسی بھی ریاست کی بنیاد ہے"، بلکہ انہیں یہ بھی دکھائیں کہ انصاف حقیقت میں کیسا ہوتا ہے۔ ورنہ آنے والی نسلیں بھی انصاف کو صرف کتابوں میں پڑھیں گی اور حقیقت میں اسے ایک خواب ہی سمجھیں گی۔

