Friday, 03 July 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Dr. Saif Wallahray
  4. Fashion Culture

Fashion Culture

فیشن کلچر

شہر کے سب سے بڑے مال میں داخل ہوں تو یوں لگتا ہے جیسے قوم نے اپنے تمام بنیادی مسائل وقتی طور پر ملتوی کرکے آئینے کے سامنے کھڑے ہونے کا فیصلہ کر لیا ہو۔ باہر سڑک پر ٹوٹی ہوئی فٹ پاتھ، دھواں اگلتی گاڑیاں، بجلی کے بل، بےروزگاری، مہنگائی اور نظام کی نااہلی منہ چڑا رہے ہوتے ہیں، مگر اندر روشنی ایسی ہوتی ہے جیسے ترقی نے مستقل پتہ یہی لکھوا رکھا ہو۔ شیشے کے پیچھے کھڑے بےجان مانیکن ایسے سجے ہوتے ہیں جیسے جمہوریت کے منشور ہوں: خوشنما، پُرکشش، مہنگے اور حقیقت سے مکمل لاتعلق۔

نوجوان لڑکے اپنے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے ایسے چلتے ہیں جیسے قومی معیشت کا بوجھ ان کے کندھوں پر نہیں، صرف جیکٹ کے کٹ پر ہو۔ لڑکیاں لباس کے رنگ پر یوں غور کرتی ہیں جیسے زندگی کی سب سے بڑی سیاسی رائے یہی ہو کہ اس سال پیسٹل چل رہا ہے یا مرون۔ ماں باپ قیمت کے ٹیگ دیکھتے ہیں، پھر بچوں کے چہرے دیکھتے ہیں اور آخرکار اپنی جیب کی بے عزتی برداشت کر لیتے ہیں، کیونکہ اس معاشرے میں اب عزت کردار سے نہیں، "لُک" سے وابستہ ہوتی جا رہی ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے ہم ایک ایسی قوم بن گئے ہیں جسے روٹی، انصاف، تعلیم، صحت اور فکرکے بحران سے زیادہ اپنے "پریزنٹ ایبل" ہونے کی فکر ہے۔

یہ فیشن کلچر آخر ہے کیا؟ محض لباس کا بدلتا ہوا ذوق؟ نہیں۔ یہ محض رنگ، کپڑا، ڈیزائن یا اسٹائل کا معاملہ نہیں۔ یہ ہمارے عہد کی وہ خاموش سیاست ہے جس میں جسم بازار ہے، شناخت اشتہار ہے اور انسان آہستہ آہستہ صارف میں تبدیل ہو رہا ہے۔ فیشن اب صرف پہننے کی چیز نہیں رہا، یہ ایک بیانیہ ہے، ایک ایسا بیانیہ جو ہمیں بتاتا ہے کہ خوبصورت کون ہے، جدید کون ہے، قابلِ قبول کون ہے اور کمتر کون ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ لوگ اچھا پہننا کیوں چاہتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ اب "اچھا" کس نے طے کیا ہے۔ ہم نے؟ ہماری تہذیب نے؟ ہماری ضرورت نے؟ ہمارے موسم نے؟ یا کسی عالمی برانڈ نے، جسے نہ ہمارے معاشرے سے دلچسپی ہے، نہ ہماری تاریخ سے، نہ ہمارے طبقاتی دکھ سے، نہ ہماری تہذیبی شناخت سے۔ اسے صرف ہماری جیب سے دلچسپی ہے اور اس جیب تک پہنچنے کا سب سے آسان راستہ ہمارے احساسِ کمتری سے ہو کر گزرتا ہے۔

فیشن کے حق میں سب سے مقبول دلیل یہ دی جاتی ہے کہ یہ اظہارِ ذات ہے۔ انسان کو حق ہے کہ وہ اپنے لباس سے اپنی شخصیت ظاہر کرے۔ بات اچھی لگتی ہے، کیونکہ آج کل ہر جملہ جس کے آخر میں "میری چوائس" لگ جائے، وہ فوراً جدید، مہذب اور ناقابلِ تنقید ہو جاتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ چوائس آخر بنتی کہاں ہے؟ اگر آپ کے حسن کا معیار انسٹاگرام طے کرے، آپ کے لباس کا سلیقہ کسی فیشن بلاگر کے ریلز سے برآمد ہو، آپ کے جوتوں کی اہمیت کسی برانڈ کی مہم سے پیدا ہو، آپ کے بالوں کا انداز کسی اداکار کی نئی سیریز کے بعد اچانک "ٹرینڈ" بن جائے، تو پھر یہ اظہارِ ذات نہیں، اظہارِ اثرپذیری ہے۔ یہ اپنی پسند نہیں، پسند کا ٹھیکہ ہے۔ جدید فیشن کلچر کا سب سے بڑا کمال یہی ہے کہ اس نے تقلید کو انفرادیت کا نام دے دیا ہے۔ آپ جتنا زیادہ دوسروں جیسے ہوتے جاتے ہیں، اتنا ہی آپ کو یقین دلایا جاتا ہے کہ آپ "اپنے جیسے" ہو رہے ہیں۔

یہاں سے تہذیبی بیگانگی شروع ہوتی ہے۔ تہذیبی بیگانگی کوئی خطیبانہ اصطلاح نہیں، ایک جیتی جاگتی سماجی بیماری ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر نیا لباس حرام اور ہر پرانا لباس مقدس ہے۔ مسئلہ لباس کی نوعیت نہیں، ذہن کی ساخت ہے۔ جب ایک معاشرہ اپنے مقامی لباس کو دیہاتی، اپنی دستکاری کو پسماندہ، اپنی سادگی کو کمتر اور باہر سے آنے والی ہر چیز کو نفاست، ترقی اور اسٹیٹس کی سند سمجھنے لگے تو سمجھ لیجیے تہذیب کی جڑ میں دیمک لگ چکی ہے۔ ہمارے ہاں اب کپڑا جسم پر کم اور احساسِ مرعوبیت پر زیادہ فِٹ کیا جاتا ہے۔ نوجوان یہ نہیں دیکھتا کہ لباس اس کے موسم، مزاج، معاشی استطاعت یا تہذیبی شناخت سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں، وہ یہ دیکھتا ہے کہ "ٹرینڈ" کیا ہے۔ گویا اب موسم کیلنڈر نہیں بتاتا، برانڈ بتاتا ہے۔ تہذیب گھر نہیں بناتی، مارکیٹنگ ٹیم بناتی ہے اور وقار اب کردار سے نہیں، لوگو سے ماپا جاتا ہے۔

سرمایہ دارانہ فیشن کلچر کا پورا کاروبار ایک نفسیاتی واردات ہے۔ پہلے آپ کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ آپ ابھی کافی نہیں ہیں۔ آپ کے کپڑے پچھلے سیزن کے ہیں، آپ کی شخصیت میں "ایج" نہیں، آپ کا رنگ وہ نہیں، آپ کی جلد اتنی روشن نہیں، آپ کے بال اتنے "سیٹ" نہیں، آپ کا اسٹائل اتنا "اپڈیٹڈ" نہیں۔ پھر اسی احساسِ کمی کا علاج آپ کو فروخت کر دیا جاتا ہے: یہ برانڈ پہن لیجیے، یہ شیڈ لگا لیجیے، یہ اسٹائل اپنا لیجیے، یہ کلیکشن لے لیجیے، یہ شوٹ کرا لیجیے، یہ تصویر پوسٹ کر دیجیے۔ گویا پہلے مرض ایجاد کیا جاتا ہے، پھر دوا بیچی جاتی ہے اور کمال دیکھیے کہ مریض اس پورے عمل میں خود کو بیمار نہیں، "فیشن ایبل" سمجھتا رہتا ہے۔

یہ کھیل صرف نفسیات کا نہیں، معیشت کا بھی ہے۔ ایک طرف وہ ملک ہیں جہاں ریاستیں اپنے شہریوں کو بنیادی سہولتیں دینے کے بعد فیشن انڈسٹری کھڑی کرتی ہیں، دوسری طرف ہم ہیں، جہاں آدمی کی تنخواہ آدھے مہینے میں ختم ہو جاتی ہے مگر عید، شادی، یونیورسٹی فنکشن اور سوشل میڈیا پوسٹ کے لیے "اچھا ڈریس" لازم ہے۔ متوسط طبقہ اس تماشے کا سب سے بڑا ایندھن ہے۔ نہ وہ اشرافیہ کی طرح بےفکری سے خرچ کر سکتا ہے، نہ غریب کی طرح اس دوڑ سے مکمل باہر رہ سکتا ہے۔ اسے اپنی اولاد کو احساسِ محرومی سے بھی بچانا ہے اور بجٹ کی لاش بھی گھر لا کر رکھنی ہے۔ چنانچہ کپڑا اب کپڑا نہیں رہا، مالیاتی ایمرجنسی بن چکا ہے۔ لوگ گھر کے راشن پر سمجھوتہ کر لیتے ہیں، مگر تقریب میں "اَنڈر ڈریسڈ" نہیں دکھنا چاہتے۔ قرض لے لیتے ہیں، مگر برانڈ کے بغیر تصویر نہیں لگاتے۔ یہ وہ معاشرہ ہے جہاں جیب خالی ہو سکتی ہے، مگر شوکیس خالی نہیں ہونا چاہیے۔

فیشن کلچر کا ایک اور ظلم یہ ہے کہ یہ انسان کی قدر کا پیمانہ بدل دیتا ہے۔ جب سماج ظاہری پیکجنگ سے متاثر ہونے لگے تو کردار، مطالعہ، بصیرت، شرافت، ذہانت اور انسانیت سب آہستہ آہستہ پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ پھر اچھا انسان وہ نہیں رہتا جو اچھا ہو، بلکہ وہ رہ جاتا ہے جو اچھا "دکھتا" ہو اور یہ "دکھنا" محض ذاتی مسئلہ نہیں، پورا سماجی بیانیہ بن جاتا ہے۔ یونیورسٹیوں میں، شادیوں میں، دفاتر میں، سوشل میڈیا پر، ہر جگہ ایک خاموش عدالت لگی ہوتی ہے جہاں لباس گواہ ہے، برانڈ وکیل ہے اور ظاہری تاثر جج۔ فیصلے وہیں ہو جاتے ہیں جہاں انسان ابھی بولنا بھی شروع نہیں کرتا۔ آپ کے کپڑے آپ کے بارے میں وہ رائے قائم کر دیتے ہیں جو شاید آپ کی پوری گفتگو بھی نہ بدل سکے۔ یوں فیشن اظہار سے زیادہ فیصلہ بن جاتا ہے۔

سوشل میڈیا نے اس مرض کو وبا میں بدل دیا ہے۔ اب لباس صرف پہنا نہیں جاتا، پیش کیا جاتا ہے۔ تصویر صرف لی نہیں جاتی، اسٹیج کی جاتی ہے۔ زندگی صرف گزاری نہیں جاتی، curate کی جاتی ہے۔ ہر تقریب میں ایک لباس اس لیے نہیں لیا جاتا کہ ضرورت ہے، بلکہ اس لیے لیا جاتا ہے کہ تصویر پچھلی بار والے لباس میں نہیں لگ سکتی۔ گویا ہم نے زندگی سے زیادہ اس کی فوٹو کا خیال رکھنا شروع کر دیا ہے۔ اب سوال یہ نہیں کہ آپ خوش ہیں یا نہیں، سوال یہ ہے کہ آپ خوش "لگ" رہے ہیں یا نہیں۔ آپ باوقار ہیں یا نہیں، یہ ثانوی ہے، آپ باوقار "دکھ" رہے ہیں یا نہیں، یہ اصل ہے۔ اس سارے عمل میں انسان اندر سے جتنا خالی ہوتا جاتا ہے، باہر سے اتنا ہی polished دکھائی دیتا ہے۔ تہذیب کی یہ شاید نئی تعریف ہے: باطن بےترتیب ہو تو ہو، ظاہر aesthetic ہونا چاہیے۔

اور اگر اس فیشن کلچر کے سب سے بڑے متاثرین کی بات کی جائے تو عورت اس منڈی کی مستقل ہدف رہی ہے۔ صدیوں تک اس کے جسم کو اخلاقی بحث کا میدان بنایا گیا، اب اسے صارفانہ منڈی کا شوکیس بنا دیا گیا ہے۔ آزادی، خودمختاری اور choice کے نام پر اس کے لیے حسن کے ایسے معیارات گھڑے گئے ہیں جو اکثر غیر حقیقی، مہنگے اور ذہنی طور پر تباہ کن ہیں۔ ایک خاص رنگت، ایک خاص جسمانی ساخت، ایک خاص انداز، ایک خاص سجاوٹ، گویا عورت کی سماجی قبولیت کا پورا معاہدہ اس کے چہرے اور لباس پر لکھا جا رہا ہے۔ مرد بھی اب اس جبر سے محفوظ نہیں رہے، لیکن عورت کے معاملے میں یہ استحصال زیادہ منظم، زیادہ تجارتی اور زیادہ بےرحم ہے۔ افسوس یہ ہے کہ اس پورے کاروبار کو empowerment کے ریپر میں لپیٹ کر بیچا جاتا ہے، تاکہ استحصال بھی جدید لگے اور جبر بھی glamorous.

یہ وضاحت ضروری ہے کہ مسئلہ یہ نہیں کہ لوگ اچھا کیوں پہنیں، یا جدید کیوں ہوں، یا رنگوں، نفاست اور جمالیات سے محبت کیوں کریں۔ مسئلہ خوبصورتی نہیں، خوبصورتی کی اجارہ داری ہے۔ مسئلہ لباس نہیں، لباس کی طبقاتی سیاست ہے۔ مسئلہ فیشن نہیں، فیشن کی آمریت ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اپنی تہذیبی حس کو اشتہار کے حوالے کر دیا ہے۔ ہمیں اب یہ نہیں بتایا جاتا کہ کیا موزوں ہے، کیا باوقار ہے، کیا ہمارے موسم، مزاج اور معاشرت سے مطابقت رکھتا ہے، ہمیں یہ بتایا جاتا ہے کہ کیا بکے گا، کیا چلے گا، کیا وائرل ہوگا، کیا attention لے گا۔ گویا ہم لباس نہیں پہن رہے، مارکیٹ کی ہدایات پر عمل کر رہے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں، جہاں ریاست ابھی تک شہری کو اچھی تعلیم، صحت، ٹرانسپورٹ، انصاف اور معاشی تحفظ نہیں دے سکی، وہاں فیشن کلچر کی یہ بےسمتی اور بھی مضحکہ خیز لگتی ہے۔ ہم نے ابھی تک انسان کو بنیادی وقار نہیں دیا، مگر اس کے لباس کے لیے عالمی معیار مقرر کر دیے۔ ہم نے نوجوان کو کتاب، روزگار اور فکری تربیت نہیں دی، مگر اسے یہ ضرور سکھا دیا کہ کون سا sneaker اس سال "must have" ہے۔ ہم نے عورت کو محفوظ سڑک نہیں دی، مگر اسے perfect skin routine دے دیا۔ ہم نے مرد کو باوقار روزگار نہیں دیا، مگر اسے branded beard oil پکڑا دی۔ یہ وہ سماج ہے جہاں پالیسی ناکام ہے، مگر packaging کامیاب ہے، ادارے کھوکھلے ہیں، مگر mall خوبصورت ہیں اور شعور کمزور ہے، مگر شوکیس بہت مضبوط ہیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ فیشن کو سرے سے رد نہیں، اس کی ذہنیت کو بےنقاب کیا جائے۔ لباس میں نفاست ہو، رنگ ہو، حسن ہو، جدت ہو، اس سے کون انکار کرتا ہے؟ مگر یہ سب اپنی تہذیبی خودی، معاشی حقیقت، سماجی وقار اور شعوری انتخاب کے ساتھ ہو۔ فیشن اگر مقامی ہنرمند کے ہاتھ کو کام دے، ہماری ثقافتی شناخت کو نئی معنویت دے، نوجوان کو اعتماد دے مگر احساسِ کمتری نہ دے، خوبصورتی دے مگر مصنوعی غلامی نہ دے، تو وہ اظہارِ ذات بن سکتا ہے۔ لیکن اگر وہ ہمیں اپنی جڑوں سے کاٹ دے، ہمیں اپنی اصل سے شرمندہ کر دے، ہمیں دکھاوے، قرض، تقلید اور نفسیاتی بےچینی میں مبتلا کر دے، تو پھر یہ فیشن نہیں، تہذیبی نادہندگی ہے۔

مسئلہ صرف اتنا ہے کہ ہم نے کپڑوں کو ضرورت سے نکال کر نظریہ بنا دیا ہے اور نظریہ بھی ایسا جس میں فکر کم، فلٹر زیادہ ہے۔ ہم نے لباس کو شناخت کا استعارہ بنانے کے بجائے قبولیت کا لائسنس بنا دیا ہے۔ ہم اچھا پہننے سے آگے بڑھ کر اچھا "دکھنے" کے اس جنون میں مبتلا ہو چکے ہیں جہاں انسان کی اصل قیمت اس کے ظرف، علم، کردار اور تہذیبی شعور سے نہیں، اس کے برانڈ، کٹ اور presentation سے لگائی جاتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں فیشن اظہارِ ذات نہیں رہتا، تہذیبی بیگانگی کا سرکاری یونیفارم بن جاتا ہے۔

ہم نے کپڑے جسم ڈھانپنے کے لیے خریدے تھے، شناخت اتارنے کے لیے نہیں۔ مگر اب المیہ یہ ہے کہ الماریاں بھرتی جا رہی ہیں اور آدمی اندر سے خالی ہوتا جا رہا ہے۔ لباس مہنگا ہے، ذوق مستعار ہے اور شخصیت برانڈ کے حوالے۔ ہمیں فیشن نہیں پہنایا جا رہا، ہمیں دھیرے دھیرے اپنی ہی تہذیب سے بےدخل کیا جا رہا ہے اور ستم یہ ہے کہ یہ واردات بھی آئینے کے سامنے، پوری مسکراہٹ کے ساتھ ہو رہی ہے۔

Check Also

Ikhtelaf Kijye, Kirdar Kushi Nahi

By Abid Mehmood Azaam