Thursday, 23 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Hanif
  4. Khula

Khula

خلع

مفہوم: خلع کے لفظی معنی اتار دینے کے ہیں شریعت اسلام کی اصطلاح میں یہ طلاق کی ایک قسم ہے۔ جس کا مطالبہ بیوی کی طرف سے کیا جاتا ہے جہاں شرع نے مرد کو ناگزیر حالات کی بنا پر طلاق دینے کا اختیار سونپ رکھا ہے وہاں عورت کو بھی کسی معقول وجہ کے باعث مرد سے طلاق لینے کا اختیار دے دیا ہے۔ اس طرح فریقین کو ایک مکمل مساوات کی سطح پر لا کھڑا کر دیا ہے قرآن مجید میں چونکہ میاں بیوی کو ان کے انتہائی گہرے تعلقات کی بنا پرایک دوسرے کا لباس قرار دیا گیا ہے۔ اس لئے جب ان کے تعلقات ختم ہو جائیں گے تو یہ سمجھ لیا جائے گا کہ گویا انہوں نے وہ لباس اتار دیا ہے اس لئے فریقین کی علیحدگی اور جدائی کے لئے خلع کی اصطلاح وضع کی گئی ہے۔

فقہ میں خلع سے مراد یہ ہے کہ جب میاں بیوی میں اتنی بیزاری پیدا ہو جائے کہ نکاح کا قائم رکھنا محال ہوجائے اور رشتہ ازدواج ان کے لئے ایک مصیبت بن جائے تو ایسی صورت میں زوجین کا سلسلہ مناکحت میں ایک دوسرے کے ساتھ بندھے رہنا نہ صرف فطری تقاضوں کے منافی ہے بلکہ انصاف کا خون بھی ہے۔ کیا یہ ظلم نہیں کہ ایک عورت بد قسمتی سے کسی ایسے ظالم، فاسق و فاجر اور بد قماش خاوند کے پلے باندھ دی جائے جو اس کے قلب و ذہن کے سکون کو غارت کر دے ان حالات میں اسلام نے انسانی حقوق کے پیش نظر عورت کو اجازت دی ہے کہ کچھ دے دلا کر ایسے ناپسندیدہ شوہر سے گلو خلاصی کرائے۔ خلع مل جانے کے بعد بیوی پر طے شدہ معاوضہ ادا کر نا واجب ہوگا۔

خلع کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: اور تمہارے لئے جائز نہیں کہ جو مال تم ان عورتوں کو دے چکے ہو اس میں سے کچھ بھی واپس لو مگر اس صورت میں کہ جب اندیشہ ہو کہ وہ دونوں اللہ تعالیٰ کے ضابطوں کو قائم نہ رکھ سکیں گے۔ سو اگر تم کو اندیشہ ہو کہ وہ دونوں اللہ تعالیٰ کے ضابطوں کو قائم نہ رکھ سکیں گے تو دونوں پر اس مال کے بارے میں کوئی گناہ نہ ہوگا جو عورت معاوضہ میں دے دے۔ (البقرہ 229)

دوسری جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے یعنی شوہر (البقرہ 337)

قرآن کی آیت کے علاوہ احادیث میں بھی کئی ایک واقعات ملتے ہیں جن سے خلع کے شرعی جواز کا ثبوت ملتا ہے مثلاً ایک جگہ آتا ہے کہ ثابتؓ بن قیسؓ کی بیوی نے رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ میں اپنے خاوند میں کوئی شرعی یا اخلاقی عیب نہیں دیکھتی البتہ مجھے اس کی صورت سخت نا پسند ہے جب میں اسے دیکھتی ہو تو چاہتی ہوکہ اگر خدا کا خوف مانع نہ ہو تو اس کے منہ پر تھوک دوں۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کیا تو اپنے اس باغ سے دستبردار ہونے کے لئے تیار ہو جو تمہیں مہر میں ملا تھا اس نے جواب دیا کہ ہاں۔ یہ سن کر حضور اکرم ﷺ نے اس کے خاوند ثابتؓ بن قیصؓ کو حکم دیا کہ اپنا باغ واپس لے لو اور اس عورت کو طلاق دے دو۔

خلع کے اسباب

فقہا کے نزدیک عام طور پر مندجہ ذیل عذر خلع کے لئے معقول تصور کئے جاتے ہیں۔۔

1۔ خاوند بیوی کا نان ونفقہ ادا نہ کرے۔

2۔ خاوند ازدواجی تعلقات کے قابل نہ ہو۔

3۔ خاوند میں کوئی جسمانی نقص پایا جاتا ہو یا وہ بدصورت ہو۔

4۔ میاں بیوی کی طبیعتوں میں بہت اختلاف ہو۔

5۔ خاوند بے دین ہو۔

6۔ خاوند سخت طبیعت ہو اور گالی گلوچ یا مار پیٹ کا عادی ہو۔

حافظ ابن تمیمؒ فرماتے ہیں ہر وہ عیب جس کی وجہ سے زن و شوہر میں یک جہتی باقی نہ رہ سکے اور نکاح کا اصل مقصد (یعنی الفت، و محبت) فوت ہو جائے تو ایسی صورت میں علیحدگی اختیار کرنا ضروری ہوگا غرض اسلام نے اس طرح کے نازک حالات میں کشمکش کے آخری مراحل پر خلع کی رخصت دے رکھی ہے لیکن ساتھ ہی اس رخصت سے ناجائز فائدہ اٹھانے والی عورتوں کو پیش بندی کے طور پر سختی کے ساتھ ان الفاظ میں تنبیہ کی گئی ہے۔

ترجمہ۔ جو عورت ذرہ ذرہ سی بات پراپنے شوہر سے طلاق کی درخواست کرے اس پر جنت حرام ہے۔

فقہ میں خلع کے معاوضہ کے لئے مال کی کوئی مقدار مقرر نہیں۔ اس بارے میں اگر مرد عورت کے درمیان گھر پر ہی کوئی متفقہ فیصلہ ہوجائے تو جو کچھ طے ہوا ہو اس پر عمل کیا جائے لیکن اگر معاملہ عدالت تک پہنچ جائے تو عدالت پہلے اس امر کی تحقیق کرے گی کہ آیا فی الواقع عورت اپنے شوہر سے اس حد تک متنفر ہو چکی ہے کہ اس کے ساتھ اس کا نباہ نہیں ہو سکتا۔ یہ ثابت ہو جانے پر عدالت کو اختیا ہوگا کہ حالات کے مطابق جو معاوضہ چاہے تجویز کرے اس فدیہ کو قبول کرکے شوہر اسے طلاق دے دے گا۔

فقہ کی رائے یہ ہے کہ اگر ناچاقی اور ناگواری کی ابتدا شوہر کی طرف سے ہوئی ہو تو اس کے لئے معاوضہ لینا مکروہ ہے اور اگر بیزاری کا اظہار بیوی کی طرف سے ہو ا ہو تو شوہر کو چا ہیئے کہ مہر سے زیادہ رقم طلب نہ کرے۔

خلع کی صورت میں جو طلاق واقع ہوتی ہے وہ رجعی نہیں بلکہ بائن ہوتی ہے اور چونکہ عورت نے معاوضہ اداکرکے اسے خریدا ہوتا ہے اس لئے شوہر اس بات کا مجاز نہیں رہتا کہ وہ اس طلاق کے بعد رجوع کر سکے۔ ہاں اگر یہ عورت اور مرد پھر ایک دوسرے سے راضی ہو جائیں تو وہ دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں۔

Check Also

Qaumi Ajaib Ghar

By Syed Mehdi Bukhari