بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا، وہ خیبرپختونخواہ کے کسی دور دراز علاقے سے تعلق رکھتا تھا، میرا فین تھا اور وہ مختلف سڑکوں اور سیکٹروں میں دھکے کھاتا ہوا میرے دفتر پہنچ گیا تھا، اس کی حالت پتلی تھی، میں نے سب سے پہلے اس کا ہاتھ منہ دھلوایا، پھر دفتر کے میس سے کھانا کھلوایا اور پھر اس کی آمد کی وجہ پوچھی، وہ حالات کا مارا ہوا تھا، پہلی مرتبہ اسلام آباد آیا تھا اور شہر کی خوب صورتی، سہولتیں اور لوگوں کا لیونگ سٹینڈرڈ دیکھ کر بہت دکھی تھا، وہ دیر تک اپنی پس ماندگی اور اسلام آبادیوں کی عیاشیوں کا ذکر کرتا رہا، وہ سمجھتا تھا اسلام آباد اور اس کے لوگ اس کی پس ماندگی کی وجہ ہیں۔
اس کے گائوں میں بجلی، گیس، پانی، سڑک، سکول اور ہسپتال اس لیے نہیں ہیں کہ یہ سب کچھ اسلام آباد اور لاہور کے لوگ چوس جاتے ہیں "اس کا کہنا تھا "میرا دل کرتا ہے میں اس سارے شہر کو جلا دوں" میں خاموشی سے اس کی گفتگو سنتا رہا، وہ خاموش ہوا تو میں نے اس سے صرف ایک سوال کیا "کیا تم اسلام آباد میں رہنا چاہتے ہو؟" اس نے ہاں میں سر ہلا دیا، میں نے اسے نوکری کی آفر کر دی اور خان فوراً مان گیا، اس کی نوکری دل چسپ تھی۔
میرا چھوٹا بیٹا اس وقت میٹرک میں تھا، اس کا پڑھائی میں بالکل دل نہیں لگتا تھا، میں سکول اور ٹیوٹر بدل کر تھک گیا تھا لیکن یہ پڑھنے کے لیے راضی نہیں ہو رہا تھا، میں نے خان کی ذمہ داری لگائی تم نے اسے صرف میٹرک پاس کرانی ہے، خان کا کہنا تھا میں خود پڑھائی میں اچھا نہیں ہوں، میں انگلش میڈیم بچے کو کیسے پڑھائوں گا، میں نے اسے بتایا تم نے اسے ہرگز نہیں پڑھانا، اسے صرف اور صرف رٹا لگوانا ہے تاکہ یہ میٹرک پاس کرسکے، دوسرا یہ تمہیں بہت تنگ کرے گا، یہ تمہیں بھگانے کی پوری کوشش کرے گا لیکن تم نے بھاگنا نہیں اور تیسرا اپنی تعلیم مکمل کرنی ہے، تم جوں ہی اپنی تعلیم مکمل کر لو گے میں میڈیا میں تمہاری بہت اچھی نوکری کرا دوں گا، خان نے ڈن کر دیا۔
میں نے بیٹے کی ٹیوشن بند کر دی اور وہ فیس خان کو دینے لگا، کھانا اسے ہمارے آفس سے مل جاتا تھا اور رہائش اس نے پرائیویٹ ہاسٹل میں رکھ لی، قصہ مختصر خان مستقل مزاج نکلا، اس نے میرے بیٹے کی مت مار کر رکھ دی، بیٹا واش روم میں چھپ کر بیٹھ جاتا تھا مگر خان دروازے کے ساتھ کھڑا ہو کر اسے پڑھاتا رہتا تھا، بیٹا اندر سے لعن طعن کرتا رہتا تھا اور یہ باہر سے اسے رٹنے کا طریقہ بتاتا رہتا تھا اور میں آفس میں بیٹھ کر ہنستا رہتا تھا، میرے بیٹے نے اسے بھگانے کے سارے جتن کیے مگر خان نہیں بھاگا اور یوں اسے بالآخر پڑھنا پڑ گیا اور یہ گرتے پڑتے میٹرک کر گیا، رزلٹ آیاتو اس کام یابی پر بیٹے اور مجھ سے زیادہ خان خوش تھا، وہ خوشی سے چھلانگیں لگا رہا تھا۔
وہ اس دوران خود بھی بی اے کر گیا تھا اور اسلام آباد میں رچ بس گیا تھا، میں نے اسے اس کے بعد اپنے آفس میں جاب دے دی، وہ دن کو کام کرتا تھا اور شام کے وقت ایم اے کی تیاری کرتا تھا، دو سال بعد اس نے ایم اے بھی کر لیا، میں نے اس سے میڈیا میں جاب کا وعدہ کر رکھا تھا لیکن آپ اس کا کمال دیکھیں اسے میری سفارش کی ضرورت نہیں پڑی اور وہ میری کمپنی کے پروفائل کی بنیاد پر خود ہی جاب لینے میں کام یاب ہوگیا اور آہستہ آہستہ اسلام آباد میں اپنی جڑیں مضبوط کرتا چلا گیا، اس نے کرائے پر گھر بھی لے لیا، نیا موٹر سائیکل اور پھر پرانی کار بھی خرید لی اور اپنی فیملی کو بھی اسلام آباد لے آیا یوں خان اسلام آبادی ہوگیا۔
وہ مجھے مدت بعد مارکیٹ میں ملا، اس کا حلیہ، چال ڈھال اور گفتگو کا انداز بدل چکا تھا، وہ اب ایک مکمل طور پر مختلف انسان تھا، میں نے اس سے پوچھا "کیا تم اب بھی اس شہر کو جلا دینا چاہتے ہو؟" اس نے قہقہہ لگایا اور کہا "سر یہ میرا شہر ہے، میں نے بڑی جدوجہد کے بعد یہاں اپنی جگہ بنائی ہے، اب اگر کوئی اس کی طرف دیکھے گا بھی تو میں اس کی آنکھیں نوچ لوں گا" میں نے قہقہہ لگایا اور اس سے عرض کیا "شہروں کے گیٹ نہیں ہوتے، لوگ جب چاہیں ان میں داخل ہو سکتے ہیں بس انہیں ان میں بسنے کے لیے کوشش اور محنت کرنی پڑتی ہے، ہم نے بھی یہی کیا تھا، تم کو بھی یہی کرنا پڑا اور ہمارے بعد بھی جو آئیں گے انہیں بھی یہی کرنا ہوگا۔
انسان کے پاس زندگی میں دو آپشن ہوتے ہیں، یہ پس ماندہ علاقوں میں بیٹھ کر کام یاب لوگوں اور بڑے شہروں کو گالیاں دیتا رہے یا پھر ہمت کرکے ان شہروں میں چلا جائے اور دن رات ایک کرکے اپنی گنجائش پیدا کر لے، دوسرا طریقہ مفید بھی ہے اور اچھا بھی، تم نے بھی یہی راستہ لیا اور میں نے بھی۔
اسلام آباد نے مجھے روکا اور نہ یہ تمہارے راستے میں رکاوٹ بنا، میں نے تمہیں صرف اس لیے سپورٹ کیا کہ تم اسلام آباد پہنچ گئے تھے، میں اگر تمہاری مدد نہ کرتا تو کسی دوسرے نے کر دینی تھی، تم نے بہرحال یہاں سیٹل ہو کر رہنا تھا اور اگر اس کے مقابلے میں تم اپنے گائوں میں بیٹھے رہتے اور وہاں دن رات اسلام آباد اور اسلام آبادیوں کو گالیاں دیتے رہتے تو تمہاری زندگی میں کوئی تبدیلی نہ آتی، یہاں اسلام آباد سے کوئی وزیر یا وزیراعظم بھی چاہتا تو تمہارے حالات نہیں بدل سکتے تھے، تم نے گھٹ گھٹ کر مر جانا تھا، بالکل اسی طرح جس طرح لاکھوں کروڑوں دوسرے لوگ مر جاتے ہیں، زندگی کا کھیل بہت سادہ ہے، یہ صرف اسے پھل دیتی ہے جو اس کے لیے کوشش کرتا ہے، جو سعی کرتا ہے جب کہ وہ لوگ ہمیشہ پیچھے اور محروم رہ جاتے ہیں جو اپنے حالات بدلنے کی کوشش نہیں کرتے، فارمولا بس اتنا اور سادہ ہے"۔ خان نے مجھ سے اتفاق کیا، بڑے تپاک سے میرے ساتھ ہاتھ ملایا اور اسلام آباد کی بھیڑ میں گم ہوگیا، مجھے یقین ہے یہ اس وقت بھی یہیں ہوگا اور اچھی اور خوب صورت زندگی گزار رہا ہوگا۔
بلوچستان میں اس وقت "اینٹی سٹیٹ موومنٹ" چل رہی ہے، بی ایل اے انڈیا کی پراکسی بن کر اپنے صوبے پر حملے کر رہی ہے اور یوں سینکڑوں لوگ بلاوجہ مر رہے ہیں، ریاست بی ایل اے سے نبٹنے کے لیے فوج، ایف سی اور پولیس کو میدان میں لے آئی ہے، یہ ان کو مارتے ہیں تو یہ لوگ پہاڑوں اور افغانستان میں پناہ گزین ہو جاتے ہیں اور وہاں سے واپس آ کر معصوم اور بے گناہ شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں، ریاست جوں جوں آپریشن کر رہی ہے، دہشت گردوں کو توں توں نیا بلوچ خون مل رہا ہے اور یہ سائز میں بڑے ہوتے چلے جا رہے ہیں، یہ دہشت گرد اور ان کا نیا خون کون ہیں؟
یہ وہ نوجوان ہیں جو موبائل فون پر روزانہ کراچی، لاہور اور اسلام آباد کی ترقی دیکھتے ہیں اور پھر اپنے علاقے کے حالات دیکھتے ہیں اور ان کا خون کھول اٹھتا ہے، یہ سمجھتے ہیں سندھ، پنجاب اور بڑی حد تک کے پی میں ساری رونقیں ہماری گیس، ہمارے کوئلے، ہمارے تانبے اور ہمارے سونے کی وجہ سے ہیں، یہ لوگ ہمارے وسائل لوٹ رہے ہیں، یہ ہمارے سمندر سے مچھلیاں تک لے جاتے ہیں جس کے نتیجے میں یہ امیر اور ہم غریب ہوتے چلے جا رہے ہیں، یہ پروپیگنڈا ان نوجوانوں کو انڈیا اور افغان فیڈ کرتے ہیں اور یہ لوگ اسے حقیقت سمجھتے ہیں۔
ریاست کے پاس اب اس کے دو حل ہیں، یہ اسی طرح آپریشن جاری رکھے اور ہر سال اس پر اربوں روپے خرچ ہوتے رہیں، ہمارے نوجوان شہید ہوتے رہیں اور بلوچستان اور ریاست کے درمیان نفرت کی دیوار اونچی سے اونچی ہوتی رہے یہاں تک کہ خدانخواستہ مشرقی پاکستان جیسا دوسرا سانحہ جنم لے لے اور دوسرا حل ہم بلوچستان کے نوجوانوں کو اصل حقائق سے روشناس کرا دیں، ہم انہیں یہ بتا اور سمجھا دیں کام یابی کا تعلق کسی نسل یا گروپ کے ساتھ نہیں ہوتا، کوئی پنجابی، سندھی، پشتون یا بلوچی اس کا الاٹی نہیں ہوتا اور کوئی حکومت کسی کو یہ پلیٹ میں رکھ کر پیش نہیں کر سکتی، ہم میں سے جو بھی شخص کوشش کرے گا وہ کام یاب ہو جائے گا اور جو کوشش نہیں کرے گا وہ سونے کے پہاڑ پر بیٹھ کر بھی بھوکا رہے گا۔
میرا خیال ہے ہم اگر انہیں یہ بتانے میں کام یاب ہو جائیں تو صورت حال بدل جائے گی اور ہم جانیں اور سرمایہ دونوں بچا لیں گے، اب سوال یہ ہے ہم یہ کر کیسے سکتے ہیں؟ اول ہمیں بلوچستان کی تمام فورسز میں بلوچی بھرتی کرنے چاہییں، سرکاری محکموں میں اس وقت لاکھوں آسامیاں خالی پڑی ہیں، آپ ان پر لوگ بھرتی کریں، یہ مالی ہو یا پھر کلرک ان کے لیے فوجی ٹریننگ لازمی قرار دیں، انہیں ٹرینڈ کریں اور یہ لوگ اپنے دفتروں، گاڑیوں اور گھروں کی خود حفاظت کریں، بی ایل اے اگر اس کے بعد ان پر حملے کرے گی تو بلوچی شہید ہوں گے جس کے بعد دہشت گردوں کو عوام میں پذیرائی نہیں ملے گی، عوام کو ان کا اصل چہرہ نظر آنے لگے گا۔
دوم بلوچستان میں پچھلے 20 برسوں میں نو نئی یونیورسٹیاں بنیں یا آپ گریڈ ہوئیں اور ان سے ہزاروں طالب علم پڑھ کر نکلے، وفاق ملک کے تینوں صوبوں کے پرائیویٹ اداروں میں بلوچستان کا ایک فیصد کوٹہ طے کر دے یوں بلوچ نوجوان سندھ، پنجاب اور کے پی میں آئیں گے، ترقی کریں گے اور اصل حقائق جان لیں گے، انہیں یہ معلوم ہو جائے گا وسائل صرف ان کے پاس آتے ہیں جو کوشش کرتے ہیں اور کوشش کا میدان تمام انسانوں کے لیے یکساں طور پر کھلا ہے، یہ لوگ بعدازاں اپنے خاندانوں کو بھی لے کر آئیں گے، اس سے دوریاں ختم ہوں گی، کلچرل ایکس چینج ہوگا اور پورے ملک میں ان کا سٹیک ڈویلپ ہوگا اور یہ وہ کام ہے جو آسٹریلیا، نیوزی لینڈاور کینیڈا میں ہوا اور کام یاب رہا۔
حکومت نے لوکل لوگوں کو شہروں میں لا کر بسایا اور یہ تلواریں اور رائفلیں چھوڑ کر سولائزیشن میں جذب ہو گئے، یہ فارمولا اگر کینیڈا، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا میں کام یاب ہو سکتا ہے تو بلوچستان میں کیوں نہیں؟ ہم اس پر کام کیوں نہیں کرتے؟ اگر میری معمولی سی کوشش سے خان کی رائے اور زندگی بدل سکتی ہے تو حکومت یہ قدم اٹھا کر پورے صوبے کا مقدر کیوں نہیں بدل سکتی؟ یہ یاد رکھیں انسان کی زندگی اس وقت بدلتی ہے جب اس کی رائے بدلتی ہے اور رائے اس وقت بدلتی ہے جب اس کا ماحول بدلتا ہے چناں چہ ماحول بدلیں دہشت گردی کا شکار صوبہ خود بخود بدل جائے گا۔

