Rishta Sirf Huqooq Se Nahi Zimmedariyon Se Chalta Hai
رشتہ صرف حقوق سے نہیں ذمہ داریوں سے چلتا ہے

حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی رشتہ صرف حقوق مانگنے سے مضبوط نہیں ہوتا بلکہ اپنی ذمہ داریاں نبھانے سے قائم رہتا ہے۔ چاہے والدین اور اولاد کا رشتہ ہو، بہن بھائیوں کا، میاں بیوی کا، استاد اور شاگرد کا، ساس اور بہو کا، پڑوسیوں کا، بھابھی اور نند کا، داماد اور سسرال کا، چاہے دوستوں کا، ہر رشتہ محبت، احترام، اعتماد، صبر اور حسن اخلاق کا تقاضا کرتا ہے۔
والدین اگر اولاد کو محبت، تربیت اور اچھے اخلاق دیں تو اولاد پر بھی لازمی ہے کہ وہ ان کی عزت، خدمت اور فرمانبرداری کرے۔ بھائی بہن اگر ایک دوسرے کا سہارا بنے تو گھر میں محبت بڑھتی ہے۔ نند بھابھی اتفاق کے ساتھ رہیں تو گھر کا سکون قائم رہتا ہے۔ رشتہ داروں کے ساتھ صلح رحمی، پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک، دوستوں کے ساتھ وفاداری اور استاد شاگرد کے درمیان ادب و احترام ایک ہی صلا لع معاشرے کی بنیاد ہے۔ ہر رشتہ ایک ائینے کی طرح ہوتا ہے۔
اگر ہم اس میں محبت، احترام، خلوص، صبر اور وفاداری ڈالیں گے تو وہی چیزیں واپس ملیں گی۔ لیکن اگر ہم رشتوں میں انا، سخت لہجے، بدگمانی اور خود خود غرضی کو شامل کریں گے تو پھر محبت کی فصل کیسے اگے گی؟ آج ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم ہر رشتے میں یہ گنتے ہیں کہ سامنے والے نے ہمارے لیے کیا کیا ہے؟ مگر ہم یہ نہیں سوچتے کہ ہم نے اس کے لیے کیا کیا ہے؟
یاد رکھیں ایک دن میں رشتے نہیں ٹوٹتے بلکہ روزانہ بولے جانے والے تلخ الفاظ نظر انداز کیے جانے والے جذبات اور پوری نہ کی جانے والی ذمہ داریوں سے اہستہ اہستہ بکھر جاتے ہیں۔ اس لیے اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے گھروں ہمارے خاندان اور ہمارے معاشرے میں کون پیدا ہو۔ تو ہمیں صرف اپنے حقوق مانگنے کی بجائے اپنی ذمہ داریاں نبھانے کی عادت بھی خود کو ڈالنی ہوگی۔ کیونکہ مضبوط رشتے صرف محبت سے نہیں بلکہ محبت کے ساتھ ذمہ داری، قربانی اور حسن سلوک سے قائم رہتے ہیں۔ اسی طرح ہر رشتہ صرف حقوق کا مطالبہ کرنے سے نہیں بلکہ باہمی ذمہ داریوں کو نبھانے سے مضبوط ہوتا ہے۔
جب ہر شخص یہ سوچنے لگے کہ مجھے کیا مل رہا ہے؟ مجھے کیا مل رہا ہے کی جگہ مجھے کیا دینا ہے؟ اگر اس پر کام کیا جائے تو بہت سے جھگڑے خود بر خود ختم ہو جائیں گے۔ میری اللہ تعالی سے دعا ہے۔ یہ دعا میرے خود کے لیے بھی ہے اور میرے بڑوں کے لیے بھی ہے بلکہ یہ دعا ہر مسلمان ہر انسان کے لیے ہے۔ اے اللہ ہمیں اپنے تمام رشتوں کے حقوق ادا کرنے اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے ایک دوسرے کی عزت کرنے معاف کرنے معافی مانگنے اور حسن اخلاق کے ساتھ زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرما۔

