Peene Aur Jeene Ke Liye Pani Do
پینے اور جینے کے لئے پانی دو

اپنے حصے کا پانی لینے کی خاطر اس وقت بلوچستان کے کاشتکار و زمیندار تین روز سے سکھر بیراج پر دھرنا دئیے بیٹھے ہیں۔ یوں تو ایک ماہ سے بھی زیادہ عرصے بلوچستان کے کاشتکار و زمیندار سندھ سے اپنے حصے کا پانی لینے کے لئے سراپہ احتجاج ہیں۔ لیکن کوئی شنوائی نہ ہونے کی وجہ سے بالآخر بلوچستان کے لوگ تنگ آکر اپنے حصے کا پانی لینے کی خاطر سینکڑوں افراد نصیر آباد ڈویژن کے مختلف علاقوں استا محمد۔ گنداخہ روجھان جمالی سے احتجاجی جلوس کی شکل میں اس قیامت خیز گرمی تقریباً 150 کلومیٹر کا فیصلہ طے کرکے سکھر بیراج پر پہنچے جہاں پر وہ اپنے حصے کی پانی کی فراہمی کے لیے دھرنا دے کر بیٹھ گئے ہیں۔
"پینے اور جینے کے لئے پانی دو!" یہ محض ایک سیاسی نعرہ نہیں، بلکہ بلوچستان کے تپتے ہوئے میدانوں سے اٹھی وہ دہائی ہے جو پچھلے تین روز سے سکھر بیراج کے کنارے گونج رہی ہے۔ اوستہ محمد اور نصیر آباد ڈویژن کاشتکار اور زمیندار، اپنے مویشیوں اور سوکھتی فصلوں کا نوحہ لیے، سندھ کے آبپاشی نظام کے اس اہم گڑھ پر سراپا احتجاج ہیں۔ یہ احتجاج صرف ایک دھرنا نہیں، بلکہ وفاقِ پاکستان کے دو اہم صوبوں کے درمیان وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کی ایک زندہ اور دردناک تصویر ہے۔
بلوچستان ایک ایسا خشک خطہ ہے جس کے پاس کوئی دریا نہیں ہیں۔ اس کی زراعت کا کلیدی دارومدار انڈس بیسن (انڈس ریور سسٹم) کے نہری نظام پر ہے، جو سندھ کے بیراجوں سے ہو کر بلوچستان پہنچتا ہے۔ 1991ء کے تاریخی آبی معاہدے (Water Apportionment Accord) کے تحت، بلوچستان کو پیٹ فیڈر کینال سے 6,700 کیوسک اور کیرتھر کینال کے ذریعے سکھر بیراج سے 2,400 کیوسک پانی ملنا چاہیے۔ لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ کاغذوں پر موجود یہ ہندسے زمین پر کبھی پورے نہیں اتر سکے۔ شدید زرعی اور معاشی بحران موجودہ سیزن چاول کی کاشت کا پیک سیزن ہے۔
کاشتکاروں کو اس نازک مرحلے پر پانی کی اشد ضرورت ہے، لیکن کیرتھر کینال میں پانی کی مسلسل اور شدید قلت نے لاکھوں ایکڑ کھڑی چاول کی پنیری کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ گزشتہ روز بلوچستان کے تین صوبائی وزراء میر محمد صادق عمرانی، سلیم احمد کھوسہ اور محمد خان لہڑی نے دھرنے میں آئے دھرنے کے شرکاء کے ساتھ اظہار یک جہتی کی اور بتایا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے بات کی اور تمام حقائق سے آگاہ کیا۔ جس پر وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے یقین دلایا کہ 24گھنٹوں پانی کی صورتحال بہتر ہو جائے گی۔
واضح رہے کہ محکمہ ایریگیشن سندھ کے اہلکاروں کی آشیرباد سے سندھ کے بااثر جاگیردار غیر مجاز راستوں (Direct Outlets) سے بلوچستان کے حصے کا پانی چوری کر رہے ہیں، صوبائی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔ تکنیکی بہانے ہیں جب بھی یہ مسئلہ اٹھتا ہے، سندھ آبپاشی حکام سکھر بیراج پر "پونڈ لیول" (Pond Level) کی کمی یا مجموعی طور پر دریائے سندھ میں پانی کی قلت کا تکنیکی عذر پیش کرتے ہیں۔ ارسا (IRSA) کے قوانین کے مطابق، ملک میں پانی کی مجموعی شارٹیج کا بوجھ بلوچستان پر اس طرح نہیں ڈالا جا سکتا کیونکہ اس کا نہری حصہ پہلے ہی بہت محدود ہے۔ جو کہ آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہے لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ ٹیل (Tail-end) پر موجود بلوچستان کے کسان ہمیشہ سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
اگرچہ اب دھرنے اور اعلیٰ سطحی مذاکرات کے بعد سندھ حکومت کے متعلقہ حکام نے آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں میں پانی بحال کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے، لیکن یہ عارضی حل ہے۔ جب تک پانی کی چوری روکنے کے لیے ڈیجیٹل ٹیلی میٹری سسٹم (Telemetry System) فعال نہیں کیا جاتا اور دونوں صوبوں کے درمیان اعتماد کی فضا قائم نہیں ہوتی، یہ بحران ہر سال اسی شدت سے سر اٹھاتا رہے گا۔ پانی صرف فصلوں کے لیے نہیں، بلکہ اب پینے کے لیے بھی نایاب ہو چکا ہے۔ وفاق اور ارسا کو چاہیے کہ وہ بلوچستان کے کسانوں کے اس معاشی قتل عام کو روکیں اور انہیں ان کا آئینی حق دلائیں، کیونکہ پانی کے بغیر نہ زراعت ممکن ہے اور نہ ہی زندگی۔

