Tuesday, 21 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Syed Mehdi Bukhari
  4. Munda Ziyada Sanwla Aye

Munda Ziyada Sanwla Aye

منڈا زیادہ سانولا اے

دنیا کے کئی ممالک میں جانا ہوا مگر کلبوں کے اندر جھانکنے کا شوق پیدا نہیں ہو پایا۔ یوں نہیں کہ برائے مشاہدہ دیکھے نہیں۔ تین چار بار باقاعدہ ٹکٹ لے کر اندر گیا اور ایک چکر لگا کے پانچ منٹ بعد باہر نکل آیا۔ صرف ایک بار ایسا ہوا کہ موسیقی کی دُھن پر تھوڑے سے پاؤں چلے۔ یہ پرتگال کا شہر پورٹو تھا۔

گزرتے گزرتے ایک کلب سے آواز آ رہی تھی "چل چھئیاں چھئیاں چھئیاں چھئیاں"۔ یہ گانا سُن کر مجھے لگا کہ ذرا اندر جھانک لوں شاید دیسی لوگوں کا اکٹھ ہی ہو۔ بیس یورو کی انٹری ٹکٹ تھی۔ میں اندر چلا گیا۔ ایک تو اس کلب کا ساؤنڈ سسٹم دیوہیکل تھا یعنی اس قدر اونچا اور بیس سے بھرپور کہ کسی بندے بشر کا شور سنائی نہیں دیتا تھا۔ ڈی جے شاید دیسی تھا اس نے گانا رپیٹ پر چلایا ہوا تھا اور اس کی دُھن پر سارا ماحول مست تھا۔ وہ ناچم ناچ مچا ہوا تھا الاماں۔

میں تو ایسے ہی ماحول کا مشاہدہ کرنے گیا تھا اور یہ سوچ کر کہ شاید اندر بھارتی یا پاکستانی یا بنگالی لوگ مل جائیں تو چلو گپ شپ ہی ہو۔ مگر اندر یورپی لوگ تھے یا نان دیسی سیاح تھے۔ جب سپیکروں پر بول گونجے "وہ جس کی زباں اُردو کی طرح" تو یہ سنتے ہی میرا بھی ایک سٹیپ از خود نکل گیا۔ بھائیو ماحول ہی ایسا تھا، اوپر سے لاؤڈ میوزک وہ بھی دیسی۔ اب میں وثوق سے تو نہیں بتا سکتا کہ اس وقت میں نے کتنے سٹیپ مارے ہوں گے۔

البتہ اچانک ہوا یوں کہ جب بول آئے "میں اس کے روپ کا شیدائی وہ دھوپ چھاؤں سا ہرجائی" تو میرا کاندھا دو نامحرم عفیفاؤں سے ٹکرایا۔ انہوں نے پلٹ کر ایک لحظہ دیکھا مگر ایک مخدومہ نے تو کوئی خاص توجہ نہ دی اور پھر اپنے رقص میں محو ہوگئی البتہ دوسری عفیفہ نے گلا پھاڑ کے کچھ کہا۔ میوزک اس قدر لاؤڈ تھا کہ میں اس کی آواز نہ سُن پایا مگر اس کے چہرے کے تاثرات بتا رہے تھے کہ وہ خوش نظر آ رہی ہے۔ بس اسی لمحے میرے اندر سے آواز آئی کہ شاہ نامحرموں سے ٹکرانا سراسر قبیح فعل ہے۔ پس اس کے بعد میں خارجی دروازے سے باہر نکل گیا اور سوچا کہ اب یہ دونوں کبھی تو باہر آئیں گی۔ باہر نکل کر سگریٹ نوشی کی۔ آدھ گھنٹہ اسی سٹریٹ میں چکر لگائے۔ مگر ان کی آمد کے دور دور تک کوئی آثار نظر نہ آئے۔ مجھے بس یہ جاننا تھا کہ اس مخدومہ نے مجھے کیا کہا تھا۔

بلآخر مایوس ہوگیا تو اندر سے شیطان سے آواز لگائی کہ شاہ جی اُٹھو اب کوچ کرو۔ ہوٹل کی راہ لیتے دو محاورے بدل بدل کر میرے ذہن میں گونجتے رہے۔ "انگور کھٹے ہیں" اور "آم کے آم گھٹلیوں کے دام"۔ اس دن کے بعد سے میں کبھی کہیں نہیں گیا۔ ہاں، روس کے شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں اپنی میزبان کے ساتھ جانا ہوا تھا مگر وہ ویسا ناچمیلا کلب نہیں تھا۔ میوزک تو لاؤڈ تھا البتہ حاضرین محفل شانت تھے۔ وہاں سب نے ہاتھوں میں لافنگ گیس سے بھرے غبارے تھام رکھے تھے۔ وہ رہ رہ کر غبارے کو منہ لگاتے، لافنگ گیس کو اپنے پھیپھڑوں میں بھرتے اور پھر ہیپی ہیپی موڈ میں آپسی گفتگو کرنے لگتے۔ ایک غبارہ مجھے بھی تھمانا چاہا مگر میں نے تجربہ کرنے سے معذرت کر لی۔ کچھ دیر بعد باہر نکلا، سگریٹ سلگایا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ اسی اثناء میں ایک روسی دوشیزہ باہر نکلی اور اس نے زمین پر بیٹھ کر قے کر دی۔ گمان غالب ہے اس نے پورا غبارہ کھینچ لیا ہوگا۔ میں نے مولا کا شکر ادا کیا اور وہاں سے کوچ کر گیا۔

سکاٹ لینڈ میں انعام رانا بھائی ایک پرانے انگلش پب میں لے گئے۔ اس پب کی تاریخی اہمیت تھی۔ وہ ایک سو ساٹھ سال پرانا تھا جس کی دیواریں اور چھت ابھی بھی محفوظ تھیں۔ وہاں بزرگ سکاٹ لوگ بیٹھے مہ نوشی میں مصروف تھے اور ساتھ کیرم سے مشابہ کوئی کھیل کھیل رہے تھے۔ ہم دونوں نے کوک لی اور مشاہدہ کرنے لگے۔ کچھ دیر گزری، وزٹ ہوگیا تو میں نے انعام بھائی کو کہا کہ چلو اب نکلیں؟ انعام بھائی بولے "او بہہ جا، ہجے او میم نے نچن لگ پینا اونوں ویخ کے جانے آں"۔ انہوں نے ایک مخدومہ کی جانب اشارہ کیا۔ میں نے دیکھا تو ایک پچاس سالہ مخدومہ فینسی لباس زیب تن کیے نکڑ میں بیٹھی تھی۔ ان کو دیکھ کر میں نے انعام بھائی کو کہا "بھائی! آپ کے ذوق کو سلام، مگر ماں جی کا رقص ہو یا گانا، یہ مجھ سے نہ دیکھا جائے گا"۔ انعام بھائی بولے "سالے! ڈیڑھ سو سال پرانا پب اے، یہاں بیٹھا ہر بندہ ستر سال کا ہے، ان میں پچاس سالہ رقاصہ ہی جوان ہوگی ناں"۔

میں یہ سُن کر باہر نکل گیا۔ پیچھے پیچھے انعام بھائی بھی آ گئے۔ گاڑی چلی تو وہ کہنے لگے "ویسے اس کی آواز بہت اچھی تھی، مجھے گلاسگو یونیورسٹی میں پڑھتے اپنے دور کی محبوبہ کی امی یاد آ گئی جس نے رشتے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا تھا کہ منڈا زیادہ سانولا اے۔ اس کی صورت بھی اس سے ملتی جلتی تھی"۔

Check Also

EPR Paradox

By Mohammad Saleem