Tuesday, 14 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Syed Mehdi Bukhari
  4. Mapogo Gang

Mapogo Gang

میپوگو گینگ

ساؤتھ افریقہ کے سابی سینڈز جنگل میں سنہ 2006 میں چھ نر شیر اکٹھے ہوئے جو شیروں کے فطری روئیے کے ساتھ جنگلی حیات کی تقدیر بدل کر رکھ دینے والے تھے۔ سنہ 2006 سے سنہ 2012 تک یعنی چھ سال ان کا گروہ جنگلی حیات کے منظر پر چھایا رہا۔ شیروں کے اس گینگ کا کا نام میپوگو پڑا۔ نام کسی فلسفی نے نہیں رکھا تھا بلکہ ساؤتھ افریقہ کی ایک بدنام زمانہ سیکیورٹی کمپنی کے نام پر پڑا جو مجرموں سے ہماری سی سی ڈی جیسا سلوک کرتی تھی۔ جنگلی حیات کے ماہرین اور پارک رینجرز نے سوچا ہوگا کہ ان شیروں کے مزاج کے لحاظ سے اس سے بہتر نام اور کیا ہو سکتا ہے۔ بہرحال، ان چھ شیروں کے گینگ کو سولہ سال مسلسل واچ کیا گیا۔ فلمایا گیا اور سنہ 2015 میں یعنی اس گینگ کے خاتمے کے بعد ان کی کہانی "Brothers In Blood: Lions of Sabi Sands" امریکی چینل "اینمل پلانٹ" نے نشر کی۔

عام طور پر شیر جب کسی نئے علاقے یا حریف کے علاقے میں داخل ہوتے ہیں تو خاموش رہتے ہیں۔ پہلے جائزہ لیتے ہیں، پھر موقع دیکھتے ہیں اور پھر مخالف پر وار کرتے ہیں۔ مگر میپوگو گینگ کے شیر دھاڑتے ہوئے داخل ہوتے تھے۔ ان کے نام بھی پارک رینجرز نے بڑے رنگین رکھے تھے۔ ماکولو، ڈریڈ لاکس، پریٹی بوائے، راسٹا، کنکی ٹیل اور مسٹر ٹی۔ ان میں سے پانچ سگے بھائی تھے۔ صرف ماکولو باہر سے آیا تھا اور وہی اس گینگ کا "چیف" یا الفا میل لائن بنا اور یہ انتہائی غیر معمولی بات تھی۔

شیر عام طور پر دو تین کے اتحاد میں ہوتے ہیں اور یہ اتحاد بھی سگے بھائیوں میں ہوتا ہے۔ اول، چھ کا اتحاد غیر معمولی بات تھی۔ دوم، باہر سے کسی شیر کو اپنے ساتھ شامل کرنا ناممکن حد تک کی بات تھی۔ یہ شیروں کی فطرت نہیں تھی۔ مگر یہی ان کی اصل طاقت بنی۔ باہر سے آئے Nomad lion یعنی ماکولو کو پانچ نر شیر بھائیوں نے تسلیم کیا اور پھر انہوں نے اسی کی قیادت میں ایک ایک کرکے آزو بازو کے علاقے کے نر شیروں کو ختم کرنا شروع کیا۔ پھر مادائیں، پھر بچے۔ ایک سال کے اندر انہوں نے سو سے زیادہ شیر مار ڈالے۔ آٹھ مخالف شیر خاندانوں پر قبضہ جمایا اور اپنے علاقے کی حد تین سو اسکوئر کلومیٹر تک بڑھا ڈالی۔ ان کا علاقہ ساؤتھ افریقہ کے سب سے بڑے نیشنل پارک کروگر نیشنل پارک تھا جس کا رقبہ 640 اسکوئر کلومیٹر ہے۔

قدرتی اصول کے مطابق نیا غالب نر یا غالب گروہ کا چیف پرانے یا مخالف چیف کی اولاد ختم کرتا ہے تاکہ اپنی نسل آگے بڑھا سکے۔ مگر میپوگو گینگ نے اس اصول کو بھی ہائی سپیڈ پر چلا دیا۔ وہ صرف مخالف اور اس کے بچوں کو مارتے نہیں تھے، بلکہ چیف ماکولو شیروں کی فطرت کے برعکس بعض اوقات انہیں کھاتا بھی تھا۔ شیر اپنی جنس کو کبھی نہیں کھاتے۔ یہ شاید ماکولو کا اپنے ساتھی پانچ سگے بھائیوں پر بھی دہشت بٹھانے کا انداز تھا۔ صرف شیر ہی نہیں ان کی شکار کی فہرست بھی حیران کن تھی۔ جنگلی بھینسے، زرافے، گینڈے اور دریائی گھوڑے تک ان کی طاقت کا نشانہ بنتے رہے اور بسا اوقات بھوک یا کھانے کی غرض سے بھی نہیں، صرف خونریزی کی غرض سے۔ گویا انہیں صرف زندہ رہنا کافی نہیں تھا بلکہ انہیں اپنی برتری ہر جاندار پر ثابت کرنی تھی۔

چند برسوں میں انہوں نے آٹھ شیری خاندانوں پر قبضہ کر لیا۔ جنگل اور جنگلی حیات کا پورا نقشہ بدل گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کی کامیابی کی بنیاد اتحاد تھا، مگر زوال کی بنیاد بھی وہی اتحاد بنا۔ ماکولو اور مسٹر ٹی کے درمیان چار سال بعد برتری کی لڑائی شروع ہوئی۔ اقتدار جب مشترک ہو تو مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ہر شریک خود کو اصل مالک سمجھنے لگتا ہے۔ یہ بیماری صرف شیروں تک محدود نہیں۔ لڑائی کا سبب بنی ایک شیرنی جس کے ساتھ چیف ماکولو کے تعلقات تھے مگر مسٹر ٹی اس شیرنی کو ہتھیانا چاہتا تھا۔ اس لڑائی میں مسٹر ٹی چیف ماکولو سے مار کھا کر ہار گیا۔ وہ شدید زخمی ہوا اور اسے قانون فطرت کے مطابق علاقہ چھوڑ کر جانا پڑا۔ لیکن جانے سے پہلے اس نے خلافِ فطرت اس شیرنی پر حملہ کرکے اسے مار ڈالا اور پھر وہ بھی ماکولو کی فطرت کی مطابق اس شیرنی کو کھانے لگا۔ شیر یوں نہیں کرتے، وہ شیرنیوں پر حملہ کرکے انہیں جان سے نہیں مارتے اور ہم جنس کو نہیں کھاتے۔

پھر ایک ایک کرکے حادثے ہوئے۔ کنکی ٹیل اکیلا پھرتا مخالف شیروں کے ہاتھوں مارا گیا۔ ایک دن مسٹر ٹی کو بھی مخالف شیروں نے گھیر کر مار دیا۔ اُن شیروں کا علاقہ یہ ہتھیا چکے تھے اور وہ اپنی جان بچا کر بھاگ نکلے تھے اور میپوگو گینگ سے چھپ چھپ کر رہتے تھے۔ باقی تین بکھر گئے یعنی گینگ چھوڑ کر چلے گئے اور بلآخر اکیلے اکیلے مر گئے۔ آخر میں بوڑھاچیف ماکولو رہ گیا تھا جو تقریباً پندرہ برس تک زندہ رہا۔ ماکولو کی سلطنت سمٹتے سمٹتے محدود سی رہ چکی تھی۔ ماکولو کی موت سنہ 2015 میں ہوئی۔

میپوگو جب عروج پر تھے اور مخالف شیروں کا تیزی سے خاتمہ کرتے ہوئے اپنے علاقے کو بڑھاتے جا رہے تھے اس وقت ماہرین جنگلی حیات میں یہ بحث سر اٹھانے لگی کہ ان چھ شیروں کو کسی طرح (قید یا محدود کرکے) روکنا ضروری ہوگا ورنہ یہ باقی شیروں کا مکمل صفایہ کر دیں گے اور پھر یہ بھی کہ ان شیروں کی فطرت سراسر الگ ہے یا ہٹ کر ہے جو حیران کن بھی ہے اور خطرناک بھی ہے۔ یہ بحث کانفرنسوں میں ڈھلی اور فیصلہ یہ ہوا کہ جنگل میں خونریزی ظلم نہیں ہوتی۔ اسے نظامِ فطرت کہا جاتا ہے۔ اگر ہر طاقتور کو روکنا شروع کر دیں تو پھر جنگل اور چڑیا گھر میں فرق ہی کیا رہ جائے گا۔

اصل سبق مگر اور ہے۔ چھ شیروں نے مل کر پورا علاقہ بدل دیا مگر وہ خود مستقل نہ رہ سکے۔ طاقت نے انہیں جوڑا، طاقت ہی نے توڑا۔ کل وہ دوسروں کی نسل ختم کر رہے تھے، آج ان کا نام صرف دستاویزی فلموں اور رینجرز کی کہانیوں میں رہ گیا ہے۔

آپ اگر چاہیں تو اس قصے کو صرف جنگلی حیات کی داستان سمجھ کر بھول جائیں اور اگر ذرا سا غور کریں تو آپ کو اپنے اردگرد بھی کئی چھوٹے بڑے میپوگو دکھائی دینے لگیں گے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کسی کے پاس پنجوں کی جگہ مائیک، خونخوار دانتوں کی جگہ وزارت یا اعلیٰ عہدے، وردی یا سرمایہ ہوتا ہے۔ باقی اصول وہی رہتے ہیں۔ اتحاد بناؤ چاہے غیر فطری ہی کیوں نہ ہو، علاقے سنبھالو، مخالف ہٹاؤ اور پھر ایک دن اپنے ہی ساتھیوں کا حساب بھی بیباک کر دو۔

تاریخ کے بعض کردار انسان نہیں ہوتے مگر کبھی کبھی انسانوں کو سمجھنے کے لیے ان سے بہتر استاد بھی کوئی نہیں ہوتا۔

Check Also

Punjab Taleemi Inqilab Ki Janib

By Sajid Ali Shmmas