Guldaston Ke Peeche Chupa Nizam
گلدستوں کے پیچھے چھپا نظام

معاشروں کے عروج و زوال میں طرزِ حکومت اور عوامی رویوں کا بہت گہرا تعلق رہا ہے۔ ہزار سال پہلے دنیا میں بادشاہی نظام رائج تھا جہاں رعایا اپنے بادشاہوں کے سامنے سر جھکاتی تھی اور ان کی خوشامد کو بقا کا ذریعہ سمجھتی تھی۔ وقت بدلا، جدید ریاست کا تصور ابھرا اور جمہوری و انتظامی ڈھانچے وجود میں آئے۔ جدید جمہوری ریاست کا بنیادی فلسفہ یہ تھا کہ بیوروکریسی یا انتظامی افسران عوام کے حاکم نہیں بلکہ "خادمِ خلق" ہیں، جنہیں ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے تنخواہ اور مراعات اس لیے دی جاتی ہیں تاکہ وہ میرٹ پر فیصلے کریں اور عوام کے مسائل حل کریں۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں آج بھی ذہنی اکھاڑ پچھاڑ اور غلامانہ ذہنیت کا وہ تسلسل برقرار ہے جو کسی نئے بیوروکریٹ کے چارج سنبھالتے ہی نمایاں ہو جاتا ہے۔ جیسے ہی کوئی انتظامی افسر کسی نئے شہر میں ٹرانسفر ہو کر چارج لیتا ہے، تو گلدستوں، ہاروں اور مٹھائیوں کے ڈبوں کے ساتھ خود ساختہ عوامی نمائندوں اور شہریوں کا ایک لامتناہی تانتا بندھ جاتا ہے۔ یہ منظر دیکھ کر یوں گمان ہوتا ہے جیسے کوئی مسیحا زمین پر اترا ہو، حالانکہ وہ افسر محض اپنی اس سرکاری ڈیوٹی کا آغاز کرنے جا رہا ہوتا ہے جس کے لیے ریاست اسے ماہانہ تنخواہ ادا کرتی ہے۔
آج ہمارے ملک میں یہ روایت ایک کینسر کی طرح جڑ پکڑ چکی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر شہریوں کا یہ عمل کس نفسیات یا مجبوری کی عکاسی کرتا ہے؟ جب ہم اس صورت حال کا گہرائی سے جائزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس والہانہ استقبال کے پیچھے کوئی مخلصانہ عقیدت یا حب الوطنی نہیں ہوتی، بلکہ سراسر ذاتی مفادات، خوف اور کام نکلوانے کی سستی خواہش چھپی ہوتی ہے۔ شہر کے نام نہاد معززین، تاجر برادری کے خود ساختہ لیڈران اور بااثر شخصیات سب سے پہلے صاحبِ بہادر کے دفتر پہنچ کر اپنی وفاداری کا یقین دلانا چاہتے ہیں تاکہ مستقبل میں ان کے جائز و ناجائز کام آسانی سے ہو سکیں۔ یہ دراصل اس بات کا اعتراف ہے کہ ہمارا عام شہری نظام پر بھروسہ کرنے کے بجائے تعلقات پر یقین رکھتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اگر قانون اور میرٹ کے راستے سے جائیں گے تو کام لٹکا رہے گا، لہٰذا صاحب کی خوشامد کرکے شارٹ کٹ راستہ اختیار کرنا ہی دانشمندی ہے۔
اس خوشامدی کلچر کا سب سے ہولناک اثر انتظامی افسروں کی فیصلہ سازی اور میرٹ پر پڑتا ہے۔ ایک انسان جتنا بھی اصول پسند کیوں نہ ہو، جب اسے دن رات یہ باور کرایا جائے کہ حضور! آپ جیسا تو کوئی آیا ہی نہیں، آپ کی آمد سے اس شہر کی تقدیر بدل گئی ہے، تو وہ غیر محسوس طریقے سے نرگسیت اور تکبر کا شکار ہونے لگتا ہے۔ جب یہ افسران خوشامدی ٹولے کے گھیرے میں آ جاتے ہیں تو ان کا عام آدمی اور زمینی حقائق سے رابطہ بالکل کٹ جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں میرٹ پر فیصلہ سازی کا تصور ہی دم توڑ دیتا ہے۔ جو شخص گلدستے لے کر روز حاضری بھرتا ہے، صاحب کا قلم لاشعوری طور پر اسی کے حق میں گھومتا ہے، چاہے وہ قانون کی صریحاً خلاف ورزی ہی کیوں نہ ہو۔ اس طرح پورا انتظامی نظام معلول ہو جاتا ہے اور عام شہری انصاف کے لیے دھکے کھاتا رہتا ہے۔
رہی سہی کسر ڈیجیٹل دور کے اس جدید کلچر نے پوری کر دی ہے جہاں سوشل میڈیا پر "صاحب" کے ہرکارے سرگرم ہو جاتے ہیں۔ فیس بک، ٹوئٹر اور واٹس ایپ گروپس میں نئے آنے والے افسر کی ایسی ایسی غائبانہ خصوصیات، ایمانداری کے قصے اور "دبنگ" انداز کو اجاگر کیا جاتا ہے جن کا یقیناً خود صاحب کو بھی علم نہیں ہوتا۔ کسی اسسٹنٹ کمشنر، اے ایس پی یا ڈپٹی کمشنر کا مارکیٹ کا ایک عام دورہ کرنا یا کسی دکان پر جرمانہ عائد کرنا سوشل میڈیا پر ایسے پیش کیا جاتا ہے جیسے کوئی بہت بڑا معرکہ سر انجام دے دیا گیا ہو۔ یہ ہرکارے دراصل ڈیجیٹل دور کے وہ مراثی ہیں جن کا کام صرف اور صرف صاحب کی خوشنودی حاصل کرنا اور اپنے پیج کی ریٹنگ بڑھانا ہوتا ہے۔ اس سستی شہرت کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ افسران ٹھوس کارکردگی دکھانے اور طویل المیعاد پالیسیاں بنانے کے بجائے صرف "سوشل میڈیا اسٹنٹ" اور سستی واہ واہ سمیٹنے پر توجہ دینے لگتے ہیں۔ مثبت تنقید اور مسائل کی حقیقی نشاندہی جو کسی بھی ترقی پذیر معاشرے کی فلاح و بہبود کا بنیادی جزو ہوتی ہے، اس شور میں کہیں دب کر رہ جاتی ہے۔
نظام کی اصلاح کے لیے حکومت کو بیوروکریسی کے لیے ایک سخت ضابطہ اخلاق وضع کرنا چاہیے، جس کے تحت چارج سنبھالنے کے بعد کسی بھی قسم کی عوامی استقبالیہ تقریب، گلدستے دینے یا سرکاری دفاتر میں فوٹو سیشن پر مکمل پابندی ہو۔ افسران کو پابند کیا جائے کہ وہ صرف دفتری امور پر توجہ دیں، جب تک نظام میں افسر کی صوابدید برقرار رہے گی، خوشامد ختم نہیں ہو سکتی۔ ہمیں تمام سرکاری سروسز کو ڈیجیٹلائز کرنا ہوگا تاکہ شہری کو اپنے جائز کام کے لیے کسی افسر کا چہرہ دیکھنے یا اس کے دفتر کے چکر کاٹنے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔ جب فائلیں کمپیوٹرائزڈ میرٹ اور وقت کے مطابق آگے بڑھیں گی تو گلدستے دینے کا کلچر خود بخود دم توڑ جائے گا۔
سرکاری افسران کے نام پر چلنے والے غیر سرکاری فین پیجز اور تشہیری مہم پر قانونی پابندی ہونی چاہیے۔ افسر کی کارکردگی کا جائزہ صرف اور صرف محکمے کے اندرونی کارکردگی کے اشاریوں سے لگایا جانا چاہیے، نہ کہ سوشل میڈیا کے لائکس اور ویوز سے۔ شہریوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ سرکاری افسران ہمارے آقا نہیں بلکہ عوام کے ٹیکسوں سے تنخواہ لینے والے ملازم ہیں۔ ان کا کام کرنا ہم پر کوئی احسان نہیں بلکہ ان کی قانونی ذمہ داری ہے۔ ہمیں شخصیت پرستی اور سستی واہ واہ کے کلچر سے نکل کر نظام کی اصلاح اور ٹھوس کارکردگی کا مطالبہ کرنا ہوگا۔ جب تک ہم خوشامد کو ایک سماجی برائی اور میرٹ کا قاتل تسلیم نہیں کریں گے، تب تک ہمارے شہروں کے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔

