Hamara Adalti Nizam
ہمارا عدالتی نظام

دنیا میں ہر دور میں نظام عدل قائم رہا جب بھی کسی علاقے میں نا انصافی ہوئی او وہ حد سے بڑھ گئی تو اسے اندھرے نظام سے تشبح دی گئی اس کے خاتمے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنا انصاف نازل فرمایا مثلاََ شعیبؑ کی قوم وزن میں کمی اور زیادتی کرتی تھی جب کسی کو مال دیتے تو کم دیتے اور جب کسی سے مال لیتے تو زیادہ لیتے اس قوم پر شعیبؑ بھیجے گئے آپ نے قوم کو اس کام سے روکا مگر وہ باز نہ آئے اللہ تعالی نے اسے تباہ کر دیا۔
فرعون نے اپنی قوم پر ظلم کیا اس کا بھی وہی نتیجہ نکلا قوم عاد اور ثمود بھی انہی وجوہات سے ہلاک کئے گئے۔ اس وقت بھی دنیا میں نظام عدل قائم ہے لیکن ہر ملک اور قوم کا میعار اپنا ہے۔ امریکہ میں ان کے کہنے کے مطابق عدالتیں آزاد ہیں اور انصاف پر مبنی فیصلہ کرتی ہیں۔ لیکن دیکھنے میں آیا ہے کہ یہاں حکومتی رٹ چیلنج ہو رہی ہو یا فیصلہ غیر امریکی کے حق میں ہو تو امریکہ کی عدالتیں بھی خاموش ہو جاتیں ہیں یا اپنا فیصلہ تبدیل کر دیتیں ہیں یہی صورت یورپی ممالک کی ہے۔ انڈیا میں عدالتیں آزاد ہیں لیکن وہ بھی مسلمانوں کے خلاف فیصلہ بہت جلد اور ان کے حق میں بہت دیر سے یا ہوتا ہی نہیں۔
پاکستان میں نظام عدل بہت ہی نا قص ہے۔ غریب آدمی کے بس سے تو بالکل با ہر ہے۔ کمزور آدمی خواہ وہ مالی طور پر یا ذہنی طور پر کمزور ہو اسے انصاف نہیں ملتا مجھے ایک دفعہ عدالت جانے کا اتفاق ہوا مجھے اطلاع ہی نہیں دی گئی اور میرے خلاف ڈگری ہوگئی جب ڈگری ہوگئی تو مجھے بذ ریعہ ڈاک اطلاع دی گئی میں عدالت پہنچا وکیل کیا اور عدالت میں درخواست دی کہ مجھے اطلاع نہیں ملی اس بنا پر مجھے صفائی کا موقع دیا جائے اس پر چھ ماہ لگ گئے اس کے بعد مجھے صفائی کا موقع دیا گیا تو وکیل صاحب نے فرمایا کہ جو کیس دائر کیا تھا وہ مکمل ہوگیا اب نیا کیس دائر کرنا ہے اس لئے فیس بھی دوبارہ ادا کرنی ہوگی فیس دوبارہ دی گئی اور مقدمہ درج ہوگیا وہ بھی آٹھ ماہ بعد ختم ہوا اسطرح تقریباََ 15سے 18 ماہ چھوٹے سے مقدمہ میں لگے۔
عدالت میں ریڈر پچاس روپے لے کرنئی تاریخ دے دیتا ہے جبکہ مخالف عدالت کے باہر کھڑا دیکھتا رہ جاتا ہے۔ عدالت میں 100 روپے میں گواہ مل جاتا ہے جبکہ جج صاحب کو اس بات کا پتہ ہوتا ہے کہ یہ کرائے کا گواہ ہے ھر روز کسی نہ کسی مقدمہ میں گواہی دے رہا ہوتا ہے۔ عدالت میں کاغذات کی تصدیق کا نظام بھی درست نہیں اوتھ کمشنر صاحاب بیس روپے لیتے ہیں ان سے جو مرضی تصدیق کروا لیں بے شک کسی چیز کا وجود تک نہ ہو وہ تصدیق کر دیتے ہیں ان کی کوئی پڑتال نہیں ہوتی جبکہ اگر کوئی سرکاری آفیسر غلط تصدیق کر دے اور پتہ چل جائے تو اس کو نوکری تک سے نکال دیا جاتا ہے۔
جب کوئی عدالت میں مقدمہ دائر کرواتا ہے وکیل کی پوری کوشش ہو تی ہے کہ مخالف فریق مقدمہ کا پتہ نہ چل جائے اور جلد ازجلد مخالف کے خلاف ڈگری ہو جائے اور اپنے موکل کو اپنی کامیابی کا یقین دلا سکے اور اپنی فیس مکمل کر سکے۔ اندر کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں انصاف کی باقاعدہ خرید و فروخت ہوتی ہے جس کی جتنی پہنچ ہوتی ہے وہ اس کے مطابق خرچ کر لیتا ہے اور غریب آدمی کی تو پہنچ سے ہی دور ہے۔ حالانکہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے اس کو عدل وانصاف کے معاملہ میں معیاری ہونا چاہیے۔
ویسے تو جہانگیر بادشاہ کی زنجیر عدل کی طرح پنجاب میں بھی عدل کی زنجیر موجود ہے، خادم اعلیٰ پنجاب نے CM COMPLAIN CELL قائم کیا ہے میں نے اس سیل میں ایک کمپلین درج کروائی جب دو ماہ تک کوئی جواب نہ آیا تو دوبارہ یاد کروایا لیکن جواب نہ آیا پھر یاد کروایا اس کے ایک ماہ بعد ڈی سی او صاحب کی طرف سے پٹواری صاحب گھر پر تشریف لائے اور معلومات لے کر چلے گئے۔ اس کے 15 دن بعد DSP صاحب کے آفیس سے فون آیا کہ کل آپ کی ڈی ایس پی صاحب کی پیشی ہے میں اگلے دن مقررہ وقت پر پہنچا پتہ چلا کہ میرا مخالف پہلے ہو کر چلاگیا ہے اور مجھے کہا گیا کہ یہ کیس عدالت کا ہے اس لئے عدالت سے رجوع کریں اور میری درخواست دفتر داخل کر دی گئی۔

