Friday, 24 July 2026
  1.  Home
  2. Nusrat Javed
  3. Petroleum Narkh Rozana Barhne Ke Taziyane

Petroleum Narkh Rozana Barhne Ke Taziyane

پٹرولیم نرخ روزانہ بڑھنے کے تازیانے

انتہائی آمرانہ اور سفاک حکومتیں بھی اس امر کو یقینی بناتی ہیں کہ ان کی رعایا مستقل بے چینی میں مبتلا نہ رہے۔ اسی باعث ان کی "تفریح" کے لئے روم کے حکمرانوں نے ہر بڑے شہر میں اکھاڑے بنائے جہاں غلاموں کو شیروں سے مقابلے کے لئے چھوڑ دیا جاتا۔ دورِ حاضر میں اپنے عوام کو آزادی اظہار سے قطعاََ محروم رکھنے والی حکومتیں کھیلوں کے فروغ پر توجہ مبذول رکھتی ہیں۔ روس کمیونسٹ دنیا کاقائد ہوتے ہوئے اولمپک مقابلوں میں اکثردیگر ممالک سے سب سے کہیں زیادہ طلائی تمغے حاصل کیا کرتاتھا۔ روزمرہّ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں پر بھی آمرانہ حکومتیں کڑی نگاہ رکھتی ہیں۔

ہمارے ہاں اپریل 2022ء سے جو حکومتی بندوبست متعارف ہوا ہے وہ "ہائی برڈ" کہلاتا ہے۔ ریاست کو دیوالیہ سے محفوظ رکھتے ہوئے اسے "ہارڈ" بنانے کا متمنی بھی ہے۔ "رعایا" کے جذبات سے مگر حیران کن حد تک لاتعلق ہے۔ ہر اعتبار سے مریضانہ حد تک متعصب شخص ہی یہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ رواں برس کے مارچ میں اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران پر مسلط کی جنگ کے بعد پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ بے جواز ہے۔ پٹرول، ڈیزل اور گیس کے حصول کے لئے ہم خلیجی ممالک پر کامل انحصار کے دہائیوں سے عادی ہیں۔

ان میں سے سعودی عرب جیسے ملک ہمیں ادھار پر بھی تیل فراہم کرتے ہیں۔ ان ممالک سے آئی پٹرولیم مصنوعات کو مگر آبنائے ہرمز سے گزار کر پاکستان کی بندرگاہوں تک پہنچنا ہوتا ہے اور آبنائے ہرمز اب محفوظ نہیں رہی۔ حیران کن مزاحمت کے بعد ایران نے اس آبنائے کے ذریعے بحری تجارت پر کامل کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ وہ مصر ہے کہ تیل بردار جہاز محض ان "آبی شاہراہوں " سے گزریں جن کی حفاظت اس نے یقینی بنارکھی ہے۔ وہاں سے گزرنے کی وہ فی الوقت راہداری وصول کرنے کا متقاضی بھی نہیں تھا۔ امید مگر باندھے ہوئے تھا کہ جنگ بندی کے بعد ایک ماہ کے دوران ہوئے مذاکرات کے ذریعے اس کے راہداری فرا ہم کرنے کے عوض "ٹول ٹیکس" نما رقم کا تعین بھی کردیا جائے گا۔

مذاکرات کی میز پر بیٹھنے سے قبل ایران نے 28فروری اور مارچ کی رات شہید ہوئے اپنے رہبر اعلیٰ کی تدفین کا فیصلہ کیا۔ رسومات تدفین کے لئے سات دن مختص کئے۔ سوگ کے ان سات دنوں میں امریکہ نے دنیا کی بڑی کمپنیوں کو اُکسایا کہ وہ تیل سے بھرے دیوہیکل جہاز ایران کے ساحل کو چھوتے پانیوں کے بجائے آبنائے ہرمز کے ان پانیوں سے گزاریں جو عمان کے زیر نگین تصور ہوتے ہیں۔ جہازوں نے مگر جب یہ راستے اختیار کئے تو ایرانی میزائل اور ڈرون متحرک ہوگئے۔ امریکہ جوابی حملوں میں مصروف ہوگیا۔ امریکہ کے جوابی وار کے جواب ایران نے خلیج ہی نہیں اردن تک پھیلی امریکہ کی فوجی تنصیبات پر حملوں کی صورت دینا شروع کردئے۔ آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل یوں ناممکن بنادی گئی۔

آبنائے ہرمز پر محتاجی سے سعودی عرب کافی حد تک محفوظ رہا تھا۔ اپنے 70فی صد تیل کو وہ پائپ لائنوں کے ذریعے ینبع نامی بندرگاہ تک پہنچاتا رہا۔ وہاں سے یہ تیل یمن کے ساحلوں سے گزرکر بحرہند میں داخل ہوجاتا ہے۔ ایران کے رہبر اعلیٰ کی تدفین کے بعد مگر یمن کے حوثی سعودی عرب سے بھیجے تیل بردار جہازوں پر میزائل اچھالنے کی دھمکی دینا شروع ہوگئے۔ پاکستان جیسے ممالک کے لئے یوں آبناے ہرمز کے بعد یمن کے ساحلوں کو چھوتا باب المندب بھی تجارت کے لئے کھلا اور محفوظ نہیں رہا۔ اس حقیقت کو ذہن میں رکھتے ہوئے کوئی فاترالعقل شخص ہی پاکستان میں تیل کی قیمتوں کو معمول کے مطابق رکھنے پر اصرار کرسکتا ہے۔

حقائق عوام کے روبرو رکھتے ہوئے ایران- امریکہ جنگ شروع ہوتے ہی تیل کی قیمتوں میں جو ناقابل برداشت اضافہ ہوا عوام کی اکثریت نے اسے ذمہ داری سے برداشت کیا۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے "بچت" کے نام پر متعارف کروائے اقدام کے روبرو بھی سرنگوں رکھا۔ پہلے سے سٹاک کئے تیل کی قیمتوں میں خلیج میں چھڑی جنگ کے نام پر جو اضافہ ہوا اس کے نتیجے میں تیل کے اجارہ دار سیٹھوں نے راتوں رات بھاری بھر کم منافع کمایا۔ اس منافع پر حکومت نے اضافی ٹیکس لگانے سے گریز کیا۔ ہماری کاوشوں سے جنگ بندی کے بعد مذاکرات کے ذریعے دیرپاامن کے امکانات روشن ہوئے تو وزیر اعظم نے براہ راست عوام سے خطاب کرتے ہوئے تیل کی قیمت میں قابل قدر کمی کا اعلان کیا۔ تیل کی تجارت کے اجارہ دار مذکورہ اعلان سے بلبلا اٹھے۔ دہائی مچانے لگے کہ انہیں مہنگے خریدے مال کو سستے داموں بیچنے کو مجبور کیا جارہا ہے۔

ماضی کی حکومتوں نے طویل سوچ بچار کے بعد تیل کی قیمتوں کو ہر پندرہ دن بعد طے کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ خلیجی جنگ کی وجہ سے مذکورہ روایت کو ہفتہ وار بنادیا گیا۔ تیل کے اجارہ دار سیٹھ مگر اصرار کرنا شروع ہوگئے کہ عالمی منڈی میں خلیجی جنگ کی وجہ سے پھیلی ابتری کو ذہن میں رکھتے ہوئے تیل کی قیمتوں کا تعین روزانہ کی بنیاد پر ہو۔

علمِ معیشت کا مجھے ککھ علم نہیں۔ بطور رپورٹر عوام کی روزمرہّ زندگی کے مسائل پر برسوں سے نگاہ رکھنے کی بدولت مگر اصرار کرنا شروع ہوگیا کہ پٹرولیم مصنوعات کا روزانہ کی بنیاد پر تعین ملک میں بے یقینی کو فروغ دے گا۔ تین سے زیادہ اہم وزراء اور 20کے قریب اعلیٰ افسران مگر نہایت حقارت سے مجھ جاہل کو سمجھاتے رہے کہ امریکہ ہی نہیں بھارت جیسے ملک میں بھی پٹرولیم مصنوعات کا تعین روزانہ کی بنیاد پر ہوتا ہے۔

وہاں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو تو وزیر اعظم نریندر مودی اس کا ذمہ دار ٹھہرایا نہیں جاتا۔ بازار اور طلب ورسد کی منطق ہی قیمتوں کے تعین کے حتمی ذمہ دار سمجھے جاتے ہیں۔ وزراء اور اعلیٰ افسران کی گفتگو سے مجھے اندازہ یہ بھی ہوا کہ وزیر اعظم کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمت طے کرنے کے "تھینک لیس (Thankless) "کام سے بالاتر رکھنے کی کوشش ہورہی ہے۔ اس حوالے سے بتایا گیا کہ وزیر اعظم نے جنگ بندی کے بعد ٹی وی سکرینوں پر آکر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں جس کمی کا اعلان کیا تھا اس کی "مناسب پذیرائی" نہیں ہوئی۔

روزانہ کی بنیاد پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے فیصلے کے بعد سے مگر پٹرول کا محتاج ہر شخص کرب اور بے چینی کے عالم میں ہے۔ بدھ کی صبح اٹھا تو علم ہوا کہ منگل کے روز پٹرول کی قیمت میں 35پیسے کی کمی ہوئی ہے۔ 24گھنٹوں بعد مگر اس میں پانچ روپے فی لیٹر اضافے کا اعلان ہوگیا۔ ساتھ ہی اطلاع یہ بھی آئی کہ پٹرول پمپ مالکان پٹرولیم مصنوعات کے روزانہ تعین والے فیصلے سے خوش نہیں۔ وہ بدھ کی رات سے ہڑتال پر جارہے ہیں۔ ہڑتال کے خوف سے میں بدھ کی سہ پہر تین پٹرول پمپوں پر ٹینک بھروانے گیا تو وہاں لمبی قطاریں لگی تھیں۔ سوچا دفتر سے لوٹتے ہوئے شام کو ڈرائیور بھیج کر ٹینکی بھروالوں گا۔ شام سات بجے کے بعد پٹرولیم کے جواں سال وزیر علی پرویز ملک مگر کیمروں کے روبرو آئے اور اعلان کردیا کہ ان کے دلائل سے مطمئن ہوکر پٹرول پمپ مالکان نے ہڑتال کا فیصلہ موخر کردیا ہے۔ ان کے اعلان کے بعد گھرلوٹتے ہوئے مختلف پٹرول پمپوں سے گزرا تو قطاریں غائب ہوچکی تھیں۔ مطمئن دل کے ساتھ گھر لوٹ آیا۔

طبی وجوہات مجھے نیند کی گولی لے کر سونے کو مجبور کرتی ہیں۔ اس کی بدولت سونے کے بعد جمعرات کی صبح آنکھ کھلی تو پٹرول کی قیمت میں 6روپے 39پیسے اضافے کی خبر ملی۔ گزشتہ دودنوں میں گویا ہر صبح پٹرول کے فی لیٹر کی قیمت میں اضافے کی خبرتازیانہ کی صورت دل کو ضرب لگاتی ہے۔ گزشتہ دو دنوں میں گیارہ روپے کے اضافے کا اعلان ہوا ہے۔ ہر صبح اضافے کی خبر دینے کے بجائے حکومت ہر ہفتے ہی اوسط قیمت کی بنیاد پر اضافے کا اعلان کردیا کرے تو ہمارا سارا دن یہ سوچنے میں نہیں گزرے گا کہ مجھے پٹرول کا ٹینک ہر وقت بھروائے رکھنا چاہیے یا نہیں۔ اسے بھروانے کے بعد صبح اٹھوں گاتو فائدے کے بجائے نقصان نہیں ہوگا۔ شہری متوسط طبقے کی بے پناہ اکثریت کو مسلسل اضطراب میں مبتلا رکھنے والی حکومت میں نے صحافت کو چار سے زیادہ دہائیاں دینے کے باوجود وطنِ عزیز میں کبھی نہیں دیکھی۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.

Check Also

Nai Nasal Ka Mustaqbil

By Najeeb ur Rehman