Nai Nasal Ka Mustaqbil
نئی نسل کا مستقبل

آج تعلیمی ادارے اپنی اہمیت کھو بیٹھے ہیں۔ سکول ہوں یا کالج یا پھر جامعات، ان میں سارا سال داخلے جاری رہتے ہیں مگر پھر بھی سیٹیں خالی رہ جاتی ہیں۔ داخلوں میں میرٹ پر سال گرتا جا رہا ہے۔ یہاں تک کہ میڈیکل کالجز میں بھی داخلے پورے نہیں ہو رہے۔ مقابلہ جاتی امتحانات یعنی سی ایس ایس وغیرہ میں نوجوان شرکت کرنا کم کر گئے ہیں کہ اول اس کا امتحان ٹف ہوتا ہے اور دوم انٹرویو میں ساری گڑ بڑ کی جاتی ہے جسے عرف عام میں "پرچہ آؤٹ" سمجھا جاتا ہے۔ یہ حقائق بتاتے ہیں کہ آج والدین کی نظروں میں تعلیمی ادارے محض پیسے کا ضیاع گردانے جا رہے ہیں۔
ہماری رائے میں والدین کا یہ گرداننا ان کے سٹھیا جانے کی وجہ سے نہیں بلکہ انکی دور اندیشی کی بدولت ہے۔ کیونکہ انہیں مکمل ادراک ہے کہ سرکاری ملازمتیں ختم ہو رہی ہیں۔ کنٹریکٹ سسٹم لاگو کیا جا چکا ہے۔ پنشن سسٹم ختم کر دیا گیا ہے۔ سرکاری ادارے پرائیویٹ کیے جا رہے ہیں۔ جو سرکاری محکمے باقی بچے ہوئے ہیں، ان کے ملازمین کی تنخواہیں اس قدر کم ہیں کہ دھکے سے ہی مہینہ بھر ہانڈی روٹی پوری ہوتی ہے۔ ان سے زیادہ تو ایک پھل فروش یا نان چنے کی ریڑھی والا کما لیتا ہے۔
تو قارئین اب سوال اور لمحہ فکریہ یہ ہے کہ ان مایوس کن حالات میں آج کے بچے جوان ہونے کے بعد خصوصاً ویاہ کے بعد گھر کی ہانڈی روٹی کیسے چلائیں گے اور چلانے کے لیے کیا کیا جتن کریں گے؟ اپنے سوشل اسٹیٹس کو کیسے بحال رکھ سکیں گے یا اسکی حفاظت کر سکیں گے؟ کیا ہر نوجوان ملک سے باہر جا کر کمانا چاہے گا؟ باہر جانا بھی تو حکومت نے آسان نہیں رہنے دیا، آئے روز من گھڑت وجوہات کے تحت لوگوں کو جہاز سے آف لوڈ کیا جا رہا ہے۔ گویا بیچارے پاکستانیوں کے حالات ایسے ہو گئے ہیں کہ جیسے بقول شہزاد احمد:
ہم خلاؤں کے رہنے والے ہیں
خاک اپنی نہ آسماں اپنا
بچوں کے روشن مستقبل کے سوال کا جواب یہ ہے کہ نئی نسل کو رسمی تعلیم کے ساتھ ہی پہلی جماعت سے ہی فنی تعلیم دی جائے جس کے کم از کم روزانہ دو پیریڈ مخصوص ہوں۔ مختلف سکلز مثلاََ پلمبنگ، الیکٹریشن، ویلڈنگ، مکینک، مارکیٹنگ، ٹیلرنگ وغیرہ میں سے ہر بچہ اپنی پسند کے کسی ایک ھنر کا انتخاب کرے جو توڑو توڑ تعلیم تک جاری رہے۔ اس سے یہ ہوگا کہ آج کے بچے کل کے معمار حقیقتاً بنیں گے۔ اسی طرح سکولوں کی اہمیت دوبارہ زندہ ہو جائے گی اور ایک ماہ میں ہی داخلوں کی تمام سیٹیں بھر جایا کریں گی اور سکولوں کو سارا سال داخلے پورے کرنے کے لیے ترلے نہیں کرنے پڑیں گے جس طرح کہ آج کر رہے ہیں۔
زمینی حقیقت یہ ہے کہ آج بھی مبینہ مہذب دنیا کے ہمارے معاشرے میں کسی تعارف میں اگر کہا جائے کہ "منڈا ترکھان ہے" تو اسے تعریف نہیں سمجھا جاتا بلکہ الٹا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ حالانکہ ایک ترکھان اپنے ہنر سے کئی سفید پوش ملازمین سے زیادہ کما رہا ہوتا ہے۔ اس سماجی بیماری کا حل کوئی نہیں ہے کیونکہ ہماری دانست میں سوئی کے ناکے میں سے اونٹ تو گزر سکتا ہے لیکن ہمارے معاشرہ کی اخلاقی حالت نہیں بدل سکتی۔
کہا جاتا ہے کہ کمپیوٹر پروگرامنگ، سافٹ وئیر انجینئرنگ، اے آئی، ڈیٹا اینالسٹ، بلاگرز، وی لاگرز، کانٹینٹ رائٹرز۔۔ کا مستقبل آرہا ہے اور اسی وجہ سے آج والدین کی ترجیح نہ میڈیکل فیلڈ ہے نہ انجینئرنگ اور نہ ہی ایجوکیشنل فیلڈ ہے۔ بلکہ بچوں کو کمپیوٹر سائنس فیلڈ میں لا رہے ہیں۔
یہاں سوچنے کی بات ہے کہ اگر سارے نونہال کمپیوٹر فیلڈ میں جائیں گے تو لازماً اس فیلڈ کا میدان سخت مقابلہ بازی کا میدان بن جائے گا جیسا کہ سی ایس ایس۔ نتیجتاً یہاں بھی "پرچہ آؤٹ" سسٹم در آئے گا، زیادہ امیدوار ہونے کی وجہ سے بیروزگاری آئے گی اور ایسے آئی ٹی ماہرین کی ورک فورس تیار ہو جائے گی جو پاکستان، یورپ یا امریکہ میں برائے نام اجرت پر کام کرنے کے لیے تیار ہوگی۔ ظاہر ہے جب کسی چیز کی زیادتی ہو جائے تو اس کی قدر اور کشش کم ہو جاتی ہے (سوائے آٹا کے)۔ بقول امیر مینائی:
گاہے گاہے کی ملاقات ہی اچھی ہے امیرؔ
قدر کھو دیتا ہے ہر روز کا آنا جانا
حاصل کلام یہ کہ آج کے بچے صرف ڈگری یا صرف ہنر کے درمیان انتخاب کرنے پر مجبور نہیں ہونے چاہئیں۔ انہیں ایسی تعلیم دی جانی چاہیے جس میں کتاب بھی ہو اور اوزار بھی یعنی قلم اور ہنر دونوں ہوں۔ وجہ یہ کہ آنے والے زمانے میں کامیابی کا فیصلہ نہ ہی صرف ڈگری کرے گی اور نہ ہی صرف ہنر کرے گا۔ بلکہ کامیاب وہ ہوگا جس کے پاس بیک وقت سوچ، صلاحیت اور ہنر کی ٹرائیکا ہوگی۔ لہذا بقول مولانا الطاف حسین حالی:
کھیتوں کو دے لو پانی، اب بہہ رہی گنگا
کچھ کر لو نوجوانو، اٹھتی جوانیاں ہیں

