Israel, America Ka Iran Par Zameeni Hamle Par Ghor
اسرائیل، امریکا کا ایران پر زمینی حملے پر غور

امریکا اور ایران کی جنگ میں شدت آنے کے ساتھ اس کے پھیلنے کے خدشات بھی بڑھ رہے ہیں۔ اسرائیلی انٹیلی جنس نے کہا ہے کہ ایران نے یورینیم افزودگی کے ہزاروں سینٹری فیوجز خفیہ طور پر کہ کوہ کلنگ کی زیرزمین سرنگوں میں منتقل کردیے ہیں۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی حکام اس انٹیلی جنس اطلاع سے آگاہ ہیں جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس مقام کو ممکنہ فوجی ہدف قرار دے چکے ہیں۔
اگر یہ اطلاعات درست ثابت ہوتی ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ایران نے اپنی جوہری صلاحیت کو محفوظ رکھنے کے لیے سابقہ فضائی حملوں سے کہیں زیادہ محفوظ تنصیب تیار کرلی تھی۔ رپورٹ کے مطابق اس زیر زمین کمپلیکس کی گہرائی 300 سے 450 فٹ ہے اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کو وہاں معائنہ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اسی وجہ سے مغربی ممالک میں یہ خدشہ بڑھ گیا ہے کہ اگر ایران مستقبل میں اپنے جوہری پروگرام کو دوبارہ بڑھانا چاہے تو یہ مقام اس کی بنیاد بن سکتا ہے۔
اس دوران ایران پر امریکی سینٹرل کمانڈ کے فضائی حملے جاری ہیں لیکن جنگ کا مرکز ایران کا جوہری پروگرام نہیں بلکہ آبنائے ہرمز بنتی جارہی ہے، جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکی حملوں کا بنیادی مقصد ایران کو آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملوں سے روکنا ہے۔ ایران کی جانب سے آئل ٹینکروں اور تجارتی جہازوں پر حملوں نے عالمی توانائی منڈی کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور خام تیل کی قیمتیں دوبارہ 90 ڈالر فی بیرل ہوگئیں۔
جنگ کا دائرہ اب خلیج فارس سے نکل کر بحیرۂ احمر تک پھیلنے کا خدشہ بھی ہے۔ ایران کے اتحادی یمنی حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکابندی کا اعلان کرتے ہوئے سعودی بندرگاہوں کی جانب جانے والے جہازوں کو نشانہ بنانے کا عندیہ دیا ہے۔ سعودی عرب نے اسے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور بحری قزاقی قرار دیتے ہوئے سخت جواب دینے کی دھمکی دی ہے۔ رائٹرز کے مطابق باب المندب کی بندش عالمی تیل کی رسد میں مزید سات فیصد کمی ہوسکتی ہے۔
ادھر اسرائیلی اخبار ہاریٹز میں شائع ہوئے ایک مضمون میں یہ امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ تازہ امریکی فضائی حملے شاید کسی بڑے زمینی آپریشن کی تیاری ہیں۔ خود ایرانی ماہرین کی رائے ہے کہ جنوبی ایران میں پلوں، ریلوے لائنوں، ہوائی اڈوں اور فوجی تنصیبات پر حملے صرف ایران کی عسکری صلاحیت کمزور کرنے کے لیے نہیں بلکہ ممکنہ طور پر آبنائے ہرمز کے اطراف زمینی کارروائی کی راہ ہموار کرنے کے لیے ہوسکتے ہیں۔ اگر امریکا جنوبی ساحلی علاقوں پر قبضہ کرکے آبنائے ہرمز کا براہ راست کنٹرول حاصل کرنا چاہے تو پہلے ایران کی نقل و حرکت محدود کرنا ضروری ہوگا۔ امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ کو اس بارے میں بریفنگ دی گئی ہے لیکن فی الحال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب جنگ کو روکنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ ایگزیوس کے مطابق پاکستان، قطر، عمان، مصر اور خطے کے دوسرے ممالک نے امریکا اور ایران کے سامنے دس روزہ جنگ بندی کی تجویز رکھی ہے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا، جہاز رانی بحال کرنا اور دونوں ملکوں کو مذاکرات کی میز پر واپس لانا ہے۔ امریکی حکام اس تجویز پر غور کررہے ہیں جبکہ ایران نے تصدیق کی ہے کہ ثالثوں کی تجاویز اسے موصول ہوچکی ہیں، اگرچہ کسی حتمی فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا۔
اس رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کے سامنے اس وقت دو بنیادی راستے ہیں۔ پہلا یہ کہ دس روزہ جنگ بندی قبول کرکے سفارتی عمل دوبارہ شروع کیا جائے اور دوسرا یہ کہ اسرائیل کے ساتھ مل کر بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کے ذریعے ایران کو جھکانے کی کوشش کی جائے۔ امریکا نے خطے میں مزید لڑاکا طیارے اور فضائی ایندھن فراہم کرنے والے جہاز بھیجے ہیں، جو اس بات کی علامت ہے کہ واشنگٹن سفارت کاری کے ساتھ فوجی تیاری بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔
تجزیہ کاروں کو خدشہ ہے کہ ثالثی کی کوششیں شاید اس بحران کو وسیع جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کا آخری موقع ثابت ہوں۔ اگر یہ کوششیں ناکام رہیں تو نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی توانائی کی منڈیاں، عالمی تجارت اور پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ممالک اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔

