Passport Ka Nahi, Zehan Ka Rang Badliye
پاسپورٹ کا نہیں، ذہن کا رنگ بدلیے

کسی قوم کی پہچان اس کے پاسپورٹ سے نہیں ہوتی، اس ذہن سے ہوتی ہے جو اس پاسپورٹ کو اپنی جیب میں رکھتا ہے۔ ایک ہی رنگ کا پاسپورٹ دو مختلف انسانوں کے ہاتھ میں دو مختلف معنی رکھتا ہے۔ ایک شخص اسے اپنے وطن کی عزت سمجھ کر سینے سے لگاتا ہے، دوسرا اسی دستاویز کو محض ایک سفری اجازت نامہ سمجھتا ہے، بلکہ بعض اوقات اس کی خواہش ہوتی ہے کہ کاش اس کے ہاتھ میں کسی اور رنگ کا پاسپورٹ ہوتا۔
اس فرق کا تعلق کاغذ سے نہیں، ذہن سے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں جب بھی پاسپورٹ کے مختلف رنگوں کی بحث اٹھتی ہے تو اصل سوال پس منظر میں چلا جاتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ پاسپورٹ سبز ہو، نیلا ہو یا سرخ، سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا ذہن بھی سبز ہے؟ کیا ہمارے دل میں پاکستان کے لیے وہی محبت، وہی غیرت اور وہی فخر موجود ہے جو ہمارے پرچم کے رنگ میں جھلکتا ہے؟ اگر جواب نفی میں ہے تو پھر پاسپورٹ کے رنگ بدلنے سے کچھ نہیں بدلے گا۔
تاریخ گواہ ہے کہ بڑی قومیں پہلے اپنے ذہن بناتی ہیں، پھر اپنی ریاستیں۔ جاپان دوسری جنگِ عظیم میں تباہ ہوا، لیکن جاپانی ذہن شکست خوردہ نہیں ہوا۔ جرمنی کے شہر ملبے کا ڈھیر بن گئے، مگر جرمن قوم نے اپنی شناخت کو شکست نہیں ہونے دی۔ جنوبی کوریا غربت سے اٹھ کر دنیا کی صنعتی طاقت بنا تو اس کے پیچھے صرف سرمایہ نہیں بلکہ قومی وقار کا احساس تھا۔ چین نے کئی دہائیوں تک صبر، نظم اور قومی مقصد کو اپنا شعار بنایا، تب جا کر وہ عالمی قوت بنا۔
ان تمام قوموں کے پاسپورٹ مختلف رنگوں کے ہو سکتے ہیں، لیکن ان کے ذہنوں کا رنگ ایک ہے: اپنے وطن پر غیر متزلزل یقین۔ قومیں اس وقت عظیم بنتی ہیں جب ان کے شہری بیرونِ ملک جاتے ہوئے یہ نہیں سوچتے کہ دنیا انہیں کیا دے گی، بلکہ یہ سوچتے ہیں کہ وہ اپنے وطن کا کون سا تعارف دنیا کو دیں گے۔
بدقسمتی سے ہم نے اس سوال کو الٹا کر دیا ہے۔ ہم یہ پوچھتے ہیں کہ کون سا ملک ہمیں آسانی سے ویزا دے گا، کون سا ملک ہمیں زیادہ سہولت دے گا، کہاں زیادہ مراعات ملیں گی۔ یہ سوال غلط نہیں، لیکن اگر یہی ہماری قومی سوچ کا مرکز بن جائے تو پھر مسئلہ پاسپورٹ کا نہیں، ذہن کا ہے۔
یہی ذہنی کمزوری ہمیں اپنی قومی علامتوں سے بھی دور کر دیتی ہے۔ ہم پرچم لہراتے ضرور ہیں، مگر ہر روز اس کی حرمت کا خیال نہیں رکھتے۔ قومی ترانہ سنتے ہیں، مگر اس کے پیغام کو اپنی زندگی کا حصہ نہیں بناتے۔ پاکستان کا نام لیتے ہیں، مگر اپنے عمل سے اس کی عزت میں اضافہ نہیں کرتے۔ ہم یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ بیرونِ ملک ہر پاکستانی، خواہ وہ مزدور ہو یا سائنس دان، طالب علم ہو یا سفارت کار، اپنے وطن کا نمائندہ ہوتا ہے۔ اس کے اخلاق، اس کی دیانت، اس کی قانون پسندی، اس کی گفتگو اور اس کے معاملات ہی پاکستان کا اصل تعارف بنتے ہیں۔
اسی لیے ترقی یافتہ قومیں اپنے شہریوں کو صرف سفری ہدایات نہیں دیتیں بلکہ قومی کردار بھی سکھاتی ہیں۔ ہمیں بھی اپنے نوجوانوں کو یہ بتانا ہوگا کہ تمہارا پاسپورٹ تمہیں صرف سرحد پار نہیں لے جاتا، وہ پاکستان کی عزت بھی تمہارے حوالے کرتا ہے۔ اگر تم نے قانون توڑا تو صرف تمہارا نام خراب نہیں ہوگا، پاکستان کا نام بھی متاثر ہوگا۔ اگر تم نے دیانت داری دکھائی تو صرف تمہاری عزت نہیں بڑھے گی، پاکستان کا وقار بھی بلند ہوگا۔
اسی اصول کا اطلاق ریاست کے ذمہ دار طبقات پر سب سے پہلے ہونا چاہیے۔ سرکاری ملازم، سفارت کار، ارکانِ پارلیمان اور تمام اعلیٰ عہدے دار اگر واقعی قوم کی قیادت کرنا چاہتے ہیں تو انہیں اپنے عمل سے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ عام پاکستانی سے الگ نہیں بلکہ اسی کا حصہ ہیں۔ انہیں الگ رنگ کے پاسپورٹ، الگ شناخت اور الگ نفسیات کی ضرورت نہیں، بلکہ الگ کردار کی ضرورت ہے۔
قوموں کی قیادت مراعات سے نہیں بلکہ مثال سے ہوتی ہے۔ اگر ایک وزیر، ایک سفیر یا ایک رکنِ پارلیمان اسی سبز پاسپورٹ پر اسی فخر کے ساتھ سفر کرے جس پر ایک مزدور یا ایک طالب علم سفر کرتا ہے، تو یہ ہزار تقریروں سے زیادہ مؤثر پیغام ہوگا۔ ریاست کا وقار اس وقت بڑھتا ہے جب اس کے بااختیار لوگ خود کو عام شہریوں کے برابر سمجھنے میں عزت محسوس کریں۔
ہمیں اپنے قومی ہیروز کو بھی نئے زاویے سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ دنیا نے پاکستان کو سب سے زیادہ کن لوگوں کی وجہ سے جانا؟ نہ ان کے پاس کوئی خصوصی پاسپورٹ تھا، نہ کوئی شاہانہ پروٹوکول۔ ہمارے ہاکی کے جادوگر، ہمارے اسکواش کے عالمی فاتح، ہمارے کرکٹ کے عظیم کھلاڑی، ہمارے مکے باز، ہمارے پہلوان، ہمارے نیزہ باز، ہمارے عسکری سپوت، ہمارے ہوا باز اور ہمارے دوسرے بے شمار مردانِ باکمال جب دنیا کے میدانوں میں اترتے تھے تو ان کے سینے پر سبز رنگ ہوتا تھا۔
انہوں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ ہمیں الگ شناخت دی جائے۔ انہوں نے اپنی شناخت کو پاکستان کی شناخت میں فنا کر دیا۔ اسی لیے آج بھی ان کا ذکر آتا ہے تو پاکستان کا نام ساتھ آتا ہے۔ یہی اصل عظمت ہے کہ انسان کی پہچان اس کے منصب سے نہیں بلکہ اس کے وطن سے ہو۔
وقت آ گیا ہے کہ ہم پاسپورٹ کے رنگ پر نہیں، اپنے ذہن کے رنگ پر بحث کریں۔ اگر ہمارا ذہن سبز ہو جائے تو سبز پاسپورٹ ہمیں دنیا کی سب سے قیمتی دستاویز محسوس ہوگا۔ اگر ہمارے دل میں پاکستان کی محبت زندہ ہو تو کسی دوسرے رنگ کی خواہش باقی نہیں رہے گی۔
اگر ہماری عزتِ نفس بیدار ہو جائے تو ہم دنیا کے ہر دروازے پر دستک دینے کے بجائے صرف ان دروازوں کی طرف جائیں گے جہاں ہمارے وطن کی عزت محفوظ ہو۔ اگر ہمارا کردار بلند ہو جائے تو دنیا خود ہمارے پاسپورٹ کی عزت کرنے لگے گی۔
پاسپورٹ کی طاقت اس کے رنگ میں نہیں، اس قوم کے کردار میں ہوتی ہے جو اسے اٹھائے پھرتی ہے۔ اس لیے آج پاکستان کو سب سے زیادہ ضرورت پاسپورٹ بدلنے کی نہیں، ذہن بدلنے کی ہے۔ کیونکہ جب ذہن سبز ہو جائے تو پرچم بھی سبز رہتا ہے، پاسپورٹ بھی سبز رہتا ہے، امید بھی سبز رہتی ہے اور پھر پوری قوم ایک ہی رنگ میں ڈھل جاتی ہے۔ پاکستان کے رنگ میں۔
"قومیں پاسپورٹ سے نہیں، کردار سے پہچانی جاتی ہیں"۔ پاکستان کے کھیلوں اور دوسرے میدانوں کے ہیروز نے یہ ثابت کیا ہے کہ دنیا میں احترام کسی پاسپورٹ کے رنگ سے نہیں بلکہ شہریوں کے کردار سے پیدا ہوتا ہے۔

