Punjab Taleemi Inqilab Ki Janib
پنجاب تعلیمی انقلاب کی جانب

قوموں کی تقدیر میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ درس گاہوں میں لکھی جاتی ہے۔ ریاستیں محض بلند و بالا عمارتوں، کشادہ شاہراہوں اور صنعتی منصوبوں سے ترقی یافتہ نہیں ہوتیں بلکہ ان کی اصل شناخت ایسے تعلیمی نظام سے وابستہ ہوتی ہے جو نئی نسل کو علم، کردار، شعور اور امید سے آراستہ کرے۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ پنجاب میں گزشتہ عرصے کے دوران تعلیم کے شعبے کو جس سنجیدگی، عزم اور عملی بصیرت کے ساتھ ترجیح دی گئی، اس نے اس تاثر کو مضبوط کیا ہے کہ موجودہ صوبائی قیادت تعلیم کو محض ایک محکمہ نہیں بلکہ ریاستی تعمیر کا بنیادی ستون سمجھتی ہے۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ نے منصب سنبھالتے ہی جس انداز سے عوامی خدمت، انتظامی اصلاحات اور بالخصوص تعلیم کے میدان میں نئی روح پھونکنے کی کوشش کی وہ یقیناً قابلِ تحسین ہے۔ ان کی یہ سوچ کہ نوجوانوں کو باعزت روزگار فراہم کیا جائے، تعلیمی اداروں کو فعال بنایا جائے اور سرکاری نظامِ تعلیم پر عوام کا اعتماد بحال کیا جائے۔ یہی وژن اس وقت مزید نمایاں ہوا جب صوبائی وزیرِ تعلیم رانا سکندر حیات صاحب نے محض اعلانات پر اکتفا کرنے کے بجائے عملی اقدامات کو ترجیح دی۔ فروری میں School Teacher Interns (STIs) فیز ٹو کی بھرتی اسی عملی سوچ کا ایک نمایاں مظہر تھی۔
یہ محض ایک بھرتی مہم نہیں تھی بلکہ ہزاروں تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے امید کی نئی کرن ثابت ہوئی۔ ایسے بے شمار نوجوان، جو اعلیٰ تعلیم کے باوجود روزگار کے منتظر تھے انہیں اپنے علم اور اپنی صلاحیت کو بروئے کار لانے کا باوقار موقع ملا۔ اس اقدام نے نہ صرف بیروزگاری کے احساس میں کمی پیدا کی بلکہ سرکاری سکولوں میں تدریسی سرگرمیوں کو بھی نئی توانائی عطا کی۔ یہ فیصلہ اس حقیقت کا اظہار تھا کہ حکومت نوجوانوں کی صلاحیتوں پر اعتماد رکھتی ہے اور انہیں قومی ترقی کا حقیقی سرمایہ سمجھتی ہے۔
رانا سکندر حیات صاحب کا یہ اقدام محض انتظامی ضرورت پوری کرنے تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے دو اہم مقاصد بیک وقت حاصل کیے۔ ایک جانب سکولوں میں تدریسی عملہ وقتی طور پر دستیاب ہوا اور دوسری جانب ہزاروں گھروں کے چراغ روشن ہوئے۔ موجودہ معاشی حالات میں کسی نوجوان کو باعزت روزگار فراہم کرنا درحقیقت ایک پورے خاندان کو سہارا دینے کے مترادف ہے۔ یہی وہ احساس ہے جو ایک عوام دوست حکومت کی شناخت بنتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ایس ٹی آئیز نے مختصر مدت میں اپنی محنت، لگن اور احساسِ ذمہ داری سے یہ ثابت کیا کہ نوجوان نسل اگر موقع پائے تو کسی بھی ذمہ داری کو احسن انداز میں نبھا سکتی ہے۔ متعدد سکولوں میں حاضری، تدریسی نظم و ضبط، ہم نصابی سرگرمیوں اور تعلیمی ماحول میں واضح بہتری دیکھی گئی۔
اس تجربے نے یہ بھی ثابت کیا کہ وقتی تقرریاں اگر میرٹ، شفافیت اور اخلاص کے ساتھ کی جائیں تو ان کے مثبت نتائج نہایت حوصلہ افزا ہوتے ہیں۔ تاہم آج ایک ایسا مرحلہ آن پہنچا ہے جہاں ایک بروقت اور واضح فیصلہ ناگزیر محسوس ہوتا ہے۔ ایس ٹی آئیز فیز ون اور فیز ٹو کی مدت کے حوالے سے مختلف آرا اور غیر یقینی کیفیت پائی جاتی ہے۔ یہ ابہام نہ صرف ان نوجوان اساتذہ کے لیے ذہنی پریشانی کا باعث ہے بلکہ تعلیمی اداروں کے انتظامی امور پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔ اس لیے نہایت ادب اور خلوص کے ساتھ صوبائی حکومت، بالخصوص وزیرِ اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف اور وزیرِ تعلیم رانا سکندر حیات سے گزارش ہے کہ ایس ٹی آئیز فیز ون اور فیز ٹو کی توسیع (Extension) کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جلد از جلد جاری فرمایا جائے تاکہ ہر قسم کی بے یقینی کا خاتمہ ہو سکے۔
اس گزارش کی بنیاد کسی ذاتی مفاد پر نہیں بلکہ تعلیمی اور انتظامی ضرورت پر ہے۔ اگر اس مرحلے پر دوبارہ نئی بھرتیوں کا آغاز کیا جاتا ہے تو اشتہارات، درخواستوں، سکروٹنی، میرٹ لسٹوں، انٹرویوز، تعیناتیوں اور دیگر مراحل میں دوبارہ کافی وقت ضائع ہوگا۔ ماضی میں بھی اس سارے عمل میں قابلِ ذکر مدت صرف ہوئی تھی جس کا براہِ راست اثر تدریسی سرگرمیوں پر پڑا۔ اس کے برعکس اگر موجودہ ایس ٹی آئیز کی مدت میں توسیع کر دی جائے تو تعلیمی تسلسل برقرار رہے گا، طلبہ کی پڑھائی متاثر نہیں ہوگی اور حکومت کا قیمتی وقت اور وسائل بھی محفوظ رہیں گے۔
مزید برآں، جو اساتذہ گزشتہ کئی ماہ سے اپنے متعلقہ سکولوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں، وہ وہاں کے تعلیمی ماحول، طلبہ کی نفسیات، ادارہ جاتی نظم اور تدریسی تقاضوں سے بخوبی واقف ہو چکے ہیں۔ ایسے افراد کی جگہ نئے لوگوں کی تعیناتی ایک مرتبہ پھر پورے نظام کو ابتدائی مرحلے میں لے جائے گی جبکہ موجودہ اساتذہ کے تجربے سے مزید فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ انتظامی اعتبار سے بھی یہی فیصلہ زیادہ دانشمندانہ، کم خرچ اور نتیجہ خیز ثابت ہوگا۔ حکومتوں کی کامیابی صرف نئے منصوبے شروع کرنے میں نہیں بلکہ کامیاب منصوبوں کو بروقت استحکام دینے میں بھی مضمر ہوتی ہے۔ ایس ٹی آئی پروگرام اپنی افادیت ثابت کر چکا ہے۔ اب اس کامیاب تجربے کو تسلسل عطا کرنا ہی دانش مندی کا تقاضا ہے۔ جیسا کہ رانا سکندر حیات صاحب نے ایس ٹی آئیز کو توسیع دینے کا وعدہ بھی کیا تھا۔
یقیناً رانا سکندر حیات صاحب جیسے متحرک وزیرِ تعلیم اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ ایک بہترین استاد صرف نصاب نہیں پڑھاتا بلکہ قوم کا مستقبل سنوارتا ہے اور جب ایسے ہزاروں نوجوان اساتذہ اخلاص کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہوں تو ان کی خدمات کے تسلسل کو یقینی بنانا تعلیمی مفاد میں ہوگا۔
آخر میں یہی مؤدبانہ گزارش ہے کہ ایس ٹی آئی فیز ون اور فیز ٹو کی ایکسٹینشن کا واضح اور باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کرکے نہ صرف ہزاروں نوجوان اساتذہ کے خدشات دور کیے جائیں بلکہ پنجاب کے لاکھوں طلبہ کے تعلیمی تسلسل کو بھی یقینی بنایا جائے۔ یہی وہ فیصلہ ہوگا جو ایک حساس، دوراندیش اور تعلیم دوست حکومت کی پہچان کو مزید مضبوط کرے گا اور یہی وہ قدم ہوگا جسے آنے والا وقت محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ تعلیم، نوجوانوں اور پنجاب کے روشن مستقبل کے حق میں ایک دانشمندانہ سرمایہ کاری قرار دے گا۔

