Wednesday, 08 July 2026
  1.  Home
  2. Nusrat Javed
  3. 18Wi Tarmeem Ke Khilaf Aalmi Bank Ki Fard e Jurm

18Wi Tarmeem Ke Khilaf Aalmi Bank Ki Fard e Jurm

18 ویں ترمیم کے خلاف عالمی بنک کی فرد جرم

تقریباََ 12برس قبل عملی صحافت سے بتدریج کنارہ کشی اختیار کرنا شروع کردی تھی۔ آتش کے "پھڑپھڑاتے" ایام میں ہفتے میں ایک دوبار اسلام آباد میں مقیم تگڑے ممالک اور عالمی اداروں کے نمائندوں سے بے تکلف ملاقاتیں بھی ہوجایا کرتی تھیں۔ 2016ء کے برس اچانک احساس ہوا کہ پاکستانی معیشت کو "امداد"کے نام پر رواں رکھنے والے ممالک اور اداروں کے نمائندے 18ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو میسر اختیارات سے ناخوش ہیں۔ اسلام آباد کے سرکاری افسران بھی مذکورہ اختیارات کے بارے میں مضطرب نظر آتے تھے۔ نجی محفلوں میں محتاط انداز میں مذکورہ افسران کے بیان کردہ خدشات کو سخت زبان میں ادا کرتے سفارت کاروں کی گفتگو سن کر میں پریشان سے زیادہ حیران ہوجاتا۔

لطیفہ یہ بھی ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کے تحت فراہم کردہ اختیارات کے نتیجے میں وفاق اور صوبوں کے مابین قومی خزانے سے رقوم کی تقسیم کا جو فارمولا طے ہوا اس کا سب سے زیادہ فائدہ پنجاب حکومت نے اٹھایا۔ بطور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے نیشنل فنانشل کمیشن ایوارڈ کے طے کردہ فارمولے کے نتیجے میں میٹرو بس اور انڈرپاسز جیسے منصوبے متعارف کروائے۔ ان پر ریکارڈ عجلت کے ذریعے عملدرآمد سے "شہباز سپیڈ" کا لقب بھی کمایا۔ ان ہی اختیارات کا لیکن دیگر صوبوں خصوصاََ سندھ میں استعمال "بے دریغ کرپشن" کے فروغ کا موجب قرار پانا شروع ہوگیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی 2008ء سے سندھ میں مسلسل برسراقتدار ہے۔ سندھ میں مبینہ کرپشن سے جڑی داستانوں پر مشتمل بیانیے کو اس نے کبھی اہمیت نہیں دی۔ ایک دوبار اس جماعت کی قیادت کو میں نے ان کہانیوں کی جانب متوجہ کروانا چاہا۔ وہ مگر کندھے اچکاکر بات ٹالنے کو ترجیح دیتے محسوس ہوئے اور مجھے "تو کون؟ میں چاچا خواہ مخواہ" کی طرح کسی سیاسی جماعت کی ترجمانی یا دفاع کا شوق لاحق نہیں۔

آج سے تقریباََ 12برس قبل آئین کی 18ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو ملے اختیارات کے خلاف اسلام آباد کی نجی محفلوں میں ہوئی سرگوشیاں گزشتہ دو برسوں سے اب روایتی میڈیا میں مسلسل جناتی انگریزی میں لکھے مضامین کے ذریعے بیان ہورہی ہیں۔ اخبارات کے عام قاری کے ذہن میں ان مضامین کی بدولت یہ سوچ ابھررہی ہے کہ 18ویں ترمیم کے تحت ریاستی اختیار اور وسائل کی تقسیم نے وفاق کو کنگلابنادیا ہے۔ قومی خزانے کا وسیع تر حصہ صوبوں میں بٹ جاتا ہے۔ وہاں کے وزرائے اعلیٰ اپنے حصے میں آئی رقوم کو نمائشی منصوبوں پر "ضائع" کررہے ہیں۔

وفاق کو قومی خزانے سے محض تلچھٹ نصیب ہوتی ہے اور بتدریج وہ قومی دفاع یقینی بنانے کے علاوہ غیر ملکی قرضوں کے سود کی ادائیگی کے قابل بھی نہیں رہا۔ حالیہ بجٹ کی منظوری سے قبل اسی باعث سندھ اور پنجاب اپنے حصے میں آئی رقوم میں سے وفاق کو بطور "گرانٹ" گرانقدر رقوم فراہم کرنے کو آمادہ ہوئے۔ 18ویں ترمیم کے تحت میسر اختیارات گویا کسی حد تک وفاق کو لوٹانا شروع ہوگئے۔ "گرانٹس" کے ذریعے صوبوں سے رقوم وصول کرنے سے قبل وفاق کی جانب سے اکثر 28ویں ترمیم کا ذکر بھی ہوتا رہا جس کا حتمی مقصد اٹھاریویں ترمیم کو ناقابل عمل بنانا تھا۔

وفاق اور صوبوں کے مابین اختیارات اور وسائل کی تقسیم کا مسلسل زیر بحث رہنا کئی حوالوں سے صحت مند جمہوری عمل کی نشانی بھی ہے۔ چند روز قبل مگر یہ جان کر حیران ہوا کہ ہمیں قرض فراہم کرنے والے ایک اہم ادارے -عالمی بینک-نے برطانیہ کی وزارت خارجہ کے تحت ہم جیسے ممالک کے لئے مختص "امدادی رقوم" میں سے کچھ رقم لے کر ایک تحقیقی رپورٹ تیار کروائی ہے۔ اس رپورٹ کے نتائج بہت اہتمام سے برسرعام لائے گئے۔

معاشی امور کی نزاکتوں کی بابت قطعاََ نابلد ہوتے ہوئے بھی میں نے ورلڈ بینک کی تیار کردہ رپورٹ کا سرسری جائزہ لیا تو وہ 18ویں ترمیم کے خلاف فردِ جرم عائد کرتی سنائی دی۔ یہ حقیقت نظرانداز کرتی دکھائی دی کہ مذکورہ ترمیم کے تحت وفاق اور صوبوں کے مابین مالیاتی وسائل کا گراں قدر حصہ پنجاب کو آبادی کے اعتبار سے ہمارا سب سے بڑا صوبہ ہونے کی وجہ سے ملتا ہے۔ تنقیدی نگاہ کا مرکز فقط بلوچستان اور سندھ کی حکومتیں رہیں۔ الزام لگا کہ ان دوصوبوں کی حکومتوں کے تعلیمی بجٹ میں گزشتہ 15برسوں کے دوران 500اور 300فی صد اضافہ ہوا۔ خواندگی کا تناسب ہوشربااضافے کے باوجود ہرگز نہیں بڑھا۔ سادہ لفظوں میں یوں کہہ لیں کہ تعلیم کے نام پر مختص رقوم سکول کے لئے عمارتیں تعمیر کرنے اور "گھوسٹ" اساتذہ کو بھرتی کرنے کی نذر ہوگئیں۔

وہ رپورٹ سنسنی خیز سرخیوں کے ساتھ اخباروں میں چھپ گئی تو مجھ سادہ لوح نے امید باندھی کہ سندھ اور بلوچستان کی حکومتیں اپنے خلاف لگائی فرد جرم کا میڈیا میں ڈٹ کر دفاع کریں گی۔ ایسا مگر ہوا نہیں۔ مذکورہ حکومتیں اپنے خلاف تیار ہوئی چارج شیٹ کے بارے میں شتر مرغ کی طرح ریت میں سردبائے نظر آئیں۔ غالباََ ان کی سرد مہری نے عالمی بینک کو حیران کردیا۔ اس کی پاکستان میں نمائندہ محترمہ بولورماامگا بازار Amgaabazar Bolormaa نے لہٰذا ایک تفصیلی مضمون لکھا جو انگریزی کے ایک مؤقر اخبار کے ادارتی صفحے پر پیر کی صبح شائع ہوا۔ اس مضمون میں اٹھارہویں ترمیم کی بدولت صوبوں کو ملے اختیارات اور ان کے برسرزمین استعمال کا پوسٹ مارٹم کرتی ورلڈ بینک کی سرپرستی میں تیار ہوئی رپورٹ کے اہم نکات شدومد سے دہرائے گئے ہیں۔

ورلڈ بینک جیسے ادارے پاکستان جیسے ممالک کے معاشی اور سماجی وسائل کے بارے میں "تحقیقاتی رپورٹس" تیار کروانے کے عادی ہیں۔ انہیں پالیسی سازوں کی معاونت کے لئے عملی مشق شمار کیا جاتا ہے۔ آئین کی 18ویں ترمیم کے عملی اطلاق پر ورلڈ بینک کی تیار کردہ رپورٹ بھی اس نوعیت کی تھی۔ اس کے اخذ کردہ نتائج کا ورلڈ بینک کی پاکستان میں نمائندہ کی جانب سے لیکن اپنے نام سے لکھے ایک اخباری مضمون کے ذریعے دہرانا واضح طورپر یہ عندہ دے رہا ہے کہ ورلڈ بینک وفاق اور صوبوں کے مابین مالیاتی وسائل کی تقسیم کے موجودہ نظام سے ناخوش ہے۔ اسے بدلنا چاہتا ہے۔

دو ٹکے کا رپورٹر ہوتے ہوئے مجھے خبر نہیں کہ دنیا کے کسی اور ملک میں تعینات ورلڈ بینک کے نمائندے نے اس ملک کے آئین کے تحت طے ہوئے مالیاتی بندوبست کے بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار اخبارات کے لئے لکھے مضامین کے ذریعے کیا ہے یا نہیں۔ ہمارے مگر ایک قابل احترام ماہر معیشت ہیں -ڈاکٹر راشد امجد- ان دنوں لاہورکے ایک معروف تعلیمی ادارے سے وابستہ ہیں۔ اس سے قبل حکومتِ پاکستان کے چیف اکانومسٹ بھی رہے اور انٹرنیشنل آرگنائزیشن (ILO)نامی ادارے کے لئے بھی کام کرچکے ہیں۔

پاکستان میں تعینات ورلڈ بینک کی نمائندہ کا مضمون پڑھتے ہی انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھے ایک پیغام کے ذریعے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ مذکورہ مضمون کی اشاعت کے خلاف احتجاج کرے۔ ورلڈ بینک کو واضح الفاظ میں پیغام دے کہ پاکستان ایک وفاقی ملک ہے اور اس کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے عوام کے منتخب کردہ نمائندوں نے آئین کے تحت ملے اختیارات بروئے کار لاتے ہوئے 18ویں ترمیم متعارف کروائی تھی۔ کسی غیر ملک یا عالمی ادارے کو آئین پاکستان کے تحت ہوئے بندوبست پر اعتراض اٹھانے کا حق حاصل نہیں۔

عوامِ پاکستان کے منتخب نمائندوں ہی کو 18ویں ترمیم کا جائزہ لینا ہوگا۔ راشد امجد صاحب نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا کہ ورلڈ بینک کی ہمارے آئینی بندوبست میں مداخلت کا بروقت نوٹس نہ لیا گیا تو کل کلاں آئی ایم ایف ہمیں "امدادی رقم"کی قسط فراہم کرنے سے قبل 18ویں ترمیم کے تحت ہوئے بندوبست میں تبدیلیوں کی شرط بھی عائد کرسکتا ہے۔ تکلیف دہ حقیقت مگر یہ بھی ہے کہ ابھی تک ہمارے کسی سیاستدان خصوصاََ سندھ اور بلوچستان سے صوبائی خودمختاری کے چمپئن کسی شخص نے ورلڈ بینک کے 18ویں ترمیم کے بارے میں تحفظات کا سرسری ذکر بھی نہیں کیا ہے۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.

Check Also

18Wi Tarmeem Ke Khilaf Aalmi Bank Ki Fard e Jurm

By Nusrat Javed