Out Of Source School
آؤٹ آف سورس سکول

آج کل وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات اکثر خبروں کی زینت بنے رہتے ہیں۔ وہ نوجوان وزیر ہیں اور بظاہر کچھ کرنے کا عزم بھی رکھتے ہیں جس کا اندازہ ان کے بیانات سے ہو جاتا ہے۔ وہ ملک کے تعلیمی نظام کے بارے میں سچ بولنے کی کوشش کرتے ہیں اور ان کے یہی بے دجہ کے سچ اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ ابھی انہیں سیاست میں بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔
سیاسی لوگ اکثر ہم جیسے صحافیوں سے فیک نیوز کا گلہ کرتے ہیں لیکن دوسری طرف بہت ساری سنی سنائی باتوں پر بیانات بھی دیتے ہیں جس سے ماحول میں حدت موجود رہتی ہے۔ وزير موصوف کا کہنا ہے کہ کچھ سرکاری اساتذہ جب آؤٹ سورس کئے گئے سکولوں کو چھوڑ کر گئے تو ساتھ میں سکولوں کے پنکھے، ٹونٹیاں اور ایل سی ڈی ٹی وی بھی اتار کر لے گئے۔
ان کی یہ بات درست ہی ہوگی کیونکہ جنہوں نے اساتذہ کو پنکھے اتارتے ہوئے دیکھا ہوگا انہوں نے ہی وزیر تعلیم کو اس کی شکایت بھی کی ہوگی۔ اب سمجھنا یہ ہے کہ آیا ان سکولوں میں لگے پنکھے واقعی سرکاری ملکیت ہی تھے یا پھر ان اساتذہ نے خود لگائے تھے۔ ہم خود سرکاری سکولوں میں پڑھتے رہے ہیں اور اس وقت تو پرائیویٹ سکولوں کا دور بھی نہیں تھا۔
مجھے یاد ہے کہ اکثر اوقات پنکھے، واٹر کولر اور بلیک بورڈ کے لئے چاک کے پیکٹ بھی طلباء کی جیبوں سے آتے تھے۔ ہم گرمیوں کے شروع میں پانی کا کولر اور کبھی پانی کا مٹکا خریدتے تھے اور ایک آدھی بار پنکھا بھی طلباء نے چندہ جمع کرکے لیا تھا اور گرمی کی چھٹیوں کے بعد وہ چیزیں غائب ہی ہوتی تھیں۔ ظاہر ہے جو ان چیزوں کو چراکر لے جاتا تھا وہ اس بات کو سمجھتا تھا کہ مذکورہ چیزیں چونکہ سرکاری فنڈ سے نہیں آئی ہیں اس لئے ان کا سرکاری سکول میں موجود رہنا مناسب نہیں ہے۔
ایسے ہی ہو سکتا ہے کہ اساتذہ نے آپس میں پیسے اکٹھے کرکے سٹاف روم کے لئے پنکھے اور ٹی وی خریدا ہو اور جب سکول ہی ان کا نہ رہا تو پھر ان کے پنکھوں کو بھی سکول میں کوئی کام نہیں ہے۔ ویسے وزیر تعلیم کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ویلفیئر اور جمہوری ریاستوں میں سکولوں کی نجکاری نہیں کی جاتی ہے بلکہ بنیادی تعلیم ہی تو وہ واحد راستہ ہے جس کے ذریعہ عوام کو ناصرف بنیادی علوم اور سوجھ بوجھ ملتی ہے بلکہ لوگوں کو روزگار حاصل کرنے کے لئے ہنر بھی ملتا ہے۔
یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ حکومت تعلیم اور صحت کے اداروں کو ہی نجکاری سے کیوں گزار رہی ہے۔ مطلب یہ کہ حکومت کہنا چاہتی ہے کہ اس کو لوگوں کی ویلفیئر اور جمہوریت کے ساتھ کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ بلکہ لوگ خود اپنی جیب سے خرچ کرکے اپنے بچوں کو پڑھائیں۔ یعنی حکومت تعلیم کا سارا ذمہ والدین کے سر تھوپ کر خود کو آزاد رکھنا چاہتی ہے۔
ایسا ہی سلوک ہسپتالوں کے لئے روا رکھا جارہا ہے جہاں آؤٹ سورسنگ کے نام پر ہسپتالوں کو ہدایات جاری کی جارہی ہیں کہ اپنے خرچے خود اٹھاؤ۔ سوچنے کی بات ہے کہ جب حکومت نے تعلیم، صحت کی نجکاری ہی کرنی ہے اور امن و امان کا تو پہلے ہی اللہ حافظ ہے تو پھر حکومت کی ضرورت ہی کیا بچتی ہے اور پچاس فیصد تک کے ٹیکس وصول نے کا کوئی جواز نہیں بنتا ہے۔ اب تو وطن عزیز کی حالت یہ ہو چکی ہے کہ حکومت کی توجہ بجلی کی کمپنیوں کو چلانے میں اور پاور پلانٹس کو پالنے میں صرف ہوتی ہے اور یا پھر پٹرول کی دلالی میں کمپنیوں کے ساتھ مل کر لوگوں کے کپڑے اتارے جاتے ہیں۔
میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت ملک میں بنیادی انسانی حقوق کی کوئی قدر نہیں اور خود حکمران عوام کے ساتھ نہیں کھڑے ہیں۔ بات ہورہی تھی وزیر تعلیم کی جو اس سے پہلے یہ بھی کہہ چکے ہیں کی پرائیویٹ سکولوں کے پندرہ ہزار روپے تنخواہ لینے والے اساتذہ کی کارکردگی ایک لاکھ روپے تنخواہ لینے والے سرکاری اساتذہ سے بہتر ہے۔
یہ بات بھی ہے تو سچ لیکن ہے رسوائی کی کیونکہ سرکاری سکولوں کی بری کارکردگی کے پیچھے ان سرکاری سکولوں کا سسٹم ہے۔ جو ظاہر ہے حکومت اور محکمہ صحت نے ہی بنایا ہے اور یہ بات سچ ہے کہ سرکاری سکول ایک طرف تو بدلتے حالات کے ساتھ نہیں چل پاتے ہیں اور دوسرا سرکاری سکولوں میں تعلیم سے زیادہ چھٹیوں پر زور دیا جاتا ہے۔ پرائیویٹ سکولوں نے پچھلے دس پندرہ سال میں بڑا کام کیا ہے۔
کچھ ایلیٹ سکولوں کی بات تو چھوڑ دیں ہم نے یونیک اور کپس جیسے تعلیمی گروپس کو دیکھا ہے کہ وہ بچوں کی بائیو میٹرک حاضری لیتے ہیں اور بچے کی حاضری سمیت روزمرہ کی پراگریس موبائل فون پر واٹس ایپ کے ذریعہ والدین کو ملتی رہتی ہے اور پھر یہ تعلیمی ادارے بچوں کو ناصرف امتحانات کی تیاری کراتے ہیں بلکہ بچوں کو مختلف ٹاسک دے کر مصروف رکھتے ہیں اور ایسا ہی پنجاب گروپ آف کالجز میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان تعلیمی اداروں کا رزلٹ سرکاری سکولوں سے بہت بہتر ہے۔ ان تعلیمی اداروں میں والدین بچوں کو زیادہ محفوظ تصور کرتے ہیں۔
چند دن پہلے مجھے ایک پرائیویٹ سیکٹر میں دئیے گئے سکول کا دورہ کرنے کا موقع ملا تو اس کی حالت کسی کھنڈر سے کم نہیں تھی اور پھر صرف ایک مہینے کے بعد ہی اس کی پوری شکل تبدیل ہوگئی تھی۔ سکول کو خریدنے والے نے صرف ڈھنگ کا رنگ و روغن کیا تھا اور پرنسپل آفس، سکول کے ایڈمن آفس اور سٹاف روم میں ٹائلیں لگا کر سمارٹ فرنیچر رکھ دیا تھا۔ سکول کے بڑے لان اور گراونڈ میں پودوں کی کانٹ چھانٹ کرکے صفائی کردی تھی اور پورے سکول کی شکل بدل گئی تھی۔
بدقسمتی ہے کہ اساتذہ اگر سکولوں میں صحیح پڑھاتے نہیں ہیں تو حکومت بھی ان سکولوں کی دیکھ بھال کا خیال نہیں رکھتی ہے۔ ہمارے دور میں تو اساتذہ طلباء کو شامل کرکے ہی صفائی اور پودوں کی کانٹ چھانٹ کا کام کروالیتے تھے۔ اب بچوں کو کہا جاتا ہے کہ آپ سکولوں کی دیکھ بھال میں شامل نہ ہوں اور اگر استاد زبردستی کرے تو شکایت کریں۔ مار نہیں پیار کا نعرہ بہت اچھا ہے لیکن اپنے ماحول کی صفائی اور دیکھ بھال میں حصہ لینا بھی عبادت کا درجہ رکھتا ہے۔
ہمارے اساتذہ تو روزانہ ایک کلاس کے بچوں کو فارغ پریڈ میں پودوں کو پانی دینے اور پھولوں کی دیکھ بھال کرنے کے لئے استعمال کرتے تھے اور دوبارہ اس جماعت کی باری مہینے بعد ہی آتی تھی۔ میں اساتذہ کا وکیل نہیں ہوں لیکن حقیقت یہی ہے کہ سیاسی بھرتیوں اور ترقیوں نے تعلیمی اداروں کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ آج بھی سنئر اساتذہ تعلیمی سیکرٹریٹ میں چھوٹے چھوٹے کاموں کے لئے دھکے کھاتے ہیں اور ان کی بات تو کلرک بھی نہیں سنتا ہے۔
ہم نے استاد کو احترام دینے کی بجائے تذلیل کا ٹھیکہ لے رکھا ہے تو پھر وہ بڑے قد کاٹھ کے لوگ کیوں استاد بنیں گے۔ مجھے یاد ہے کہ جب سکول میں میٹرک میں دوسری پوزیشن لی تھی تو میرے استاد نے کہا تھا کہ ڈاکٹر بن جانا، انجینئر بن جانا یا سرکاری افسری اختیار کرلیں لیکن سکول ماسٹر نہ بننا کیونکہ استاد کی یہاں عزت نہیں ہے۔ مجھے پچھلے سال ایک پی ایچ ڈی سکول پرنسپل کے انکریمنٹ کے معاملات میں محکمہ تعلیم سے واسطہ پڑا تھا تو یقین جانئیے ڈی پی ائی سکولز، سیکرٹریٹ اور سی ای او آفس کے درمیان فٹبال بننا پڑتا ہے۔ کلرک، ڈپٹی سیکرٹری اور ایڈیشنل سیکرٹری اس طرح رویہ رکھتے ہیں جیسے کوئی بھکاری ان کے پاس آیا ہو۔
میں سمجھتا ہوں کہ حکومت کو تعلیمی اداروں کی نجکاری کرنے کی بجائے کمرشل محکموں کو پرائیویٹائز کرنا چاہیئے۔ اس سے کرپشن بھی کم ہوگی اور سرمایہ بھی بچے گا۔ حکمرانوں کی تعلیم کو نظرانداز کرنے ہی کا نتیجہ ہے کہ آج صوبے میں پیرا فورس بنانا پڑتی ہے تو کبھی غنڈہ ایکٹ متعارف کرانا پڑتا ہے۔ اب اگر وزیر تعلیم نے کچھ اصلاحات متعارف کروائی بھی ہیں تو پھر سکولوں کو آوٹ سورس کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ ابھی تو وزیر موصوف پرائیویٹ اساتذہ کو پندرہ ہزار روپے دینے پر فخر محسوس کرتے ہیں لیکن آنے والے دنوں میں ان آوٹ آف سورس سکولوں کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔

