Qaumi Ajaib Ghar
قومی عجائب گھر

اگر کبھی اس ملک میں سیاحت کو سچ میں فروغ دینا مقصود ہو تو میرا مشورہ ہے کہ اسلام آباد میں ایک عظیم الشان "قومی عجائب گھر برائے جھوٹ و پروپیگنڈہ" تعمیر کیا جائے جس کے باہر سنگِ مرمر پر سنہری حروف میں لکھا ہو "یہاں وہ تمام سچ محفوظ ہیں جو پہلے جھوٹ تھے اور وہ تمام جھوٹ بھی جو کبھی سچ کہلاتے تھے"۔ پروپیگنڈہ کا باوا آدم نازیوں کا وزیر اطلاعات جوزف گوئبلز تھا لیکن ہم نے اس شعبے میں تیزی سے ترقی کی ہے۔
اندر داخل ہوں تو پہلے ہال میں ایک عجیب مشین رکھی ہو۔ آپ اس میں کوئی بھی افواہ ڈالیں مثلاً فلاں شخص دین کا دشمن ہے، فلاں قوم کی نفسیات میں ریاست سے بغاوت شامل ہے، فلاں سیاستدان غیر ملکی ایجنٹ ہے، فلاں فرقہ اسلام سے خارج ہے۔ مشین صرف ایک بٹن "Repeat" کو بار بار دبانے کا تقاضہ کرے۔ آپ بٹن دباتے جائیں، مشین افواہ کو بار بار دہراتی جائے اور چند منٹ بعد سامنے سے ایک پرچی برآمد ہو جس پر لکھا ہو کہ بیشک تمام قرائن سے ثابت ہوا کہ یہی حقیقت ہے۔ یہ مشین بیرون ملک سے درآمد نہیں کرنا پڑے گی اس کے مقامی مینوفیکچررز پہلے ہی موجود ہیں۔
دوسرے ہال میں ایک عدالت ہو جہاں ملزم کا جرم نہیں صرف اس کے خلاف لگنے والا نعرہ سنا جائے۔ اگر نعرہ جذباتی ہو تو گواہوں کی ضرورت نہیں۔ اگر اس میں مذہب، قوم، غیرت یا حب الوطنی شامل ہو تو ثبوت پیش کرنا توہینِ عدالت تصور ہو۔ یہاں منصور حلاج کو ایک کردار میں ڈھال کر پیش کیا جائے۔ ان سے کوئی نہیں پوچھے گا کہ انہوں نے کیا کہا تھا صرف یہ پوچھا جائے گا کہ لوگوں نے ان کے بارے میں کیا سنا تھا۔ بغداد کے درباری علماء نے عباسی خلیفہ مستعصم باللہ کو یہ کہہ کر منصور حلاج کے ٹکڑے ٹکڑے کروا دیئے کہ وہ انا الحق کا نعرہ لگا کے خدائی کا دعوی کر رہا ہے مگر یہ نہیں بتایا کہ منصور حلاج آگے چل کے یہ بھی کہتا ہے کہ میں خدا کے کل کا ناقابل تقسیم جزو ہوں۔ جب لوگ ثواب دارین سمجھتے ہوئے منصور کو پتھر مار رہے تھے تو اسے ان پتھروں سے زیادہ اپنے دوست شبلی کے ہاتھ سے پڑنے والے پھول سے جھٹکا لگا۔ منصور نے زخمی گردن اٹھا کر کہا "شبلی، تم تو حقیقت جانتے ہو۔۔ پھر بھی؟"
اسی راہداری میں ابنِ رشد کھڑا ہو اپنے ہاتھ میں جلی ہوئی کتابوں کی راکھ لیے۔ ان کی غلطی صرف یہ تھی کہ مخالفین نے پوری کتاب نہیں پڑھی۔ ابن رشد کی 68 کتابوں میں سے ایک میں فلاسفہ یونان کے عقائد کا ذکر کرتے ہوئے یہ جملہ بھی موجود تھا کہ "اور پھر یہ ثابت کیا گیا کہ زہرہ (سیارہ) بھی خدا ہے"۔۔ حاسدین نے اس جملے کو سیاق و سباق سے الگ کرکے خلیفہ کو قائل کر لیا کہ ابن رشد کے خیالات مشرکانہ ہیں۔
اسی کمرہ عدالت میں تاریخی واقعات کی جدید منظرکشی بھی ایک تھری ڈی اسکرین پر چلتی رہے۔ واقعات مثلاً یورپ میں جب عیسائی پادریوں کو اپنی کرتوتوں سے نظر ہٹوانا مقصود ہوتا تو وہ اعلان کر دیتے کہ فلاں بستی میں یہودی ایک عیسائی بچہ اُبال کر کھا گیا ہے۔ بس پھر پادری کی قیادت میں سچے عیسائی یہودیوں کا صفایا کرنے نکل کھڑے ہوتے۔ جیسے ہمارے بچپن میں کوئی چپکے سے کان میں کہہ جاتا تھا کہ شیعوں کے تعزیے دیکھنے مت جایا کرو نکاح ٹوٹ جاتا ہے اور یہ سنی بچوں کا خون چاول میں ڈال کے نیاز بانٹتے ہیں۔
اسی عدالت کے ایک کونے میں قومی سیاسی یادداشت کا کارنر بھی قائم ہو جہاں داخل ہوتے ہی زائرین کو ہدایت دی جائے کہ یہاں یہاں ہر نظریہ موسم کے ساتھ رنگ بدلتا ہے۔ وہاں ایک شوکیس میں مولانا مودودی کی فائل رکھی ہو۔ برسوں تک ان سے ایسے اقوال منسوب کیے جاتے رہے جن کی نسبت پر بحث ہوتی رہی۔ ایک طرف انہیں دشمنِ صحابہ قرار دیا گیا، دوسری طرف خارجی فکر کا نمائندہ بتایا گیا، تیسری طرف ان کے پورے فکری مکتب کو الگ مذہب بنا کر پیش کیا گیا۔ پھر اچانک سیاست نے شفقت فرمائی، پی این اے وجود میں آگئی، پھر مودودی صاحب کی فکری جماعت ایم ایم اے کا اہم حصہ بھی بن گئی۔
برابر میں ذوالفقار علی بھٹو کی گیلری ہو۔ آڈیو گائیڈ بتائے کہ ایک زمانے میں عوام کو سمجھایا گیا تھا کہ یہ شخص اقتدار میں آیا تو مسجدوں پر تالے لگ جائیں گے، عورتیں بے راہ روی کی علامت بن جائیں گی، اسلام خطرے میں پڑ جائے گا، اس کی رگوں میں ہندو خون دوڑتا ہے اور اسے ووٹ دینے والوں کے نکاح بھی سلامت نہیں رہیں گے۔ مگر اقتدار میں آنے کے بعد اسی شخص نے احمدیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم قرار دیا، شراب پر پابندی لگائی، جمعہ کی سرکاری تعطیل نافذ کی اور اب وہی لاکھوں لوگوں کے نزدیک "شہید" بھی کہلاتا ہے۔
اس کے برابر میں ایک ڈیجیٹل اسکرین مسلسل آپ ڈیٹ ہوتی رہے۔ اس پر کبھی مولانا فضل الرحمٰن عمران خان کو "یہودی ایجنٹ" قرار دیتے دکھائی دیں اور کبھی تحریکِ انصاف کو ووٹ دینا حرام بتاتے سنائی دیں۔ اگلے منظر میں عمران خان مولانا کو انہی کانگریس نواز علما کا وارث قرار دیں جو کبھی قائداعظم پر سخت فتوے صادر کرتے ہوئے انہیں کافرِ اعظم کہتے تھے۔ پھر وکی لیکس کے حوالے گردش کریں جن کے مطابق مولانا امریکی سفیر کے گھٹنوں میں بیٹھ کر وزیراعظم بننے کی خواہش کا اظہار کرتے تھے۔ پھر اسکرین اچانک ریفریش ہو اور نیا منظر سامنے آ جائے۔ دونوں ایک ہی مسئلے پر متفق اور مشترکہ سیاسی راستے پر گامزن۔
عجائب گھر میں تیسرے ہال کا نام ہو "سیزنل فتویٰ گیلری"۔ یہاں ایک بٹن دبائیں تو ایک سیاست دان غدار وطن نکلے۔ دوسرا بٹن دبائیں تو وہی شخص اگلے انتخابات میں محب وطن بن جائے۔ ایک اور بٹن دبائیں تو جس کے پیچھے نماز جائز نہیں تھی اسی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس ہوتی نظر آئے گی۔ اسی ہال کی ایک دیوار پر تمام تاریخی پوسٹر آویزاں ہوں۔
"اسے ووٹ دیا تو نکاح ٹوٹ جائے گا"۔
"یہ اقتدار میں آیا تو مسجدیں بند ہو جائیں گی"۔
"یہودی ایجنٹ!"
"امریکی ایجنٹ!"
"بھارتی ایجنٹ!"
"قادیانی ایجنٹ!"
چوتھا ہال بچوں کے لیے مخصوص ہو۔ یہاں انہیں بتایا جائے گا کہ ہر نسل کو اپنا ایک نیا خوف تحفے میں ملتا ہے۔ کبھی کہا جاتا تھا فلاں فرقے کی مسجد میں نہ جانا، کبھی کہا گیا فلاں کتاب نہ پڑھنا، کبھی فلاں شخص سے نہ ملنا اور اب کہا جاتا ہے فلاں یوٹیوب چینل مت دیکھنا۔ خوف صرف کپڑے بدلتا ہے۔
پروپیگنڈہ ہمیشہ دوسروں پر اثر انداز نہیں ہوتا اکثر ہم خود اس کا سب سے کامیاب نمونہ ہوتے ہیں۔ ہم خبر نہیں سنتے اپنی پسند سنتے ہیں۔ ہم دلیل نہیں سنتے، اپنے تعصب کی بازگشت سنتے ہیں۔ ہمیں سچ سے زیادہ وہ جھوٹ پسند آتا ہے جو ہمارے قبیلے، ہمارے مسلک، ہماری جماعت یا ہمارے محبوب رہنما کے حق میں ہو۔ ہم مخالف کے بارے میں ہر افواہ پر فوراً ایمان لے آتے ہیں اور اپنے پسندیدہ شخص کے بارے میں ہر حقیقت کو عالمی سازش قرار دے دیتے ہیں۔ گوئبلز شاید آج زندہ ہوتا تو حیران ہوتا کہ اس نے تو صرف جھوٹ بولنے کا فن سکھایا تھا مگر یہاں تو لوگ جھوٹ سننے، آگے پہنچانے اور اس پر ایمان لانے کے فن میں بھی کمال حاصل کر چکے ہیں۔
اس قومی عجائب گھر سے باہر نکلتے ہوئے دروازے پر صرف ایک جملہ لکھا ہو "شکریہ! آپ دوبارہ تشریف لائیے گا۔ اگلے الیکشن، اگلے سال یا اگلی آئینی ترمیم کے بعد ہماری تمام نمائشیں اور حقیقتیں ازسرِنو تبدیل کر دی جائیں گی"۔

