Thursday, 16 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Syed Mehdi Bukhari
  4. Molana Ki Siasat

Molana Ki Siasat

مولانا کی سیاست

پاکستانی سیاست میں کئی عجب روایات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جب بھی مقتدرہ سے شکوہ کرنا ہو تو توپ کا رخ ہمیشہ فوجی جوان کی طرف موڑ دو جس کے ہاتھ میں پالیسی سازی تو ہرگز نہیں ہوتی۔ مولانا فضل الرحمٰن نے بھی اس بار کچھ ایسا ہی کیا۔ غصہ غالباً اسٹیبلشمنٹ پر تھا مگر نشانہ وہ فوجی جوان بن گیا جو یا تو برفانی چوکی میں بیٹھا ہوا ہے، یا بلوچستان کے کسی پہاڑ میں بارودی سرنگوں سے بچتا پھر رہا ہے، یا کسی سرحدی گاؤں میں دہشت گردوں کے تعاقب میں اپنی باری کا انتظار کر رہا ہے۔ پاکستان میں بڑے لوگوں کا غصہ اکثر چھوٹے لوگوں پر ہی اترتا ہے۔ جرنیل ناراض ہو تو وزیراعظم مارا جاتا ہے اور اگر سیاست دان ناراض ہو تو فوجی سپاہی۔

اس میں شک نہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کی سیاست میں مداخلت اتنی ہی پرانی ہے جتنا ریڈیو پاکستان کا وہ اعلان کہ "ملک کے وسیع تر مفاد میں"۔۔ ہر چند برس بعد آئین کو لپیٹ کے الماری میں رکھ دیا جاتا ہے، سیاست دانوں کو تراشا جاتا ہے، جماعتیں بنائی جاتی ہیں، توڑی جاتی ہیں، الیکٹیبلز کی فصل اگائی جاتی ہے اور کبھی قوم کو یہ بتایا جاتا ہے کہ جمہوریت خطرے میں ہے اور کبھی یہ کہ ایسی کرپشن زدہ جمہوریت سے ملک کو خطرہ درپیش تھا لہٰذا اب ملک بچانے کے لیے چند غیر جمہوری اقدامات ناگزیر ہیں۔ اس سارے کھیل پر تنقید کیجیے، ضرور کیجیے۔ جرنیلوں کے نام لیجیے، پالیسی سازوں کو للکاریے، فیصلے کرنے والوں سے سوال کیجیے۔ طاقت جہاں موجود ہو، احتساب بھی وہیں ہونا چاہیے۔ لیکن اگر ساری بہادری ایک سپاہی پر نکلنی ہے تو یہ ایسا ہی ہے جیسے بجلی کے بڑھتے نرخوں یا بل پر غصہ آئے اور محکمے کے میٹر ریڈر کو پیٹ دیا جائے۔

مولانا کی سیاست بھی ایک دلچسپ داستان ہے۔ اگر پاکستانی سیاست ایک یونیورسٹی ہوتی تو مولانا اس کے تاحیات وائس چانسلر ہوتے۔ انہوں نے آمریت بھی دیکھی، جمہوریت بھی، اتحاد بھی بنائے، اختلاف بھی نبھایا، حکومتوں کا حصہ بھی رہے، حکومتیں گرائیں بھی، احتجاج بھی کیے، مذاکرات بھی کیے اور ایسے ایسے سیاسی موسم دیکھے کہ محکمۂ موسمیات بھی ان سے پیش گوئی سیکھ سکتا ہے۔ وہ ان چند سیاست دانوں میں سے ہیں جو لفافہ دیکھ کر خط کا مضمون ہی نہیں بلکہ یہ بھی بتا دیتے ہیں کہ ڈاکیا کس پارٹی کا ووٹر ہے۔ وہ شکار کے ساتھ بھی دوڑ سکتے ہیں اور شکاری کے ساتھ بھی اور دونوں کو آخر میں یہی یقین رہتا ہے کہ مولانا صرف انہی کے ساتھ تھے۔ سیاست میں اس درجے کی لچک عام طور پر ربڑ میں بھی نہیں پائی جاتی۔

کہتے ہیں بہترین تاجر وہ ہوتا ہے جو پہلے ضرورت پیدا کرتا ہے پھر وہی چیز بیچتا ہے جس کی ضرورت پیدا کی گئی۔ مولانا اس فن کے بھی استاد معلوم ہوتے ہیں۔ وہ آرڈر پر مال تیار نہیں کرتے، پہلے مارکیٹ میں طلب پیدا کرتے ہیں پھر اپنا سیاسی مال اتارتے ہیں اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ سارے کا سارا بیچ بھی لیتے ہیں۔ مولانا کو جاننے والے جانتے ہیں کہ وہ جذبات سے زیادہ حساب کتاب کے آدمی ہیں۔ وہ شطرنج کی وہ چال کم ہی چلتے ہیں جس کا اگلا خانہ انہیں نظر نہ آ رہا ہو۔ اس لیے بعید نہیں کہ چند روز بعد وہ اپنے الفاظ کی ایسی تشریح کر دیں کہ مخالف بھی سر کھجاتا رہ جائے اور حامی بھی تالیاں بجاتا رہے۔ یہ ہنر ہر کسی کے نصیب میں نہیں ہوتا۔

پاکستانی سیاست میں بہت سے لوگ تقریریں کرتے ہیں، جذباتی نعرے لگاتے ہیں، خواب بیچتے ہیں مگر مولانا ان نایاب کرداروں میں سے ہیں جو حالات کا درجہ حرارت دیکھ کر اپنا سیاسی ترموسٹیٹ خود سیٹ کر لیتے ہیں۔ اسی لیے وہ ہر موسم میں موجود رہتے ہیں۔ حکومت بدلے، اتحاد بدلے، آرمی چیف بدلیں، نعرے بدلیں لیکن مولانا کی سیاسی بقا پر کبھی حرف نہیں آتا۔ وہ اپنی ذات میں خود ادارہ ہیں۔ بلکہ یوں لگتا ہے کہ پاکستان میں دو ادارے ہمیشہ قائم رہیں گے۔ ایک اسٹیبلشمنٹ اور دوسرا مولانا فضل الرحمٰن۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے ادارے کے بارے میں لوگ کہتے ہیں کہ وہ ہر حکومت میں موجود ہوتا ہے جبکہ دوسرے کے بارے میں تاریخ گواہی دیتی ہے کہ وہ بھی ہر دور میں ضرور موجود ہوتا ہے اور ماضی قریب تک اشد ضرورت پڑنے پر انتہائی مہارت برتتے اسٹیبلشمنٹ کے کام بھی آتا رہا ہے۔

Check Also

Saneha Kanha Ki Saza Tution Sector Ko Kyun?

By Raheel Qureshi