Thursday, 16 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Nasir Abbas Nayyar
  4. Swat Mein Rad e Nao Abadiyat, Guftgu, Sair o Safar

Swat Mein Rad e Nao Abadiyat, Guftgu, Sair o Safar

"سوات میں رد نوآبادیت"، گفتگو، سیر و سفر

دو دن پہلے سوات ریڈرز سوسائٹی کی دعوت پر گورنمنٹ جہاں زیب کالج، سیدو شریف میں "رد نو آبادیت اور ادب" کے عنوان سے گفتگو کی۔ معلوم نہیں گفتگو کیسی تھی، مگر یہاں گفتگو کرنا، سوال سننا اور کمرے کا واقعی کھچا کھج بھرا ہونا، دوسرے شہروں اور قصبوں سے نوجوانوں کا پہنچنا، نوجوانوں کے علاوہ اساتذہ، دانشوروں اور ادیبوں کا جمع ہونا یادگار تھا۔

سب سے اہم بات یہ کہ نوجوانوں کی تنظیم ادب، سماجیات، سیاست، فلسفے کی کتب کو ہر ہفتے بحث کا موضوع بناتی ہے۔ ان کتب کا تعلق عام انسانی صورت حال کے علاوہ یہاں کی مقامی، پیچیدہ، سیاسی، مذہبی، قومی، تعلیمی، ادبی، فکری صورت حال سے ہوتا ہے۔

یہ بات بھی بہ طور خاص نوٹ کی کہ یہاں نو آبادیات، نو آبادیت، رد نو آبادیت سے گہری، حقیقی بلکہ والہانہ دل چسپی پائی جاتی ہے، یعنی اس کی نوعیت خالی اکیڈیمک، کسی کانفرنس میں مقالہ پڑھنے یا کسی مرتبہ کتاب کے لیے باب لکھنے سے مختلف ہے۔

یہاں کے نوجوانوں اور اساتذہ کو محسوس ہوتا ہے کہ ان کی اجتماعی زندگی کی تفہیم اور کچھ کڑے سوالوں کے جواب رد نو آبادیت دے سکتی ہے۔ گزشتہ پچاس سالوں میں پورے ملک نے عمومی طور پر مگر خیبر پختونخوا اور بلوچستان نے (جس نے کئی دہائیوں سے) خصوصی طور پر بیرونی، اندرونی، سیاسی، مذہبی، نفسیاتی استعمار کے ہاتھوں زخم کھائے ہیں۔ وہ اسے پوری طرح سمجھنا اور اس کے قہر سے بچنا چاہتے ہیں۔

میری گفتگو کے مرکزی نکات دو تھے۔ نو آبادیات تاریخی واقعہ ہے، جب کہ نو آبادیت یعنی کولونیلٹی نو آبادیات کی گرامر، منطق، شعریات ہے۔ نو آبادیات کے خاتمے کے بعد بھی نو آبادیت برقرار رہتی ہے، مزید بگڑتی ہے اور اس کی جبریت میں اضافہ ہوتا ہے۔

نو آبادیت ہماری فکر، تفہیم، تعبیر کے طریقوں، ادبی کینن، لسانی درجہ بندیوں کے نظام، یہاں تک کہ خود آگاہی کے آداب و اقدار میں سرایت کیے ہوتی ہے۔ اس بنا پر اسے پہچاننا آسان نہیں ہوتا۔ مگر اسے پہچاننا اتنا ہی ضروری ہوتا ہے۔

دوسرا نکتہ یہ تھا کہ نو آبادیت کی جڑ "علم، طاقت ہے" کے تصور میں ہے۔ علم کو طاقت بنانا، دراصل علم کو مستقل طور پر سرمایہ درایت سے وابستہ کردینا ہے۔ علم، ایک محدود طبقے ہی کی طاقت میں بدلتا ہے۔ نیز جس چیز کا علم حاصل کیا جاتا ہے، اسے در اصل کولو نائز کیا جاتا ہے۔

رد نو آبادیت جہاں استعماری منطق کو پہچانتی، مقامی منطق کو بحال کرتی اور بروے کار لاتی ہے، وہاں علم، طاقت ہے کہ جگہ "علم، روشنی ہے" کا تصور سامنے لاتی ہے۔ طاقت اور روشنی کا فرق ظاہر ہے۔ روشنی کسی کمزوری کی علامت بھی نہیں ہے، مگر اس کی روح اجتماعی اور ہمہ گیر ہے۔ "علم، طاقت ہے" اپنے اندر تصادم کے ایک قوی امکان لیے ہوئے ہے، جب کہ "علم روشنی ہے" کا تصور ہم آہنگی کے یقین سے عبارت ہے۔

والٹر مگنولو کے "علمیاتی نافرمانی" کے رد نو آبادیتی تصور پر بھی بحث ہوئی۔ یعنی یورپ مرکزیت کی علمیات کی مکمل نافرمانی اور مکمل انقطاع۔ میرے نزدیک یہ ایک بنیاد پرستانہ تصور ہے جو یورپ و غیر یورپ کی ثنویت کو مطلق و ناگزیر قرار دیتا ہے۔ میری نظر میں نو آبادیاتی جدیدیت اور جدیدیت میں فرق ہے۔ نو آبادیاتی جدیدیت، جدیدیت کا مسخ شدہ متن ہے جسے نو آبادیوں کے لیے محنت سے تیار کیا گیا۔ اس کی نافرمانی کی جانی چاہیے۔

نو آبادیت، مشرق و مغرب میں ثنویت قائم کرتی ہے، مشرق، مشرق رہتا ہے، مغرب مغرب رہتا ہے۔ رد نو آبادیت، اس ثنویت کو الٹاتی نہیں ہے، یعنی مغرب سے وہی سلوک نہیں کرتی جو اس نے مشرق سے کیا۔ رد نو آبادیت بدلہ و انتقام نہیں ہے، یہ تاریخ کے تشدد کو برقرار نہیں رکھتی۔ یہ نجات پسند ہے، تشدد پسند نہیں۔ یہ مغرب و مشرق دونوں پر ایک انسانی، تنقیدی نگاہ ڈالنے کی قائل ہے۔

اور بھی بہت کچھ وہاں گفتگو ہوئی۔

نشست کے خاتمے کے بعد سیدو شریف کا سٹوپا دیکھا۔ یہ سوات، گندھارا کی تہذیب سے آثاریاتی تعارف تھا۔ اس کے سامنے عثمان الس یار کا گھر ہے جہاں طویل یادگار نشست ہوئی۔ اس نشست میں مشتاق صاحب، اصغر صاحب، عطا صاحب، امجد صاحب، اسد، ماز، صدام بھی شریک تھے۔

یہاں سوات، سوات کی ریاست، بدھ مت، گندھارا اور موجودہ و ماضی قریب کی مذہبی شدت پسندی کے علاوہ اردو، پشتو، سرائیکی شاعری پر گفتگو ہوئی۔ ایک بات بار بار محسوس ہوئی کہ ریاست سوات کا حوالہ کئی وجوہ سے بار بار گفتگو میں آتا ہے۔

اگلے دن پشتو کے استاد ڈاکٹر عطا، اسد، ماذ کے ساتھ سوات میوزیم دیکھا۔ میرے ساتھ ارمغان اور علی تھے۔ سوات عجائب گھر کے لیے اطالوی مشن نے اچھا کام کیا ہے مگر مزید بہتری کی بہت گنجائش ہے۔

حضرت شیخ عبدالغفور مجدد، سیدو بابا (وفات: 1876)کے مزار پر حاضری دی۔ وہاں کچھ لوگ، مدھم، خاموشی کے قریب کی زبان میں ایک بزرگ کی قیادت میں ورد کررہے تھے۔ خانقاہی نظام کی روحانی تربیت نے مزار کی فضا میں تقدس بھر دیا تھا۔

بعد میں ہمارا مختصر قافلہ مرغزار گیا۔ یہاں کوہستانی جنگل کا جمال فراواں ہے، اپنی اصلی، اپنی اور بے باک صورت میں ہے۔

یہاں والی سوات نے 1941 میں سفید محل تعمیر کروایا۔ گرمائی صدر مقام۔ اس کے سامنے کارخ تاج محل کے سفید سنگ مرمر کے مرمریں نور کی یاد دلاتا ہے۔ یہاں کی خاص بات یہ ہے کہ فطرت کو کاٹا پیٹا نہیں گیا۔

تشدد و تخریب کی بجائے فطرت سے ہم آہنگی اختیار کی گئی ہے۔ پہاڑ و جنگل و وادی میں جہاں خالی جگہ تھی، اسے انسانی مقصد کے لیے کام میں لایا گیا ہے۔

یہاں چشمہ ہے، چشمے کی موسیقی ہے، پرندوں کا غنا ہے، چنار اور دیار سے شوخیاں کرتے راگ ہیں۔ ہمارے پہنچنے پر فطرت نے ہمارے ذوق کو مد نظر رکھتے ہوئے پورے کنسرٹ کا اہتمام کیا۔ پہلے بادل گرجے، ہوائیں تیز ہوئیں، پھر بوندوں کی جل ترنگ بجی اور پھر زور کا مینہ۔ مدت بعد بارش کا یہ کنسرٹ دیکھا، سنا اور اسے اپنے دل میں اپنے اسلوب میں جگہ بنانے دی۔

سوات کے اس سفر، قیام اور سیر کا سارا اہتمام اسد خاں نے کیا۔ وہ ہر پل ساتھ رہا اور اس سفر و قیام کو یادگار بنایا۔ ان کے ساتھ ماذ تھے۔ فضل کبیر سوات نہیں پہنچ سکے مگر مسلسل رابطے میں رہے۔ کل عطا صاحب نے پورا دن ساتھ گزارا۔ سب دوستوں کا بہت شکریہ!

Check Also

Pakistan Ka Almiya (2)

By Javed Chaudhry