Saneha Kanha Ki Saza Tution Sector Ko Kyun?
سانحہ کاہنہ کی سزا ٹیوشن سیکٹرز کو کیوں؟

ٹیوشن کے وہ چھوٹے کمرے یاد رکھنا تم
یہیں سے قوم کے سورج نکلنا سیکھ جاتے ہیں
موسم گرم میں لاہور کے ٹیوشن سینٹرز کی ہوائیں سرد ہیں۔ گزشتہ چند روز قبل لاہور کے علاقے کاہنہ میں ایک ایسا المناک سانحہ پیش آیا جس نے ہر آنکھ کو اشکبار کر دیا۔ ایک محنتی، باصلاحیت اور نیک نیت لیڈی ٹیچر اپنے گھر میں بچوں کو ٹیوشن پڑھا رہی تھیں کہ اچانک چھت زمین بوس ہوگئی۔ اس دلخراش حادثے میں کئی معصوم بچے دوران تعلیم شہید ہو گئے جبکہ لیڈی ٹیچر شدید زخمی ہوگئیں۔ جو بچے کتابیں ہاتھ میں لیے مستقبل کے خواب دیکھ رہے تھے۔ پل بھر میں وہ خواب ملبے تلے دب گئے۔ یہ سانحہ صرف چند گھروں کا نہیں پوری قوم کا دکھ ہے۔
بدقسمتی جب کسی فرد، خاندان یا معاشرے کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہے تو آزمائیش صرف متاثرہ لوگوں کی نہیں ہوتی بلکہ پوری قوم کے کردار کی بھی ہوتی ہے۔ ایسے وقت میں انصاف، ہمدردی اور برداشت کا امتحان ہوتا ہے۔ افسوس کف افسوس کہ اس سانحہ کے بعد بعض یوٹوبرز اور میڈیا کے چند حلقوں نے دکھ بانٹنے کی بجائے سنسنی خیز خبریں پھیلانے کو ترجیح دی۔ سفید پوشی کو جرم بنا دیا گیا۔ سوشل میدیا کی عدالتیں لگ گئیں، فیصلے سنائے جانے لگے، گرفتاریوں کے مطالبات ہونے لگے، حالانکہ کسی بھی حادثے کے حقائق تک پہنچنا پولیس اور تحقیقاتی اداروں کا کام ہوتا ہے نہ کہ جذباتی تبصروں اور میڈیا ٹرائل کا۔
ہمارے وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات صاحب نے بھی اپنی دانست میں حکم صادر کیا کہ تمام ٹیوشن سینٹرز پر آپریشن کیے جائیں، انہیں رجسٹرڈ کروانے کا پابند کیا جائے، بلڈنگ سیفٹی سرٹیفیکیٹ کا بھی پابند کیا جائے۔ خاکسار نے اپنی متعدد تحریروں کے زریعے موقف پیش کیا کہ آخر آپ ہر ٹیوشن سینٹر کو ایک باقاعدہ تعلیمی ادارہ کیسے قرار دے سکتے ہیں؟ ٹیوشن سینٹر صرف وہ نہیں ہوتا جس میں کئی کلاس روم ہوں اور کمرشل عمارت ہو۔ ہمارے معاشرے میں ہزاروں نہیں لاکھوں بچیاں، ماہیں، بہنیں، بیٹیاں اپنے گھروں کے ایک کمرے میں محلے کے 10,12,15 بچوں کو معمولی سی فیس پر پڑھاتی ہیں۔ ان میں سے کئی ایسی ہیں جو ملازمت نہیں کر سکتی، گھر سے باہر نہیں جا سکتیں۔ مگر خاموشی سے اقبال کے شاہینوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کر رہی ہیں۔ کئی ایسے بچے ہوتے ہیں جن سے وہ فیس نہیں لیتیں، صرف اس نیت سے کہ کوئی بچہ تعلیم سے محروم نہ رہے۔
وزیر تعلیم صاحب! فیصلہ صادر کرنے سے پہلے یہ بھی سوچھیے کہ 500,700 روپے ماہانہ فیس لے کر ہماری ماہیں، بہنیں، بیٹیاں اپنی ٹیوشن کو کیسے رجسٹرڈ کروائیں گی؟ وہ بلڈنگ سیفٹی سرٹیفیکیٹ، کمرشل شرائط اور دیگر قانونی تقاضے کیسے پورے کریں گی؟ قانون سازی وہ کریں جو زمینی حقائق کے مطابق ہو، نہ کہ سفیدپوش اساتذہ کے لیے خوف اور مشکلات کا سبب بن جائے۔ قانون کمزور کو سہارا دیتا ہے دیوار سے نہیں لگاتا۔ قانونی ماہرین بھی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ قانون سازی میں تناسب اور حالات کا لحاظ رکھا جانا چاہیے۔ ہر گلی، ہر محلے میں چند بچوں کو پڑھانے والی بچیوں کو ایک کمرشل ادارے کے برابر کھڑا کرنا پیچیدہ مسئلہ بن سکتا ہے۔
وزیراعلی پنجاب محترمہ مریم نواز صاحبہ آپ کا کا وژن، آپ کے دور حکومت میں خواتین کی فلاح اور خود مختاری کے لیے متعدد منصوبے متعارف کروائے جا رہے ہیں۔ خدارا ان ماؤں بہنوں، بیٹیوں کے لیے بھی آسانی پیدا کیجیے جو اپنے گھروں کے ایک کمرے میں بچوں کو تعلیم دے کر عزت کے ساتھ روزگار بھی کما رہی ہیں اور قوم کی خدمت بھی کر رہی ہیں۔ انہیں ایسے سخت انتظامی تقاضوں کے بوجھ تلے نہ دبایا جائے جنہیں پورا کرنا ان کے بس سے باہر ہو۔
آج اگر یہ خاموش معلمائیں خوف سے ایسے نت نئے قوانین کے مکمل نہ کیے جانے سے بچوں کو پڑھانا چھوڑ گئیں، اگر ہر گلی اور محلے کا یہ تعلیمی چراغ بجھ گیا تو اس کا نقصان صرف ان اساتذہ کو نہیں ہوگا بلکہ پورا معاشرہ اس کی قیمت چکائے گا۔ وہ بچے جو آج کتابوں کے درمیان بیٹھے ہیں، کل گلیوں، سڑکوں اور منفی سرگرمیوں کی نذر ہو سکتے ہیں۔ آنے والی نسلوں کے لیے ایسے فیصلے مناسب نہں ہو نگے۔ کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ جب استاد خوفزدہ ہو جائے تو کتابیں خاموش ہو جاتی ہیں اور جب کتابیں خاموش ہو جاہیں تو قوموں کا مستقبل اندھیروں میں کھو جاتا ہے۔
جو گھر کے ایک کمرے میں چراغ جلاتے ہیں
حقیقت میں وہی قوموں کے مستقبل بناتے ہیں

