Kya Hum Baba e Qaum Ke Waris Hain?
کیا ہم اپنے بابائے قوم کے وارث ہیں؟
کبھی کبھی ایک اخباری کالم صرف ایک خبر یا ایک واقعے کی تفصیل نہیں ہوتا بلکہ پوری قوم کے ضمیر پر دستک بن جاتا ہے۔ ممتاز صحافی اور سینئر تجزیہ کار مظہر عباس کا حالیہ کالم، "مزارِ قائد کو لاحق خطرات"، بھی ایسی ہی ایک تحریر ہے۔ بظاہر یہ مزارِ قائد کو درپیش انتظامی، حفاظتی اور مالی مسائل کا جائزہ ہے، لیکن اس کی اصل اہمیت اس سوال میں مضمر ہے جو شاید ہم سب کو خود سے پوچھنا چاہیے: کیا ہم اپنے بابائے قوم کے وارث ہونے کا حق ادا کر رہے ہیں؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ قوموں کی زندگی میں کچھ مقامات محض اینٹ، پتھر اور سنگِ مرمر سے نہیں بنتے۔ وہ ان خوابوں، قربانیوں اور جدوجہد کی علامت ہوتے ہیں جن پر ایک قوم کی بنیاد رکھی گئی ہو۔ مزارِ قائد بھی ایسی ہی ایک علامت ہے۔ یہ صرف محمد علی جناح کی آخری آرام گاہ نہیں بلکہ اس عہد کی نشانی ہے جو ایک منتشر قوم نے اپنے سب سے عظیم رہنما کے ساتھ کیا تھا۔
محمد علی جناح کا کارنامہ صرف ایک نئی ریاست کا قیام نہیں تھا۔ انہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کو ایک سیاسی شعور، ایک آئینی راستہ اور ایک باوقار قومی شناخت عطا کی۔ انہوں نے ایک ایسی جدوجہد کی قیادت کی جس کی مثال دنیا کی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قوم نے انہیں محض ایک سیاسی رہنما نہیں سمجھا بلکہ محبت، احترام اور تشکرکے جذبات کے ساتھ بابائے قوم اور قائداعظم کے القابات سے نوازا۔
ہماری نسل شاید اس اعتبار سے خوش قسمت تھی کہ اس نے قائداعظم کو صرف نصابی کتابوں میں نہیں پڑھا بلکہ قومی زندگی میں محسوس کیا۔ ان کا نام لیتے ہوئے لہجہ خود بخود مؤدب ہو جاتا تھا۔ مزارِ قائد کی زیارت ایک سیاحتی سرگرمی نہیں بلکہ قومی تاریخ سے خاموش ملاقات محسوس ہوتی تھی۔ ہمیں یہ احساس دلایا جاتا تھا کہ اس سفید گنبد کے نیچے وہ شخصیت آسودۂ خاک ہے جس نے ہمیں ایک آزاد وطن، ایک قومی شناخت اور اپنے مستقبل پر یقین کرنے کا حوصلہ دیا۔
اسی لیے جب مظہر عباس اپنے کالم میں یہ لکھتے ہیں کہ مزارِ قائد برسوں سے عام شہریوں کے لیے محدود رسائی کا شکار ہے، اس کے اطراف تجاوزات بڑھ رہی ہیں، حفاظتی دیواریں توجہ کی منتظر ہیں اور ریاستی ترجیحات میں اس کا مقام کمزور ہوتا جا رہا ہے، تو دل میں اضطراب اور ذہن میں تشویش پیدا ہونا ایک فطری امر ہے۔ یہ صرف ایک تاریخی عمارت کی دیکھ بھال کا معاملہ نہیں بلکہ ہماری قومی ترجیحات کا آئینہ ہے۔
یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ مزار کی مرمت کب ہوگی، بجٹ کتنا ہے یا حفاظتی انتظامات کیوں ناکافی ہیں۔ اصل سوال اس سے کہیں بڑا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہماری اجتماعی یادداشت کمزور ہوتی جا رہی ہے؟
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ قومیں اپنے محسنوں کو صرف اس لیے یاد نہیں رکھتیں کہ وہ ماضی کے ہیرو تھے، بلکہ اس لیے کہ آنے والی نسلوں کو یہ معلوم رہے کہ ان کی قومی شناخت کن بنیادوں پر قائم ہوئی تھی۔
امریکہ میں جارج واشنگٹن اور ابراہم لنکن صرف تاریخ کی شخصیات نہیں بلکہ قومی کردار کی علامت ہیں۔ فرانس میں شارل ڈیگال، برطانیہ میں ونسٹن چرچل اور جنوبی افریقہ میں نیلسن منڈیلا کو ریاستی وقار کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ ہندوستان میں سیاسی اختلافات اپنی جگہ، مگر مہاتما گاندھی، ڈاکٹر بی آر امبیڈکر، سردار ولبھ بھائی پٹیل اور دیگر قومی رہنماؤں کی یادگاروں، افکار اور قومی خدمات کو نئی نسل سے جوڑنے کی مسلسل کوشش کی جاتی ہے۔ دنیا کی باشعور قومیں جانتی ہیں کہ جو نسل اپنے محسنوں کو بھول جاتی ہے، وہ آہستہ آہستہ اپنی شناخت بھی کھونے لگتی ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے ہاں قائداعظم کا ذکر اکثر قومی دنوں اور رسمی تقریبات تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ ان کی تصویر ہر دفتر میں موجود ہے، مگر ان کے افکار ہماری قومی پالیسیوں اور اجتماعی رویوں میں کم ہی دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی تقاریر کا حوالہ ضرور دیا جاتا ہے، مگر ان کے تصورِ قانون، آئینی بالادستی، دیانت، ادارہ سازی، مساوات اور شہری وقار کو ہماری عملی زندگی میں وہ جگہ نہیں مل سکی جس کا وہ تقاضا کرتے تھے۔
کسی قوم کے لیے اپنے بانی کا احترام صرف پھول چڑھانے یا سرکاری تعطیل منانے کا نام نہیں۔ اصل احترام یہ ہے کہ اس کے افکار کو زندہ رکھا جائے، اس کی یادگاروں کو وقار دیا جائے اور نئی نسل کو یہ احساس دلایا جائے کہ آزادی کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل، صبرآزما اور اصولی جدوجہد کا ثمر ہوتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ مزارِ قائد کو محض ایک محفوظ عمارت نہ سمجھا جائے بلکہ اسے قومی شعور کا مرکز بنایا جائے۔ وہاں جدید میوزیم، تحقیقی مرکز، ڈیجیٹل آرکائیوز اور طالب علموں کے لیے باقاعدہ مطالعاتی پروگرام قائم کیے جائیں تاکہ نوجوان نسل قائداعظم کو صرف ایک تصویر یا امتحانی سوال کے طور پر نہیں بلکہ ایک زندہ فکری روایت کے طور پر جانے۔
یہ ذمہ داری صرف وفاقی حکومت یا حکومتِ سندھ کی نہیں۔ قائداعظم کسی ایک شہر، کسی ایک صوبے یا کسی ایک جماعت کے رہنما نہیں تھے۔ وہ پورے پاکستان کے بابائے قوم ہیں۔ ان کے مزار کا وقار، ان کی یاد کی حفاظت اور ان کے افکار کا فروغ پورے پاکستان کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
مظہر عباس کا کالم دراصل ایک صحافی کی فریاد سے زیادہ ایک محبِ وطن شہری کی تشویش محسوس ہوتا ہے۔ اس تشویش کو محض ایک اور خبر سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے، کیونکہ بعض اوقات ایک قوم کا اصل امتحان اس کی جنگوں میں نہیں بلکہ اس بات میں ہوتا ہے کہ وہ اپنے محسنوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتی ہے۔
تاریخ کا ایک اٹل اصول ہے کہ قومیں اس وقت زوال پذیر نہیں ہوتیں جب ان کی معیشت بحران کا شکار ہو یا ان کی سیاست اختلافات سے بھر جائے۔ وہ اس وقت کمزور ہونا شروع ہوتی ہیں جب ان کی اجتماعی یادداشت دھندلانے لگتی ہے، جب ان کے قومی محسن محض نصابی صفحات، سرکاری تقریبات یا کرنسی نوٹوں کی تصاویر تک محدود ہو جائیں۔
آج ہمیں مزارِ قائد کی مرمت سے پہلے شاید اپنے قومی شعور کی مرمت کی ضرورت ہے۔
اپنی نئی نسل کو یہ احساس دلانے کی ضرورت ہے کہ پاکستان محض ایک جغرافیہ نہیں، ایک عظیم جدوجہد کی امانت ہے اور اس جدوجہد کا سب سے روشن نام محمد علی جناح ہے۔
قومیں اپنے محسنوں کا قرض کبھی ادا نہیں کر سکتیں۔ البتہ وہ اتنا ضرور کر سکتی ہیں کہ ان کے افکار کو زندہ رکھیں، ان کی یادگاروں کی حفاظت کریں اور اپنی اجتماعی یادداشت کو وقت کی گرد سے محفوظ رکھیں۔ کیونکہ جس قوم کی یادداشت زندہ رہتی ہے، اس کا مستقبل بھی زندہ رہتا ہے۔

