Edward Said: Istashraq Aur Ma Baad e Nau Abadiyati Fikr (1)
ایڈورڈ سعید: استشراق اور مابعد نوآبادیاتی فکر (1)

شام کے دھندلکے میں جب قدیم کتب خانوں کی الماریوں پر جمی گرد خاموشی سے اڑتی ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے تاریخ اپنے اوراق خود الٹ رہی ہو۔ صدیوں پہلے لکھے گئے الفاظ اچانک زندہ ہو کر یہ سوال کرنے لگتے ہیں کہ آخر قوموں کی تقدیر تلواریں لکھتی ہیں یا قلم؟ اور کیا سلطنتیں صرف سرحدوں پر قائم ہوتی ہیں، یا وہ انسان کے شعور، اس کی زبان، اس کی یادداشت اور اس کی شناخت پر بھی اپنی حکومت قائم کر لیتی ہیں؟ یہی وہ سوال ہے جس نے بیسویں صدی کے ایک غیر معمولی مفکر، ایڈورڈ ولیم سعید، کو انسانی علوم کے پورے فکری منظرنامے میں ایک منفرد اور فیصلہ کن آواز بنا دیا۔
بیسویں صدی کا فکری منظرنامہ اگر چند ایسی شخصیات کے گرد مرتب کیا جائے جنہوں نے ادب، فلسفہ، تاریخ، ثقافت، سیاست، شناخت، نوآبادیات اور علم کے باہمی تعلق کو نئے زاویۂ نظر سے سمجھنے کی بنیاد رکھی، تو ایڈورڈ ولیم سعید کا نام ان میں سب سے نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ ان کی علمی حیثیت کسی ایک شعبۂ علم تک محدود نہیں تھی۔ وہ بیک وقت ادبی نقاد، تقابلی ادب کے استاد، فلسفی، ثقافتی مفکر، سیاسی مبصر، فلسطینی قومی مؤقف کے ترجمان اور مابعد نوآبادیاتی مطالعات (Postcolonial Studies) کے بانی مفکرین میں شمار ہوتے ہیں۔ تاہم ان کی اصل انفرادیت اس سوال میں مضمر ہے جس نے جدید انسانی علوم کے کئی مسلمہ تصورات کو چیلنج کیا: کیا علم واقعی غیر جانب دار ہوتا ہے، یا وہ اقتدار، سیاست اور تہذیبی غلبے کے منصوبوں کا ایک فعال آلہ بھی بن سکتا ہے؟
یہ سوال بظاہر سادہ معلوم ہوتا ہے، لیکن درحقیقت اس نے علمیات (Epistemology)، تاریخ نویسی، ادبی تنقید، سماجیات، سیاسیات، بین الاقوامی تعلقات، میڈیا اسٹڈیز، ثقافتی مطالعات اور نوآبادیاتی تاریخ کے پورے ڈھانچے کو ازسرِ نو مرتب کر دیا۔ یہی سوال آگے چل کر ان کی شہرۂ آفاق تصنیف "Orientalism" کا بنیادی مقدمہ بنا اور یہی کتاب بیسویں صدی کی ان چند تصانیف میں شامل ہوئی جنہوں نے علمی دنیا میں ایک فکری انقلاب برپا کیا۔ استشراق صرف ایک کتاب نہیں بلکہ علم، طاقت، نمائندگی اور تہذیب کے باہمی رشتوں کی ایسی تنقیدی تعبیر ہے جس نے مغربی علمی روایت کے بہت سے مسلمہ تصورات کو نئے سرے سے پرکھنے پر مجبور کر دیا۔
اکیسویں صدی میں جب دنیا بظاہر نوآبادیاتی دور سے نکل چکی ہے، تب بھی طاقت کے طریقۂ کار میں بنیادی تبدیلی نہیں آئی۔ صرف اس کے وسائل تبدیل ہوئے ہیں۔ ماضی میں سلطنتیں توپ، تلوار اور فوج کے ذریعے قائم ہوتی تھیں، جبکہ آج عالمی ذرائع ابلاغ، جامعات، تحقیقی ادارے، بین الاقوامی تنظیمیں، فلم، ڈیجیٹل پلیٹ فارم، مصنوعی ذہانت، نصابِ تعلیم، پبلشنگ انڈسٹری اور ثقافتی بیانیے نئی سامراجی قوتوں کے طور پر سامنے آ چکے ہیں۔ اس نئی دنیا میں جنگیں سرحدوں پر کم اور تصورات کے اندر زیادہ لڑی جاتی ہیں۔ قوموں کی زمینوں سے پہلے ان کے بیانیے فتح کیے جاتے ہیں اور زبان پر قبضہ اکثر سرزمین پر قبضے سے زیادہ دیرپا ثابت ہوتا ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے ایڈورڈ سعید نے نصف صدی قبل محسوس کر لیا تھا۔
ایڈورڈ سعید کی فکری تشکیل کو ان کی ذاتی زندگی سے الگ کرکے نہیں سمجھا جا سکتا۔ 1935ء میں یروشلم میں پیدا ہونے والا یہ فلسطینی بچہ جلد ہی اپنی سرزمین سے محرومی، جلاوطنی، تہذیبی دوئی اور شناختی بحران کا تجربہ کرنے پر مجبور ہوا۔ فلسطین سے مصر، وہاں سے لبنان اور پھر امریکہ کی جامعات تک کا سفر محض جغرافیائی نقل مکانی نہیں تھا بلکہ تہذیبی شعور کی تشکیل کا سفر بھی تھا۔ وہ ایک ایسی شخصیت بن گئے جو بیک وقت عرب بھی تھے، امریکی شہری بھی، مغربی جامعات کے استاد بھی اور فلسطینی قومی شعور کی علامت بھی۔ اسی دوہرے اور کبھی کبھی متضاد تجربے نے انہیں یہ سمجھنے میں مدد دی کہ شناخت کوئی جامد شے نہیں بلکہ ایک تاریخی، ثقافتی اور سیاسی تشکیل ہے، جسے طاقتور بیانیے مسلسل ازسرِ نو مرتب کرتے رہتے ہیں۔
ان کی علمی کاوش کا بنیادی نکتہ یہی تھا کہ مغرب نے مشرق کو صرف دریافت نہیں کیا بلکہ اسے تخلیق بھی کیا۔ انہوں نے یہ استدلال پیش کیا کہ جس "مشرق" کا تصور صدیوں سے مغربی ادب، تاریخ، سفرناموں، فلسفے، مستشرقین کی تحقیقات اور سیاسی بیانیوں میں موجود ہے، وہ حقیقی مشرق سے زیادہ ایک ذہنی اور تہذیبی تعمیر (Construction) ہے۔ یہ تعمیر اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم علمی، سیاسی اور تہذیبی منصوبے کا حصہ تھی، جس کا مقصد مغربی برتری کو فطری اور مشرقی کم تری کو لازمی ثابت کرنا تھا۔
استشراق کے ظہور سے پہلے مغربی جامعات میں مشرقیات (Oriental Studies) کو خالص علمی شعبہ سمجھا جاتا تھا۔ عربی، فارسی، سنسکرت، اسلامیات، بدھ مت، تاریخ، آثارِ قدیمہ اور مشرقی تہذیبوں پر بے شمار تحقیقی منصوبے جاری تھے۔ بظاہر یہ سب علمی خدمت معلوم ہوتی تھی، لیکن سعید نے بنیادی سوال اٹھایا کہ اگر یہ تحقیق واقعی غیر جانب دار تھی تو اس کے نتائج تقریباً ہمیشہ ایک ہی سمت میں کیوں جاتے تھے؟ آخر کیوں مشرق ہر متن میں جذباتی، غیر عقلی، جامد، غیر ترقی یافتہ، غیر جمہوری اور خود حکمرانی کے قابل نہ ہونے والی دنیا کے طور پر سامنے آتا ہے، جبکہ مغرب عقل، آزادی، ترقی، سائنسی شعور اور تہذیب کا نمائندہ بن جاتا ہے؟
یہ سوال دراصل نوآبادیاتی علمیات (Colonial Epistemology) کی بنیادوں پر حملہ تھا۔ سعید نے واضح کیا کہ استشراق معلومات جمع کرنے کا عمل نہیں بلکہ طاقت کے لیے علم پیدا کرنے کا منصوبہ تھا۔ یہاں علم حقیقت کی دریافت نہیں کرتا بلکہ حقیقت کو مخصوص سانچے میں ڈھالتا ہے۔ جب کسی قوم کے بارے میں مسلسل ایک ہی قسم کی تصویر پیش کی جائے تو وقت کے ساتھ وہ تصویر حقیقت سے زیادہ معتبر سمجھی جانے لگتی ہے۔ یوں بیانیہ حقیقت پر غالب آ جاتا ہے اور نمائندگی (Representation) خود حقیقت کا متبادل بن جاتی ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ایڈورڈ سعید کی فکر مشیل فوکو، انتونیو گرامشی اور مابعد ساختیات کے دیگر مفکرین سے مکالمہ کرتی ہے۔ فوکو نے بتایا تھا کہ علم اور طاقت ایک دوسرے سے الگ نہیں بلکہ باہم مربوط ہیں۔ گرامشی نے ثقافتی بالادستی (Cultural Hegemony) کا تصور پیش کیا تھا، جس کے مطابق ریاست صرف طاقت سے نہیں بلکہ رضامندی پیدا کرنے والے ثقافتی اداروں کے ذریعے بھی حکومت کرتی ہے۔ سعید نے ان دونوں نظریات کو نوآبادیاتی تاریخ پر منطبق کرتے ہوئے یہ ثابت کیا کہ مغربی استشراق دراصل ثقافتی بالادستی کی ایک علمی صورت تھا، جہاں مستشرق کا قلم سامراجی ریاست کی سیاسی حکمت عملی سے جدا نہیں تھا۔
اسی لیے استشراق کو صرف ادبی یا تاریخی مسئلہ سمجھنا غلط ہوگا۔ یہ دراصل تہذیبی سیاست (Politics of Culture)، نمائندگی (Politics of Representation)، علمی اجارہ داری (Epistemic Dominance) اور طاقت کی علامتی ساخت (Symbolic Power) کا جامع مطالعہ ہے۔ اس کے ذریعے سعید نے دکھایا کہ سلطنتیں صرف زمینوں پر قبضہ نہیں کرتیں بلکہ الفاظ کے معنی، تاریخ کی تعبیر، تہذیب کی تعریف اور شناخت کی تشکیل پر بھی اختیار حاصل کر لیتی ہیں۔ جب کسی قوم کی زبان کو پسماندہ، اس کے ادب کو غیر معیاری، اس کی تاریخ کو غیر معتبر اور اس کے مذہب کو توہم پرستی قرار دیا جائے تو آہستہ آہستہ وہ قوم خود کو دوسروں کی نظر سے دیکھنے لگتی ہے۔ استعمار کی یہی سب سے بڑی کامیابی ہوتی ہے کہ محکوم اپنی محکومی کو فطری سمجھنے لگتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ایڈورڈ سعید کے نزدیک ثقافت محض جمالیاتی سرگرمی نہیں بلکہ اقتدار کی فعال صورت ہے۔ ناول، فلم، شاعری، مصوری، نصاب، اخبارات، سفرنامے، انسائیکلوپیڈیا، لغات اور حتیٰ کہ نقشے بھی سیاسی کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ سب مل کر اجتماعی حافظہ تشکیل دیتے ہیں اور پھر یہی حافظہ قوموں کے مستقبل کا تعین کرتا ہے۔
اسی تناظر میں ان کی دوسری اہم تصنیف Culture and Imperialism استشراق کی توسیع معلوم ہوتی ہے، جہاں انہوں نے مغربی ادب کے کلاسیکی متون کو نوآبادیاتی تناظر میں پڑھنے کی دعوت دی۔ ان کے نزدیک عظیم ادب اپنی ادبی عظمت برقرار رکھتے ہوئے بھی اپنے عہد کی سیاسی اور سامراجی ساخت سے مکمل طور پر آزاد نہیں ہوتا۔ یہی نقطۂ نظر جدید ادبی تنقید میں ایک انقلابی تبدیلی کا سبب بنا اور متن کو اس کے تاریخی، سیاسی، تہذیبی اور نظریاتی سیاق میں پڑھنے کی روایت مضبوط ہوئی۔
جاری۔۔

