Unsafe At Any Speed, Ralph Nader
"اَن سیف ایٹ اینی سپیڈ"، "رالف نیڈر"

بعض کتابیں صرف پڑھی نہیں جاتیں، وہ پورے معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیتی ہیں۔ وہ ایک ایسے سوال کو جنم دیتی ہیں جو پہلے کسی کے ذہن میں موجود تو ہوتا ہے مگر زبان پر نہیں آتا۔ پھر اچانک ایک شخص کھڑا ہوتا ہے، وہ سوال بلند آواز سے پوچھتا ہے اور تاریخ کا دھارا بدل جاتا ہے۔ "اَن سیف ایٹ اینی سپیڈ" ایسی ہی ایک کتاب ہے جسے امریکی قانون دان اور صارفین کے حقوق کے علم بردار "رالف نیڈر" نے انیس سو پینسٹھ میں لکھا۔ اس کتاب کا موضوع بظاہر موٹر گاڑیاں تھیں، لیکن حقیقت میں یہ جدید سرمایہ دارانہ نظام کے اس رویے پر فردِ جرم تھی جس میں منافع کو انسانی جان سے زیادہ قیمتی سمجھ لیا جاتا ہے۔
"رالف نیڈر" نے بڑی جرأت سے بتایا کہ بعض معروف گاڑیاں ایسی خامیوں کے ساتھ فروخت کی جا رہی ہیں جن کے باعث ہزاروں افراد حادثات میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، مگر صنعت کار ان نقائص کو دور کرنے کے بجائے اشتہارات، منافع اور بازار پر اپنی گرفت مضبوط کرنے میں مصروف ہیں۔ ان کا سوال بہت سادہ تھا: اگر کسی خرابی کو معمولی لاگت سے دور کیا جا سکتا ہے تو پھر صرف چند سکوں کی بچت کے لیے انسانوں کو موت کے منہ میں کیوں دھکیلا جا رہا ہے؟ یہ سوال صرف گاڑیوں کے بارے میں نہیں تھا، بلکہ پوری تہذیب کے ضمیر کے بارے میں تھا۔
اس کتاب کی اشاعت کے بعد طاقتور صنعتوں نے پوری قوت سے "رالف نیڈر" کو خاموش کرانے کی کوشش کی۔ ان کی نگرانی کرائی گئی، ان کی نجی زندگی میں مداخلت کی گئی اور انہیں بدنام کرنے کے منصوبے بنائے گئے، مگر نتیجہ الٹا نکلا۔ امریکی عوام نے محسوس کیا کہ اگر اتنی بڑی کمپنیاں ایک تنہا آدمی سے خوف زدہ ہیں تو یقیناً وہ آدمی کوئی ایسی بات کر رہا ہے جسے دبانا ضروری سمجھا جا رہا ہے۔ یہی وہ لمحہ تھا جب بحث گاڑیوں سے نکل کر شہری حقوق تک جا پہنچی۔ پارلیمان نے قوانین پر نظرثانی کی، حفاظتی معیارات سخت کیے گئے، نشستوں کے حفاظتی بند، محفوظ ڈھانچے، بہتر بریک، مضبوط شیشے اور متعدد حفاظتی تقاضے قانونی ذمہ داری بن گئے۔ یوں ایک کتاب نے نہ صرف ایک صنعت کا انداز بدلا بلکہ حکومت کو بھی یاد دلایا کہ اس کی پہلی ذمہ داری سرمایہ نہیں بلکہ شہری کی جان ہے۔ کسی بھی جمہوریت کی اصل طاقت یہی ہوتی ہے کہ ایک دلیل، اگر سچی ہو، تو اربوں کی دولت پر بھی غالب آ سکتی ہے۔
اس واقعے کا دوسرا پہلو اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔ کسی معاشرے کی ترقی کا معیار صرف یہ نہیں کہ اس کے پاس کتنی بڑی عمارتیں، کتنی تیز رفتار گاڑیاں یا کتنی وسیع شاہراہیں ہیں۔ اصل معیار یہ ہے کہ وہاں ایک عام آدمی کی جان کی قیمت کتنی ہے۔ اگر کسی پل کے گرنے کے بعد صرف افسوس کیا جائے، اگر کسی بس کے حادثے کے بعد چند تعزیتی بیانات دے کر معاملہ ختم کر دیا جائے، اگر ناقص ادویات، غیر معیاری خوراک، کمزور تعمیرات اور خطرناک برقی آلات برسوں تک بازار میں فروخت ہوتے رہیں اور کسی کو جواب دہ نہ ہونا پڑے، تو پھر مسئلہ صرف انتظامی نہیں بلکہ اخلاقی بھی ہے۔ وہ قومیں آگے بڑھتی ہیں جو حادثے کے بعد صرف آنسو نہیں بہاتیں بلکہ یہ بھی پوچھتی ہیں کہ حادثہ ہوا کیوں، ذمہ دار کون تھا اور اسے دوبارہ ہونے سے کیسے روکا جائے۔ ترقی یافتہ معاشرے حادثات کو تقدیر نہیں سمجھتے، بلکہ انہیں انسانی غفلت، ناقص منصوبہ بندی یا لالچ کا نتیجہ مانتے ہیں اور پھر قانون کے ذریعے ان کا سدباب کرتے ہیں۔
ہمیں اپنے گرد و پیش بھی نظر دوڑانی چاہیے۔ ہماری سڑکوں پر دوڑتی بے شمار گاڑیاں، مسافر بردار کوچیں، خستہ حال بسیں، ناقص تعمیر شدہ عمارتیں، غیر معیاری اشیائے خورونوش، جعلی دوائیں، کھلے مین ہول، ٹوٹی ہوئی بجلی کی تاریں اور حفاظتی اصولوں سے عاری کارخانے روزانہ یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ کیا واقعی انسانی جان ہمارے نزدیک سب سے قیمتی شے ہے؟ ہم اکثر حادثے کے بعد چند دن تک شور مچاتے ہیں، پھر سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے۔ کمیٹیاں بنتی ہیں، رپورٹیں تیار ہوتی ہیں، وعدے کیے جاتے ہیں، مگر کچھ عرصے بعد وہی غفلت، وہی لاپروائی اور وہی بے حسی دوبارہ اپنا چہرہ دکھانے لگتی ہے۔ گویا ہم نے اجتماعی طور پر یہ مان لیا ہے کہ حادثات ہماری قسمت ہیں، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ زیادہ تر حادثات قسمت نہیں بلکہ ناقص فیصلوں، کمزور نگرانی اور جواب دہی کے فقدان کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ اگر ایک کتاب امریکہ میں لاکھوں جانیں بچانے کا ذریعہ بن سکتی ہے تو ہمارے ہاں بھی ایک بیدار ضمیر، ایک دیانت دار تحقیق، ایک آزاد صحافت اور ایک بے لاگ عدالتی نظام ہزاروں زندگیاں محفوظ بنا سکتا ہے۔
"اَن سیف ایٹ اینی سپیڈ" آج بھی صرف موٹر گاڑیوں کی کتاب نہیں، بلکہ ہر اس معاشرے کے لیے آئینہ ہے جو ترقی کے دعوے تو کرتا ہے مگر انسان کو مرکز میں رکھنا بھول جاتا ہے۔ "رالف نیڈر" نے ہمیں یہ سبق دیا کہ مہذب معاشرے کی پہچان اس کے فلک بوس ٹاور نہیں بلکہ اس کا انصاف، اس کی جواب دہی اور اس کی اخلاقی حساسیت ہوتی ہے۔ جب تک ریاست، صنعت، بازار اور معاشرہ اس اصول پر متفق نہیں ہوتے کہ ایک انسان کی جان ہر منافع، ہر سہولت اور ہر سیاسی مصلحت سے زیادہ قیمتی ہے، اس وقت تک ترقی کے تمام دعوے ادھورے رہیں گے۔ قومیں صرف ایجادات سے عظیم نہیں بنتیں، بلکہ اس وقت عظیم بنتی ہیں جب وہ اپنے کمزور ترین شہری کی جان، عزت اور سلامتی کو سب سے زیادہ اہمیت دیتی ہیں۔ شاید یہی وہ پیغام ہے جس نے ساٹھ برس پہلے ایک کتاب کو تاریخ کا حصہ بنا دیا اور شاید یہی وہ پیغام ہے جسے آج ہمیں پہلے سے کہیں زیادہ سننے، سمجھنے اور اپنی اجتماعی زندگی میں نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔

