Thursday, 16 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Dr. Anila Zulfiqar
  4. BNU Ka Degree Show 2026 Aur Fan Ke Naye Dareeche

BNU Ka Degree Show 2026 Aur Fan Ke Naye Dareeche

BNU کا "ڈگری شو 2026" اور فن کے نئے دریچ

ہر دور نے فن کو دیکھنے، سمجھنے اور پیش کرنے کے نئے زاویے عطا کیے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ فن کی وسعت میں اضافہ ہوا اور اس نے روایتی حدود سے نکل کر نئی جہتیں اختیار کیں۔ آج فن صرف مصوری یا مجسمہ سازی تک محدود نہیں بلکہ ڈیجیٹل میڈیا، ویڈیو آرٹ، تنصیبات، روبوٹکس، مصنوعی ذہانت اور ورچوئل تجربات تک پھیل چکا ہے۔ ان جدید ذرائع نے فنکاروں کو اظہار کے ایسے امکانات فراہم کیے ہیں جو ماضی میں ناقابلِ تصور تھے۔

29 جون کو مریم داؤد اسکول برائے بصری فنون و ڈیزائن، بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی BNU میں "ڈگری شو 2026" منعقد ہوا جو فن، ڈیزائن اور تخلیقی تحقیق کی متنوع جہات کا ایک شاندار مظہر رہا، جس میں چار انڈرگریجویٹ پروگراموں سے فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ کے 142 تھیسس پیش کیے گئے۔ افتتاحی تقریب کا آغاز BNU ایوارڈ برائے نمایاں خدماتِ فنون سے ہوا، جو پاکستان کے ممتاز معمار جناب نئیر علی دادا کے اعزاز میں پیش کیا گیا۔ ایک ہفتے پر مشتمل عوامی نمائش منعقد ہوئی، جہاں ناظرین کو تخلیقی اظہار، اختراعی فکر اور ابھرتی ہوئی فنی صلاحیتوں کے متنوع مظاہر دیکھنے کا موقع ملا۔ یہ ڈگری شو نئی نسل کے فنکاروں اور ڈیزائنرز کے خوابوں، سوالات، تجربات اور امکانات کو اجاگرکرتا ہے، جو فن اور ڈیزائن کے مستقبل کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

عصرِ حاضر میں فنونِ لطیفہ کے میدان میں تنوع صرف موضوعات اور تصورات تک محدود نہیں۔ جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت (AI)، ڈیجیٹل میڈیا اور بین الشعبہ جاتی (Interdisciplinary) رجحانات نے نوجوان نسل کے فکری افق کو بے حد وسیع کر دیا ہے۔ آج کا فنکار محض روایتی مصوری یا مجسمہ سازی تک محدود نہیں بلکہ ویڈیو آرٹ، اینیمیشن، روبوٹکس، تنصیبات (Installations)، ڈیجیٹل امیجری، ورچوئل ریئلٹی اور مصنوعی ذہانت جیسے جدید ذرائع کے ذریعے اپنے مشاہدات کو بیان کر رہا ہے۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ نوجوان فنکار اپنی ذات، معاشرتی مسائل، شناخت، ماحولیات، ہجرت، یادداشت اور ثقافتی ورثے جیسے موضوعات کو نئے اور منفرد انداز میں پیش کر رہے ہیں۔

ڈگری شو میں رکھے گے کام کا تجزیہ کریں تو محرل حسن کا فن گندم کو زمین، محنت اور ثقافتی ورثے کی علامت کے طور پر پیش کرتا ہے۔ اس کا مرکز "سونا موتی" یا پیغمبری گندم ہے، جو وادیٔ سندھ کی قدیم زرعی روایت سے جڑی ایک مقامی قسم ہے۔ یہ کام جدید زرعی تبدیلیوں اور نئے بیجوں کے استعمال کے تناظر میں خوراک، زمین اور روایتی علم کے بدلتے تعلقات کو اجاگر کرتا ہے۔ کام اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ ہم اپنی زرعی شناخت اور ورثے میں سے کیا محفوظ رکھ رہے ہیں اور کیا کھو رہے ہیں۔

رِدہ نعیم کا تخلیقی کام دوسروں کی توقعات کے مطابق زندگی گزارنے اور اپنی اصل پہچان تلاش کرنے کے سفر کو بیان کرتا ہے۔ اپنے ذاتی تجربے سے متاثر ہو کر مصورہ انسان کو ہیرے سے تشبیہ دیتی ہیں، جو دباؤ اور مشکلات کے بعد اپنی اصل خوبصورتی ظاہر کرتا ہے۔ یہ کام شناخت، انتخاب اور خود شناسی کے موضوعات کو اجاگر کرتا ہے۔

امل خان نے تنہائی کے دوران تخیل اور خود سے گفتگو کی اہمیت کو ا پنے فن کا موضو ع بنایا ہے۔ فنکارہ نے اپنے اندر ایک ایسی خیالی دنیا تخلیق کی جو انہیں سکون اور تحفظ فراہم کرتی تھی۔ سیپی کے اندر موتی بننے کے عمل سے متاثر ہو کر یہ تنصیب (Installation) دکھاتی ہے کہ جذباتی دباؤ وقت کے ساتھ انسان کے لیے حفاظتی قوت بن سکتا ہے۔ یہ کام ناظرین کو اپنے اندر جھانکنے اور سکون تلاش کرنے کی دعوت دیتا ہے۔

سوہا خان "Biophilic Stillness" یہ تخلیقی کاوش انسان اور فطرت کے درمیان فطری تعلق کو اجاگر کرتی ہے۔ فنکارہ نے قدرتی اور حیاتیاتی مواد استعمال کرتے ہوئے ایسا ماحول تخلیق کیا ہے جو وقت کے ساتھ بدلتا رہتا ہے۔ اس کا مقصد انسان اور فطرت کے درمیان گہرے رشتے کو مضبوط بنانا ہے۔

عمار گلریز صدیقی "Repetition of Consumption" یہ تحقیق سرمایہ دارانہ معاشرے میں جانوروں کے استحصال اور گوشت کے استعمال کے نظام پر روشنی ڈالتی ہے۔ لاہور کی منڈیوں اور مذبح خانوں سے متاثر ہو کر فنکار نے دکھایا ہے کہ جانور کس طرح ایک تجارتی شے میں تبدیل ہو جاتے ہیں اور آخرکار انسانی استعمال کا حصہ بنتے ہیں۔

محمد رفیع کا کام "Mock-tary" روایتی مردانہ اور زنانہ شناخت کے تصورات پر سوال اٹھاتا ہے۔ کلاؤن اور ڈریگ کلچر سے متاثر یہ کام ملبوسات کے ذریعے جنس، شناخت اور معاشرتی رویّوں کا جائزہ لیتا ہے اور یہ سوچنے کی دعوت دیتا ہے کہ معاشرے میں توجہ اور طاقت کس کے پاس ہوتی ہے۔

مریم عامر "Carry On" یہ مختصر اینیمیٹڈ فلم ہجرت، یادوں اور جذباتی شفا کے موضوعات پر مبنی ہے۔ سوٹ کیس کو علامت کے طور پر استعمال کرتے ہوئے یہ اُن یادوں اور احساسات کو بیان کرتی ہے جو لوگ اپنے ساتھ لے کر چلتے ہیں۔

نتاشا علی ابڑو "Visual Ethnography & Critical Spatial Thinking" یہ تحقیق پاکستان کی واحد تیرتی ہوئی بستی "موہانہ ہاؤس بوٹ گاؤں" کی زندگی، ثقافت اور طرزِ تعمیر کو دستاویزی شکل دیتی ہے تاکہ اس معدوم ہوتی ہوئی وراثت کو محفوظ رکھا جا سکے۔

تحریم صدیقی "Polymathy Research & Speculative Systems Design" یہ تحقیق اُن افراد پر توجہ دیتی ہے جو ایک سے زیادہ شعبوں میں دلچسپی اور مہارت رکھتے ہیں۔ یہ کام کثیرالجہتی صلاحیتوں کی اہمیت اور ان کی شناخت کو اجاگر کرتا ہے۔

ثمن کمارا "Solastalgia in the Anthropocene" یہ کام ماحولیاتی تبدیلیوں اور انسانی سرگرمیوں کے اثرات کو اجاگر کرتا ہے۔ استعمال شدہ لوہے، لکڑی اور درختوں کی چھال کے ذریعے فنکار ماحول کے تحفظ اور زمین کے مستقبل پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔

میراب بھنڈارا "Viraangi" کی فنی کاوش زندگی اور موت کے درمیان تعلق کو دریافت کرتی ہے۔ فنکار کے مقامی ثقافتی تصور میں اُلو "ویرانگی" کی علامت ہے، جو موجودگی اور عدم موجودگی کے درمیان ایک حد کی نمائندگی کرتا ہے۔

سجاد یوسفی کی "Root Uprooted o "Home" یہ تحقیق ہجرت، شناخت اور گھر کے تصور پر مبنی ہے۔ فنکار اپنے ذاتی تجربات کے ذریعے دکھاتا ہے کہ انسان نئی جگہوں کو کس طرح اپنا گھر بناتا ہے اور اس عمل میں شناخت کیسے بدلتی ہے۔

ایشل حسن خان کا "جبر و فراموشی" پر مبنی کام کراچی کے صدر علاقے میں موجود مذہبی اقلیتوں کے ثقافتی ورثے اور تاریخی عمارتوں کے زوال کو اجاگر کرتا ہے اور یہ سوال اٹھاتا ہے کہ وقت کے ساتھ یادداشت اور شناخت کیسے مٹتی جاتی ہے۔

رِجا امیر چوہدری کا "Mauja Hee Mauja" پرمبنی کام دیہی اور شہری ثقافتوں کے درمیان اپنی شناخت تلاش کرنے والے پنجابی نوجوانوں کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے۔ اینیمیشن اور موسیقی کے ذریعے یہ ثقافتی تنوع اور امتزاج کا جشن مناتا ہے۔

سید اسد سلمان، "ہالہ" کی تحقیق ایک کم عمر لڑکی کی کہانی کو بیاں کرتی ہے جو سخت پابندیوں والے ماحول میں پرورش پاتی ہے۔ ایک دن اسے ایک روحانی مخلوق ملتی ہے جو انسانی دنیا میں پھنس گئی ہے۔ وہ اس کی مدد کرتی ہے تاکہ وہ اپنے اصل گھر واپس جا سکے۔

محمد حمزہ قریشی کا "Display of Faith" پر مبنی کام مذہب اور نیکی کے سماجی اظہار پر سوال اٹھاتا ہے۔ فنکار اس بات کا جائزہ لیتا ہے کہ بعض اوقات مذہبی یا نیک اعمال معاشرتی مقام حاصل کرنے کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ اس کے ذریعے اچھے اور برے عمل کی تعریف پر بحث کی گئی ہے۔

مجموعی طور پر اس Degree Show 2026 کے بیشتر منصوبے شناخت (Identity)، یادداشت (Memory)، ہجرت (Migration)، ثقافتی ورثہ (Heritage)، ماحولیات (Environment)، سماجی تنقید (Social Critique) اور خود شناسی (Self-Discovery) جیسے موضوعات کے گرد گھومتے ہیں۔ ان فن پاروں میں ذاتی تجربات کو وسیع سماجی، ثقافتی اور فلسفیانہ سوالات سے جوڑا گیا ہے۔ ڈگری شو 2026 میں رکھے گے کام کو دیکھ کر ناظرین فنکاروں کی صلاحیتوں سے متاثر ہو تے ہیں۔

اس کے ساتھ کئی سوالات بھی ذہن میں جنم لیتے ہیں۔ ڈگری شو میں رکھا گیا فن محض جمالیاتی حسن (Aesthetics) کا نام نہیں ہے۔ فن کا مقصد صرف بصری لذت فراہم کرنا نہیں بلکہ سوچ پیدا کرنا، سوال اٹھانا اور انسانی تجربے کو معنی دینا بھی ہے۔ فنکار اپنے ذاتی تجربات اور سماجی مسائل کو مختلف ذرائع کے ذریعے بیان کر رہے ہیں۔ اس تناظر میں فن ایک جمالیاتی شے سے بڑھ کر ایک سماجی دستاویز، فکری بیانیہ اور تنقیدی اظہار کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ جدید فن دراصل فنکار کی ذات اور معاشرے کے درمیان ایک مکالمہ ہے جو اپنے عہد کو سمجھنے اور اس پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔

روایتی جمالیاتی نظریات میں یہ خیال پایا جاتا تھا کہ فن پارے کی اہمیت اس کی مادی بقا اور پائیداری سے وابستہ ہے۔ اگر کوئی تخلیق صرف عارضی مادّے، لمحاتی تجربے یا فنا ہونے والی شے پر مبنی ہو تو اسے مستقل فن پارے کے طور پر تسلیم کرنے میں تردد پایا جاتا۔ اس تناظر میں ایک بنیادی سوال ابھر کر سامنے آتا ہے: جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے تخلیق ہونے والے فن پاروں کی عمر (Duration) اور بقا (Permanence) کیا ہے؟ کیا ایک ڈیجیٹل تصویر، ویڈیو انسٹالیشن، مصنوعی ذہانت سے تخلیق شدہ شبیہ یا ورچوئل تجربہ اتنی ہی پائیدار حیثیت رکھتا ہے جتنی ایک مصوری، مجسمہ یا تاریخی فن پارہ؟

لیکن جدید اور معاصر فن نے اس تصور کو چیلنج کیا ہے۔ آج ایک پرفارمنس، ویڈیو، ڈیجیٹل فائل یا عارضی تنصیب بھی فن کہلاتی ہے، خواہ اس کی مادی موجودگی چند گھنٹوں یا چند دنوں تک ہی کیوں نہ رہے۔ اس تبدیلی نے فن کی تعریف کو مادّے سے ہٹا کر خیال (Idea)، تجربے (Experience) اور تصور (Concept) کی طرف منتقل کر دیا ہے۔ لیکن اگر ایک ڈیجیٹل فن پارہ ٹیکنالوجی کے بدلنے کے ساتھ ناقابلِ رسائی ہو جائے تو کیا اس کی فنی حیثیت برقرار رہتی ہے؟ مستقبل میں جب موجودہ سافٹ ویئر اور فارمیٹس متروک ہو جائیں گے تو آج کے ڈیجیٹل فن پاروں کا کیا ہوگا؟ اگر ایک فن پارہ جسمانی طور پر ختم ہو جائے لیکن اس کا تصور، دستاویزات یا اثر باقی رہے تو کیا وہ اب بھی زندہ سمجھا جائے گا؟ درحقیقت ہم فن کے ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں بقا سے زیادہ تجربہ اور تعامل (Interaction) اہم ہوگیا ہے۔

تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ فن کی اصل قدر و منزلت کا فیصلہ وقت کرتا ہے۔ بہت سے فنکار اور تحریکیں اپنے دور میں متنازع یا غیر معروف رہیں، لیکن وقت نے ان کی اہمیت کو تسلیم کیا۔ اسی طرح آج کی جدید تکنیکیں بھی مستقبل کے فنی منظرنامے کو تشکیل دے رہی ہیں۔ تاہم کیا جدید تکنیکوں نے فن کو زیادہ آسان بنا دیا ہے؟ کیا ڈیجیٹل ٹولز اور مصنوعی ذہانت نے تخلیقی عمل کے لیے مختصر راستے (Shortcuts) پیدا کر دیے ہیں؟

مزید یہ کہ کیا نئی ٹیکنالوجی فنکار کے تخیل کو وسعت دے رہی ہے یا اس کی جگہ لے رہی ہے؟ کیا فن کی اصل روح تخلیقی سوچ میں پوشیدہ ہے یا تکنیکی مہارت میں؟ دوسری جانب، یہ بھی حقیقت ہے کہ فن اب پہلے سے کہیں زیادہ جمہوری (Democratic) ہو چکا ہے۔ ماضی میں فن کی تخلیق اور نمائش محدود طبقات تک رسائی رکھتی تھی، جبکہ آج سوشل میڈیا، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور جدید ٹیکنالوجی نے ہر فرد کو اظہار کا موقع فراہم کیا ہے۔ اس طرح فن نہ صرف تخلیق کا ذریعہ بن گیا ہے بلکہ دوسروں کو تخلیق پر آمادہ کرنے اور متاثر کرنے کا وسیلہ بھی بن چکا ہے۔

فن کی تاریخ ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ تکنیکیں بدلتی رہتی ہیں، ذرائع تبدیل ہوتے رہتے ہیں، لیکن تخلیقی فکر، انسانی تجربہ اور اظہار کی خواہش ہمیشہ فن کی بنیادی روح رہتی ہے۔

About Dr. Anila Zulfiqar

Dr. Anila Zulfiqar is a painter, fiction writer, and art teacher. She is an assistant professor in the Department of Fine Arts, University of the Punjab, Lahore. Her creative work is based on the cultural heritage of Lahore, women's experiences, and visual language. She has participated in art exhibitions at national and international levels. Fiction writing and critical essays on art are also important means of expression for her.

Check Also

Unsafe At Any Speed, Ralph Nader

By Asif Masood