Sadiqabad Ka Haqeeqi Hero Shoaib Ali
صادق آباد کا حقیقی ہیرو شعیب علی

تعمیرِ وطن کا عمل صرف بڑی بڑی پالیسیوں، بیرونی قرضوں یا بیوروکریسی کے دفاتر تک محدود نہیں ہوتا، بلکہ اس کی اصل بنیاد وہ عام شہری رکھتے ہیں جو محدود وسائل کے باوجود اپنے ارد گرد کے ماحول کو بدلنے کا عزم لے کر نکلتے ہیں۔ اسی فکری جمود کو توڑنے اور عملی مثال قائم کرنے کے لیے جنوبی پنجاب کے تاریخی اور جغرافیائی لحاظ سے اہم شہر صادق آباد میں 2013ء میں ایک خاموش تحریک کا آغاز ہوا۔
جسے "میں پاکستان ہوں" کا نام دیا گیا۔ اس تحریک کے سرخیل شعیب علی اور ان کے بھائی مبشر علی بنے۔ انہوں نے روایتی این جی اوز یا دکھاوے کی سیاست سے ہٹ کر فنڈز اکٹھا کرنے کا ایک انتہائی اچھوتا اور مخلصانہ انداز اپنایا۔ 14 اگست کے دن انہوں نے بچوں کے چہروں پر پاکستانی جھنڈا پینٹ کرنے اور مختلف تخلیقی گیمز ڈیزائن کرنے کا سلسلہ شروع کیا۔ اس منفرد کوشش سے جو رقم جمع ہوئی، اسے انہوں نے نمود و نمائش سے پاک رکھ کر نہ صرف انسانوں بلکہ بے زبان پرندوں کی زندگیوں میں بھی آسانیاں پیدا کرنے کے لیے وقف کر دیا۔ یہیں سے یہ ثابت ہوا کہ اگر نیت سچی ہو اور جذبہ سچاتو وسائل کی کمی کبھی بھی خدمتِ خلق کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔
آج جب ہم ملک بھر میں معاشی گراوٹ، مہنگائی اور سماجی رویوں میں تنزلی کا رونا روتے ہیں، جہاں اوسط آمدنی والے خاندان کے لیے بقا کی جنگ ہی سب سے بڑا مسئلہ بن چکی ہے، وہاں ٹیم "میں پاکستان ہوں" کے 130 رضا کار نوجوان امید کی ایک روشن شمع بن کر سامنے آتے ہیں۔ حیرت انگیز اور قابلِ تقلید بات یہ ہے کہ اس ٹیم میں شامل اکثریت ان متوسط اور نچلے متوسط گھرانوں کے نوجوانوں کی ہے جو خود مختلف دکانوں پر بطور سیلز مین کام کرتے ہیں اور دن بھر کی سخت محنت کے بعد اپنے گھر والوں کی کفالت کرتے ہیں۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ جب معاشی حالات سنگین ہوں تو تنخواہ دار اور مزدور طبقہ اپنی عزتِ نفس بچانے یا اخراجات پورے کرنے کے لیے منفی رویوں کی طرف مائل ہو جاتا ہے، مگر ان نوجوانوں نے اپنی قلیل آمدن میں سے بھی انسانیت کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرنے کا راستہ چنا جو ان کے غیر معمولی اخلاقی مرتبے کی دلیل ہے۔
اس ٹیم کا میدانِ عمل صرف زبانی جمع خرچ تک محدود نہیں، بلکہ انہوں نے عملی طور پر شہر کے ایسے ایسے سنگین مسائل کو حل کیا جن سے انتظامیہ اور مخیر حضرات نے آنکھیں موند رکھی تھیں۔ مثال کے طور پرپنجاب میں میڈیکل اسٹورز کی انسانیت دشمن ہڑتال کے دوران جب مریضوں کے لیے ادویات کا حصول ناممکن ہو چکا تھاتب شعیب علی اور ان کی ٹیم نے صادق آباد کی جغرافیائی اہمیت کا فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے پڑوسی صوبے سندھ کے شہروں اوباڑو اور ڈھرکی میں راتوں رات اپنا ایک مضبوط نیٹ ورک قائم کیا اور محض ایک ہفتے کے اندر اندربغیر کسی اضافی معاوضے یا لالچ کےلاکھوں روپے مالیت کی ادویات صادق آباد کے تڑپتے ہوئے مریضوں تک پہنچائیں، جس سے سینکڑوں پریشان حال خاندانوں کے چہروں پر مسکراہٹ واپس آئی۔
اسی طرح شہر کے انفراسٹرکچر کی بات کی جائے تو صادق آباد کا واحد انڈر پاس جو عرصہ دراز سے بدترین ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا اور سڑک پر گہرے گڑھے پڑ چکے تھے، وہاں سے روزانہ ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ افسران، تاجر تنظیموں کے صدور، جنرل سیکریٹریز اور شہر کے وڈیرے اپنی چمکتی گاڑیوں میں گزرتے تھے، مگر کسی کو بھی اس عوامی تکلیف کا احساس نہیں تھا۔ آخر کار ایک رات ٹھیک 1 بجے، جب دنیا سو رہی تھی، شعیب علی کی ٹیم کے نوجوان اپنے نرم ہاتھوں میں ہتھوڑے، گینتیاں اور چھینیاں اٹھائے سڑک پر اتر آئے۔ انہوں نے نہ صرف ان گڑھوں کی پائیدار مرمت کی بلکہ انڈر برج کی ایک مکمل سائیڈ کو ماہرانہ انداز میں اکھاڑ کر زمین کو لیول کرنے کے بعد وہاں خوبصورت ٹف ٹائلز لگا دیں۔ ان نوجوانوں کے اس عملی طمانچے نے سوئی ہوئی سول انتظامیہ کو بھی انگڑائی لینے پر مجبور کر دیا اور یوں انڈر برج کی سڑک کا دیرینہ مسئلہ مستقل طور پر حل ہوگیا۔
ان نوجوانوں کے فلاحی کاموں کا دائرہ کار انتہائی وسیع ہے۔ انہوں نے رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں عوامی مقامات پر مزدوروں، مسافروں اور راہگیروں کے لیے مستقل بنیادوں پر افطار دسترخوان کا انتظام روایتی تواتر کے ساتھ جاری رکھا ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ہی کچہ شاہی روڈ پر جہاں دیہاڑی دار مزدور کام کی تلاش میں بیٹھتے ہیں، ان کے لیے دوپہر کے وقت مستقل "فوڈ بینک" چلایا جا رہا ہے تاکہ کوئی محنت کش بھوکے پیٹ سونے پر مجبور نہ ہو۔
سماجی اور قومی تشخص کو اجاگر کرنے کے لیے ان کا کردار بے مثال ہے۔ ان نوجوانوں نے جنوبی پنجاب کا سب سے بڑا پندرہ ہزار اسکوائر فٹ پر مشتمل پاکستان کا پرچم تیار کیا، جسے ضلع بھر کی مرکزی شاہراہوں پر سول انتظامیہ کے تعاون سے ریلیوں کی شکل میں لایا گیا تاکہ عوام میں حبِ وطنی کا جذبہ بیدار کیا جا سکے۔ اسی طرح کشمیر کا ایک بہت بڑا پرچم بھی بنایا گیا، جس کی رونمائی ہر سال 5 فروری سمیت مختلف تعلیمی اداروں کی تقریبات میں کی جاتی ہے۔
صادق آباد کی تاریخ میں 18 نومبر کا دن ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ یہ پاکستان کا وہ واحد شہر ہے جس کی سالگرہ باقاعدگی سے منائی جاتی ہے۔ اس موقع پر ٹیم "میں پاکستان ہوں" نے شہر کے مرکزی ملت چوک پر بین الاقوامی معیار کا ایک دیدہ زیب الیکٹرک مونو منٹ "I LOVE SADIQABAD" نصب کیا، جو اب اس شہر کا باقاعدہ سیگنیچر پوائنٹ بن چکا ہے۔
شہر کی خوبصورتی اور ماحولیات کے تحفظ میں بھی شعیب علی کی ٹیم کا کردار کلیدی رہا ہے۔ ٹی ایچ کیو ہسپتال کی وہ دیواریں جو ماضی میں گندگی کا ڈھیر اور بدبو کا مرکز ہوا کرتی تھیں، ان نوجوانوں نے انہیں صاف کرکے خوبصورت رنگوں، اصلاحی اور معلوماتی ماڈلز اور تحریروں سے سجا دیا ہے۔
شجر کاری کے حوالے سے ان کا یہ پختہ عزم ہے کہ "پودا لگانا آسان ہے، لیکن اس کی مستقل دیکھ بھال اصل مشکل عمل ہے"۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے آٹو مارکیٹ، ریسکیو آفس کے سامنے روڈ ڈیوائیڈر، منٹھار روڈ، اولڈ اسکول ریلوے پھاٹک اور چندرامی روڈ پر نہ صرف بڑے پیمانے پر پودے لگائے، بلکہ ان کی بقا کے لیے مستقل پہرا دیا۔ طرح طرح کی مشکلات اور وسائل کی تنگی کے باوجود ان کی محنت رنگ لائی اور آج ان کے لگائے ہوئے پودے پانچ سے چھ فٹ بلند درخت بن کر شہر کو آکسیجن فراہم کر رہے ہیں۔
اس کے علاوہ ان کے دیگر مائیکرو فلاحی کاموں کی فہرست بھی طویل ہے، جن میں غریبوں کے لیے "دیوارِ مہربان"، رات کے اندھیرے میں حادثات سے بچنے کے لیے سڑک کے اندھے بریکرز کو رنگ کرنا، پرندوں کے لیے درختوں پر دانہ پانی کے مٹی کے برتن لٹکانا، عیدِ قربان پر قربانی کی آلائشوں کو ٹھکانے لگانے کے لیے عوامی آگاہی مہم چلانا، ٹریفک قوانین کے حوالے سے شعور بیدار کرنا، سیلاب جیسی ناگہانی آفات میں انتظامیہ کے شانہ بشانہ کام کرنا، تعلیم کے فروغ کے لیے سیمینارز کا انعقاد اور مساجد و عوامی مقامات پر مقدس اوراق کو محفوظ کرنے کے لیے خصوصی باکسز کا قیام شامل ہیں۔
یہ تمام کام شعیب علی کی کور ٹیم اویس، مبشر علی، اویس مقبول، خلیل احمد، محسن شاہمیر، احمد بٹ اور ضیاء فرزند جیسے نوجوانوں کے سچے جذبے کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
شعیب علی اور ان کی ٹیم نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ روایتی سیاست اور حکومتی فنڈز کے بغیر بھی معاشرے میں مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ تاہم ایسے انفرادی جذبوں کو ایک مستقل اور منظم قومی دھارے میں بدلنے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانے کی اشد ضرورت ہے۔ مقامی ضلعی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ ان نوجوانوں کی خدمات کا اعتراف سرکاری سطح پر کرےاور انہیں بیوروکریٹک رکاوٹوں سے بچانے کے لیے ایک "اسپیشل کوآرڈینیشن ڈیسک" قائم کرے تاکہ جب بھی یہ نوجوان کسی عوامی منصوبے پر کام کریں، انہیں فوری قانونی اور انتظامی تحفظ حاصل ہو سکے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ مقامی مخیر حضرات ان گلی محلوں میں کام کرنے والے مخلص نوجوانوں کے دستِ بازو بنیں، تاکہ مالی وسائل کی کمی ان کے پراجیکٹس کی راہ میں حائل نہ ہو۔ حکومت کو چاہیے کہ ایسے کامیاب ماڈلز کو سامنے رکھتے ہوئے مقامی یونین کونسل کی سطح پر "یوتھ ویلنٹئیر کمیٹیاں" تشکیل دے، جہاں نوجوانوں کو اپنے شہر کے فیصلے خود کرنے اور انہیں بہتر بنانے کا اختیار دیا جائے۔
ہمیں اپنے بچوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ اپنے گھر، گلی اور شہر کی صفائی اور ترقی ہماری اپنی ذمہ داری ہے۔ جب ہر شہری شعیب علی کی طرح سوچنا شروع کر دے گا، تو پورا ملک "میں پاکستان ہوں" کی عملی تصویر بن جائے گا۔

