Taleemi Inqilab, School Of Eminence
تعلیمی انقلاب، سکول آف ایمیننس

کسی بھی قوم کی حقیقی ترقی کا راز اس کی بیٹیوں اور نوجوان نسل کی تعلیم میں چھپا ہوتا ہے۔ پاکستان کے دل لاہور کے گنجان آباد علاقے فیروز پور روڈ پر واقع نواز شریف سکول آف ایمیننس (NSSE) نشتر کالونی گرلز کیمپس آج بدلتے ہوئے تعلیمی نظام کی ایک زندہ مثال بن کر ابھرا ہے، جو بچوں، خصوصاً بیٹیوں کے مستقبل کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن اور صوبائی وزیرِ تعلیم رانا سکندر حیات کی قیادت میں شروع کیا گیا یہ انقلابی تعلیمی منصوبہ روایتی اور فرسودہ سرکاری تعلیمی اداروں کے بالکل برعکس ہے۔ ماضی میں سرکاری سکولوں کا نام سنتے ہی ذہن میں ٹوٹی ہوئی دیواریں اور بنیادی سہولیات کی کمی کا خاکہ ابھرتا تھا، لیکن نشتر کالونی کیمپس نے اس دقیانوسی تاثر کو پاش پاش کر دیا ہے۔ آج جب کوئی اس سکول کے دروازے سے داخل ہوتا ہے، تو اسے کسی مہنگے ترین اور بین الاقوامی معیار کے نجی تعلیمی ادارے کا گمان ہوتا ہے، جہاں نظم و ضبط اور تعلیمی انفراسٹرکچر اپنی مثال آپ ہے۔
اس عوامی اعتماد اور تعلیمی بیداری کا عملی مظاہرہ حال ہی میں 8 اور 9 جولائی کو منعقد ہونے والے داخلہ ٹیسٹوں (Admission Tests) کے دوران دیکھنے کو ملا۔ شدید گرمی کے باوجود سکول میں ٹیسٹ دینے کے لیے آنے والے بچوں اور بچیوں کا جذبہ دیدنی تھا۔ معصوم چہروں پر چمکتے ہوئے خواب، آنکھوں میں آگے بڑھنے کی امنگ اور ہاتھوں میں قلم تھامے یہ ننھے طالب علم اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر غریب کے بچے کو یکساں مواقع فراہم کیے جائیں، تو وہ کسی بھی میدان میں پیچھے نہیں رہتا۔ والدین کی ایک بڑی تعداد اپنے بچوں کے روشن مستقبل کی امید لیے سکول کے باہر موجود تھی، جو حکومتِ پنجاب کے اس منصوبے پر عوام کے غیر متزلزل اعتماد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
اس موقع پرسکول انتظامیہ کی اعلیٰ ظرفی اور فرض شناسی کا ایک انتہائی خوبصورت اور قابلِ تحسین پہلو سامنے آیا۔ جولائی کی جھلسا دینے والی شدید گرمی اور حبس کے باوجود، سکول انتظامیہ نے ٹیسٹ کے لیے آنے والے ننھے بچوں اور ان کے والدین کے آرام کا خاص خیال رکھا۔ سکول ڈائریکٹر فیاض احمد رانا کی ذاتی نگرانی اور خصوصی کاوشوں سے اسکول کے لان میں سائے کے لیے کنوپیاں لگائی گئی تھیں، تاکہ معصوم بچے اور ان کے والدین اس شدید تپش اور لو سے محفوظ رہ سکیں۔ انتظامیہ کی جانب سے گرمی کی شدت کو کم کرنے کے لیے کیے گئے ان شاندار انتظامات نے نہ صرف بچوں کے حوصلوں کو برقرار رکھا بلکہ وہاں موجود والدین کے دل بھی جیت لیے۔ ڈائریکٹر فیاض احمد رانا کی یہ مخلصانہ کاوشیں اس بات کی عکاس ہیں کہ یہ ادارہ بچوں کو صرف تعلیم ہی نہیں دے رہا، بلکہ ان کی دیکھ بھال ایک خاندان کی طرح کر رہا ہے۔
نشتر کالونی کیمپس کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ یہ بچوں کو اکیسویں صدی کے چیلنجز کے لیے تیار کر رہا ہے۔ یہاں قائم کردہ سٹیم (STEAM) اور روبوٹکس لیبارٹریز اس بات کا ثبوت ہیں کہ اب ہماری بیٹیاں صرف روایتی مضامین تک محدود نہیں رہیں، بلکہ وہ کمپیوٹر کوڈنگ، آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں دنیا کا مقابلہ کرنے کے لیے پر تول رہی ہیں۔ جدید ترین آلات سے لیس کمپیوٹر، فزکس اور کیمسٹری لیبز بچیوں کو عملی تجربات کے ذریعے سیکھنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔ مزید برآں، اسمارٹ کلاس رومز میں ٹیکنالوجی اور اسمارٹ اسکرینز کے ذریعے تدریس نے پڑھائی کو ایک دلچسپ اور بصری تجربہ بنا دیا ہے۔
ایک ایسے دور میں جہاں مہنگائی کے طوفان نے سفید پوش والدین کے لیے نجی سکولوں کی فیسیں ادا کرنا نامکن بنا دیا ہے، حکومتِ پنجاب کا یہ اقدام کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔ نشتر کالونی کیمپس میں یہ تمام عالمی معیار کی سہولیات، انگلش میڈیم نصاب اور اعلیٰ تعلیم یافتہ فیکلٹی بچوں کو بالکل سو فیصد مفت فراہم کی جا رہی ہے۔ نہ داخلہ فیس، نہ ماہانہ فیس اور نہ ہی درسی کتب کا کوئی خرچ۔ والدین پر سے اس مالی بوجھ کے اترنے کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اب وہ اطمینانِ قلب کے ساتھ اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم کے زیور سے آراستہ کر رہے ہیں۔
نواز شریف سکول آف ایمیننس نشتر کالونی کیمپس محض ایک تعلیمی عمارت نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا کارخانہ ہے جہاں سے کل کے ڈاکٹرز، انجینئرز، آئی ٹی ماہرین اور لیڈرز تیار ہو کر نکلیں گے۔ 8 اور 9 جولائی کو نظر آنے والا بچوں کا جذبہ اور سکول ڈائریکٹر کا مخلصانہ رویہ اس بات کا اعلان ہے کہ ہماری نئی نسل آگے بڑھنے کے لیے تیار ہے، بس انہیں ایک سچے اور مخلص ویژن کی ضرورت تھی جو مریم نواز شریف کی حکومت نے فراہم کر دیا ہے۔ پنجاب حکومت کا یہ تعلیمی ماڈل ملک کے دیگر حصوں کے لیے بھی ایک رول ماڈل ہے، جس کی تقلید کرکے ہم پورے پاکستان کو ایک روشن اور تعلیم یافتہ ملک بنا سکتے ہیں۔

