Sunday, 12 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Aftab Alam
  4. Muhabbat Ki Zuban

Muhabbat Ki Zuban

محبت کی زبان

زندگی آج مجھے ایک ایسے موڑ پر لے آئی ہے جہاں آغاز اور انجام ایک دوسرے سے ہم آغوش دکھائی دیتے ہیں۔ کبھی میرے والدین میری ضروریات خاموشی سے پوری کرتے تھے، آج میرے بچے وہی محبت، اسی خاموشی اور اسی فراخ دلی کے ساتھ میرے لیے کرتے ہیں۔ بچپن اور جوانی میں میرے والدین میری ضروریات کا خیال رکھتے تھے۔ آج بڑھاپے میں یہی کردار میرے بچوں نے سنبھال لیا ہے۔ وہ میری ضرورت کی ہر چیز خاموشی سے مہیا کر دیتے ہیں۔ کبھی حساب نہیں مانگتے، کبھی احسان نہیں جتاتے، کبھی بدلے میں کسی چیز کی توقع نہیں رکھتے۔

ان کی اس محبت اور فیاضی نے مجھے وہ زندگی گزارنے کا موقع دیا ہے جو شاید ان کے بغیر ممکن نہ ہوتی۔ میں ان کا دل کی گہرائیوں سے شکر گزار ہوں اور کبھی بھی یہ نہیں چاہتا کہ میرے کسی لفظ یا رویّے سے ناشکری یا احسان فراموشی کا گمان بھی ہو۔

اس کے باوجود، مجھے ہمیشہ محسوس ہوا ہے کہ جہاں محبت اور پیسہ ایک ہی رشتے میں جمع ہو جائیں، وہاں الفاظ اپنی پوری معنویت کھو دیتے ہیں۔ انسان جو محسوس کرتا ہے، وہ اکثر کہہ نہیں پاتا۔

شاید اس لیے کہ پیسہ صرف پیسہ نہیں ہوتا۔

ہم اسے ایک ذریعہ، ایک علامت یا ایک وسیلہ کہتے ہیں، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ پیسہ ہماری خودداری، ہماری آزادی، ہماری عزتِ نفس، ہمارے تعلقات، ہمارے احساسِ ذمہ داری اور ہماری محبت کے ساتھ اس طرح گندھا ہوا ہے کہ انہیں ایک دوسرے سے الگ کرنا ممکن نہیں رہتا۔

جس کے پاس پیسہ ہو، وہ بھی اس کے اثر سے آزاد نہیں رہتا اور جس کے پاس نہ ہو، وہ بھی نہیں۔ جو دیتا ہے، وہ بھی اس کے بوجھ سے گزرتا ہے اور جو لیتا ہے، اس کے دل میں بھی کئی طرح کے احساسات جنم لیتے ہیں۔ شکرگزاری، جھجک، انکسار، خودداری، محبت اور کبھی کبھی ایک غیر محسوس سی شرمندگی۔۔ یہ سب ایک ساتھ دل میں اتر آتے ہیں۔

وقت کے ساتھ میں نے محسوس کیا ہے کہ اصل سوال پیسہ دینے کا نہیں، بلکہ پیسہ قبول کرنے کا ہے۔

دینا یقیناً ایک بڑی خوبی ہے، لیکن وقار کے ساتھ قبول کرنا بھی کم بڑی خوبی نہیں۔

قبول کرنا انسان سے عاجزی مانگتا ہے۔ یہ اس حقیقت کو تسلیم کرنے کا حوصلہ مانگتا ہے کہ زندگی میں ایسے مرحلے بھی آتے ہیں جب انسان دوسروں کی محبت اور سہارے کا محتاج ہو جاتا ہے۔ شاید ہماری سب سے بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ ہم خود انحصاری کو انسانی وقار کا دوسرا نام سمجھ لیتے ہیں۔

حقیقت اس کے برعکس ہے۔

انسان اپنی زندگی کا آغاز دوسروں کے سہارے سے کرتا ہے اور اگر عمر دراز ہو تو اکثر اس کا اختتام بھی دوسروں کے سہارے پر ہوتا ہے۔ درمیان کے چند عشرے ہمیں یہ خوش فہمی دیتے رہتے ہیں کہ ہم اپنی قسمت کے واحد معمار ہیں، حالانکہ زندگی کی سچائی اس سے کہیں زیادہ عاجزانہ ہے۔

بچپن میں میں نے اپنے والد سے بے شمار چیزیں لیں، مگر کبھی ان کے پیچھے چھپی قربانیوں کا احساس نہ ہوا۔ آج جب میرے اپنے بچے اسی محبت سے میری ضرورتیں پوری کرتے ہیں تو مجھے پہلی بار اپنے والد کی خاموش محبت کی گہرائی کا اندازہ ہوتا ہے۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ وقت نے ایک دائرہ مکمل کر لیا ہے۔

محبت کبھی حساب نہیں رکھتی۔ اس کے پاس نہ کوئی کھاتہ ہوتا ہے، نہ کوئی ترازو۔ ہر مضبوط تعلق میں کبھی ایک ہاتھ دینے والا ہوتا ہے اور کبھی دوسرا۔ والدین بچوں کو سنبھالتے ہیں، پھر ایک دن بچے والدین کا سہارا بن جاتے ہیں۔ میاں بیوی، بہن بھائی اور دوست بھی زندگی کے مختلف موسموں میں ایک دوسرے کا بوجھ اٹھاتے رہتے ہیں۔ یہی تعلقات کی اصل خوبصورتی ہے۔

شکرگزاری کو مقروض ہونے کے احساس سے بھی الگ رکھنا چاہیے۔

جو تحفہ آزادی چھین لے، وہ تحفہ نہیں رہتا۔ حقیقی سخاوت وہ ہے جو لینے والے کی عزتِ نفس کو مجروح نہ کرے بلکہ اسے محفوظ رکھے۔

میرے بچوں نے میرے ساتھ یہی کیا ہے۔ انہوں نے اس طرح دیا ہے کہ مجھے کبھی بوجھ محسوس نہیں ہوا۔ مجھے ان کی محبت کا احساس ہوا، ان کے احسان کا نہیں۔

شاید زندگی نے مجھے ایک اور سبق بھی دیا ہے۔

جس طرح دینا محبت کا اظہار ہے، اسی طرح محبت کو خوش دلی سے قبول کرنا بھی محبت ہی کی ایک صورت ہے۔ اگر ہم صرف اپنی انا کی خاطر ہر مدد لینے سے انکار کر دیں تو شاید ہم اپنے چاہنے والوں سے محبت کے اظہار کا ایک خوبصورت موقع چھین لیتے ہیں۔

آخرکار میرے بچوں نے مجھے صرف مالی سہارا نہیں دیا۔

انہوں نے مجھے یہ احساس دیا ہے کہ میں آج بھی ان کی زندگی میں اہم ہوں، میری آسودگی ان کے لیے معنی رکھتی ہے اور میرے والدین نے جو محبت کبھی مجھ پر نچھاور کی تھی، وہی محبت اب ایک نئی نسل کے ذریعے میری طرف واپس لوٹ آئی ہے۔

شاید خاندان کی اصل میراث یہی ہوتی ہے۔

دولت نہیں، محبت۔

جائیداد نہیں، فیاضی۔

اور پیسے کی منتقلی نہیں، بلکہ ایک نسل سے دوسری نسل تک شفقت، احترام اور انسان دوستی کا منتقل ہوتے رہنا۔

ایسی نعمت پر انسان "شکریہ" تو ضرور کہتا ہے، مگر دل جانتا ہے کہ بعض احسان ایسے ہوتے ہیں جن کے لیے الفاظ ہمیشہ ناکافی رہتے ہیں۔

Check Also

Taleemi Inqilab, School Of Eminence

By MA Tabassum