Tuesday, 07 July 2026
  1.  Home
  2. Nusrat Javed
  3. Karaye Par Dastyab Riyasti Taqat Ke Mutvazi Taqat Ke Marakaz

Karaye Par Dastyab Riyasti Taqat Ke Mutvazi Taqat Ke Marakaz

کرائے پر دستیاب ریاستی طاقت کے متوازی طاقت کے مراکز

انٹرنیٹ کا دور شروع ہونے کے تقریباََ دس برس بعد کینیڈا میں مقیم ایک محقق نے ہمارے دور کو مابعدِ صحافت کا زمانہ ثابت کیا۔ بے شمار مثالوں سے سمجھایا کہ دورِ حاضر کا قاری اور ناظر صحافی سے حقائق جاننا نہیں چاہتا۔ اس کے دل ودماغ میں اشرافیہ کے چند طاقتور گروہوں اور خصوصاََ نمایاں افراد کے خلاف شدید نفرت برسوں سے جمع ہورہی ہے۔ قاری اور ناظرکی خواہش ہے کہ وہ جن طاقتور لوگوں سے نفرت کرتا ہے انہیں بدی کی بھرپور علامتیں ثابت کرنے کے ثبوت فراہم کئے جائیں۔ مختصر الفاظ میں یوں کہہ لیں کہ صحافت کا آندرے میر نامی محقق کی دانست میں بنیادی فریضہ لوگوں کے دلوں میں پہلے سے موجود تعصبات کو توانا تر بنانا ہے۔ انگریزی میں اس کے لئے Validation کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔

یہ لکھنے کے بعد یہ حقیقت بھی تسلیم کرنا ہوگی کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے برسراقتدار رہنے کے سبب نواز شریف کے نام سے منسوب مسلم لیگ سے پاکستان کے عوام کی کثیر تعداد ناخوش ہے۔ ان کے دلوں میں موجود شکایات کو بھڑکانے کے لئے اقتدار میں باریاں لینے والے چوروں اور لٹیروں کی جگہ لینے کرکٹ کی وجہ سے کرشمہ ساز ہوئے عمران خان سیاسی اکھاڑے میں اترے۔ برسوں تک عوامی پذیرائی سے محروم رہے۔ اکتوبر 2011ئمیں لیکن ان کو مبینہ طورپر ریاست کے اہم ستونوں میں سے ایک کی سرپرستی فراہم ہونا شروع ہوگئی ہے۔

لاہور کے مینارِ پاکستان تلے منعقد ہوئے اجتماع کے بعد وہ اقتدار سنبھالنے کی راہ پر چل نکلے۔ منزل دوگام رہ گئی تو 2016ئمیں پانامہ ہوگیا۔ ریاست کا ایک اور ستون -عدلیہ- بھی اس کی وجہ سے متحرک ہوگیا۔ میڈیا بھی کرپشن کے خلاف آزاد عدلیہ کی حمایت میں ڈٹ کرکھڑا ہوگیا۔ پانامہ دستاویزات کی ازخود تحقیقاتکے نتیجے میں عوام کے وسیع تر حصے کی جو ذہن سازی ہوئی اس کا توڑ آج بھی میسر نہیں ہوا۔ اپریل 2022ئمیں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے عمران حکومت کی فراغت کے بعد اقتدار سنبھالنے کے باوجود پاکستان مسلم لیگ (نون) اپنے خلاف بنائے اور گھر گھر پہنچے بیانیہ کا جواب فراہم نہیں کر پائی ہے۔

مابعد صحافت دور میں لوگوں کے دلوں میں موجود نفرت وتعصبات کی قوت کا اندازہ لگانا ہو تو جمعرات کی شام سے ایک ٹی وی چینل پر ٹکرکے ذریعے نمودار ہوئی ایک خبرکا تعاقب کرلیں۔ کرپٹو نام کی کوئی کرنسی ہوتی ہے۔ میں عمر تمام صحافت کی نذر کردینے کے باوجود آپ کو سمجھا نہیں سکتا کہ یہ کرنسی کیا ہے۔ اس کرنسی میں سرمایہ کاری کی بدولت مگر امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے اقتدار کے پہلے سال کے دوران ایک ارب 40کروڑ ڈالر کا منافع کمایا ہے۔ ٹرمپ کا اگرچہ دعویٰ ہے کہ وہ ذاتی طورپر سرمایہ کاری میں ملوث نہیں۔ اس کے بچے نت نئے منصوبے سوچ کر ان میں ٹرمپ کی بنائی کمپنیوں کا سرمایہ لگارہے ہیں۔ یہ دعویٰ کرتے ہوئے نہایت ہوشیاری سے وہ یہ حقیقت بھلادیتا ہے کہ ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے امریکی حکومت کرپٹو کرنسی کو باقاعدہ صورت دینے کے لئے کئی اقدامات لے چکی ہے۔ اس سے قبل جبکہ یہ کرنسی جرائم پیشہ افراد خصوصاََ منشیات فروشوں کے دھندے سے متعلق تصور ہوتی تھی اور حکومتیں اس سے اجتناب کو مائل۔

وطن عزیز میں کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کے حوالے سے مسلم لیگ (نون) سے تعلق رکھنے والے ایک طاقتور وزیر کے فرزند کا بہت ذکر رہا ہے۔ اتفاقاََ طاقتور وزیر شریف خاندان کے نہایت قریبی رشتے داربھی ہیں۔ رشتے داری نے انہیں مسلم لیگ کے دیرینہ اور حالیہ مخالفین کی نفرت انگیز توجہ کا مرکز بنادیا۔ مذکورہ خاندان کے خلاف برسوں سے لوگوں کے دلوں میں موجود نفرت کے ہوتے ہوئے جمعرات کی شام ایک ٹی وی چینل پر ایک طاقتور وزیر کے قریبی رشتے دار کے حوالے سے چند غیر ملکی خواتین کے اغوا کی خبر آئی اور اس کے بعد معاملات پر اسرار ہونا شروع ہوگئے۔

غیر ملکی خواتین کے اغوا کے حوالے سے طاقتور وزیر کے قریبی رشتے دار کا نام اچھلا تو روایتی میڈیا محتاط رویہ اختیار کرنے کو مجبور ہوا۔ روایتی میڈیا کی احتیاط نے سیٹزن جرنلزم کو تقویت پہنچائی۔ سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارم خصوصاََ یوٹیوب پر چھائے حق گو غیر ملکی خواتین کے اغوا سے متعلق کہانی کا تعاقب کرناشروع ہوگئے۔ حکومتی رعونت نے سوشل میڈیا کی بدولت پھیلی خبروں کو جھٹلانے کی زحمت ہی گوارہ نہ کی۔ بات حد سے بڑھتی نظر آئی تو نام نہاد ذرائع کی بدولت عوام کو یقین دلانے کی کوشش ہوئی کہ پولیس کو غیر ملکی خواتین کو بازیاب کروانے کا حکم صادر کردیا گیا ہے اور اس بات کی ضمانت بھی کہ قانون کا اطلاق کرتے ہوئے انہیں کسی شخص کی طاقتور وزیر سے رشتے داری کو خاطر میں نہیں لانا چاہیے۔ بالآخر خواتین بازیاب ہوکر بیرون ملک روانہ ہوگئیں۔ پاکستان چھوڑنے سے قبل انگریزی زبان میں انہوں نے مجسٹریٹ کے روبرو 164والے جو بیانات دئے ہیں وہ دل دہلادینے والے ہیں۔

ان بیانات کو بغور پڑھنے کے بعد اپنے صحافتی کیرئیر کے ابتدائی دس برس نہایت لگن سے جرائم کی رپورٹنگ کرنے کی وجہ سے جمع ہوئے تجربے کی بنیاد پر میرے ذہن میں کئی سوالات ابھرے۔ مجھے یقین ہے ایسے ہی کئی سوالات ہمارے عوام کی اکثریت کے ذہنوں میں بھی اٹھے ہوں گے۔ مثال کے طورپر یہ کہانی کہ غیر ملکی خواتین حال ہی میں گرفتار ہوئے پاکستانیوں کو ایک اور ملک میں ملی تھیں۔ انہوں نے طاقتور وزیر کے قریبی رشتے دار کو کرپٹو کرنسی کے دھندے میں سرمایہ کاری کو اکسایا۔ اس کا اعتماد جیتنے کے لئے اسے گرانقدر منافع کی رقم بھی ادا کی گئی۔ بعدازاں مگر یہ ہی خواتین سرمایہ ہڑپ کرتی نظر آئیں۔ سوال اٹھتا ے کہ ہزاروں ڈالر مبینہ طورپر ہڑپ کرلینے کے بعد وہ مزید سرمایہ کاری کے لالچ میں پاکستان آنے کو آمادہ کیوں ہوئیں؟

اہم ترین سوال یہ بھی تھا کہ غیر ملکی خواتین کو مبینہ طورپر مزید سرمایہ کاری کا لالچ دے کر وطن بلوانے کے بعد طاقتور وزیر کا قریبی رشتہ دار اس شخص سے رابطہ کرنے کو کیوں مجبور ہوا جو باس کہلاتا ہے اور سرمایہ ہڑپ کرنے والے نوسربازوں سے بزور جبر رقم وصول کرسکتا ہے۔ باس نامی شخص اور اس کے گروہ کی موجودگی یہ خوفناک حقیقت بے نقاب کرتی ہے کہ وطن عزیز میں ریاست کے متوازی نجی شعبے میں انصاف دلانے والے گروہ بھی کارفرما ہیں۔ ان کی فراہم کردہ سہولیات بآسانی میسر ہیں۔ ایک حوالے سے ریاستی طاقت کے متوازی طاقت کے مراکز جو کرائے پر حاصل کئے جاسکتے ہیں۔

ذہن میں بر جستہ آنے والے مندرجہ بالا سوالات کے علاوہ بھی بے شمار سوالات لوگوں کے اذہان میں اٹھ رہے تھے۔ ان کے تسلی بخش جواب مگر اتوار کو صحافیوں کے روبرو کھڑے ہوئے ایک اعلیٰ پولیس افسر ہی فراہم کرسکتے تھے۔ میرے نوجوان ساتھیوں نے مگر سوالات اٹھانے کے بجائے ان کے خلاف جمع ہوئے غصے کا اظہار شروع کردیا۔ ہر چیز اب قابو میں ہے والا تاثر فراہم کرنے کے بعد پریس کانفرنس کرائم رپورٹروں کے طیش وغضب کی بدولت بے تحاشہ سوالات کے تسلی بخش جوابات فراہم کئے بغیر ختم ہوگئی۔ جمعرات کی شام ٹی وی سکرین پر چلے ایک ٹکر کی بدولت ابھری کہانی یوں ختم ہوتی نظر آرہی ہے۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.

Check Also

Vozinha

By Javed Chaudhry