Tuesday, 07 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Syed Mehdi Bukhari
  4. Najaiz Aslahe Se Pak Karen

Najaiz Aslahe Se Pak Karen

ناجائز اسلحے سے پاک کریں

اسلام آباد میں پاک فضائیہ کے افسر کا قتل افسوسناک واقعہ ہے۔ ملزم اپنی کولیگ لڑکی کو اپنی موٹرسائیکل پر بٹھا کر کسی انجان مقام پر لے جا رہا تھا۔ لڑکی نے راستہ بدلنے پر اس سے بحث شروع کی۔ بحث زور زبردستی میں بدلی۔ اس زور زبردستی کو دیکھ کر گروپ کیپٹن عاصم نے مداخلت کی اور ہر جینٹلمین یہ سب دیکھ کر یہی کرتا۔ ملزم نے اپنے بیگ سے اسلحہ نکالا اور گروپ کیپٹن کو گولی مار دی۔ افسر کی موقعہ پر ہی شہادت ہوگئی۔ ملزم فرار ہوگیا جسے بعد ازاں پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ گروپ کیپٹن عاصم کی شہادت انتہائی افسوسناک ہے۔ اس کے تین چھوٹے بچے ہیں۔ یعنی ایک خاندان یتیم ہوگیا ہے۔ عاصم شہید بلاشبہ ہیرو ہے انہیں حکومت پاکستان صدارتی ایوارڈ سے نوازے۔

ملزم کے پاس اسلحہ تھا وہ بھی ناجائز۔ عاصم نہتا تھا۔ یہ فرق ہے اس سماج میں Law abiding citizen اور Outlaw کا۔ ملزم لڑکی کو انجان مقام پر لے جا کر اسلحے کے زور پر جو کر سکتا تھا وہ ایک الگ سانحہ ہوتا۔ لڑکی کی عزت ایک افسر کی جان کی قیمت پر بچی ہے۔ معاشرے میں اسلحہ کلچر ہے۔ یہ کلچر افغان وار سے پھیلانا شروع ہوا اور پھر سارے سماج کو کینسر کی طرح چاٹ گیا۔ پچھلے دس برسوں میں حکومت پاکستان نے ناجائز اسلحہ سرنڈر کرنے کے بدلے معاوضہ لینے کی مہم بھی چلائی ہیں لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑا۔ اول، ان مہمات کو کوریج نہیں دی جا سکی یعنی ان کی تشہیر میں کمی رہی۔ دوم، ہمارے لوگ قانون کے تابع نہیں ہونا چاہتے جب تک قانون ان کے سر پر سوار ہو کر خود کو مسلط نہ کرے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام الناس میں آگاہی مہم زور و شور سے چلائی جائے۔ معاشرے کو اسلحے سے پاک کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات لیے جائیں، چاہے اس کے لیے عارضی مگر ضروری سخت نئے قوانین بنانا پڑیں۔ ایمرجنسی نافذ کی جائے۔

آٹھ سال قبل میں نے نائن ایم ایم کا آل پاکستان لائسنس بنوایا۔ میں آرٹسٹ مزاج انسان ہوں میرے ہاتھ میں کیمرا اور قلم ہی ہوتا ہے۔ اسلحہ سخت ناپسند کرتا ہوں۔ اس دور میں لائسنس بنانے کی دو وجوہات تھیں۔ اول، میرے ساتھ ایک واقعہ پیش آیا تھا جس میں میرا موبائل اور بٹوا اسلحے کے زور پر چھینا گیا تھا، پھر ایک بار مجھے ایک گاڑی نے اوورٹیک کرتے ہوئے مستی میں کٹ ماری تھی، اندر موجود لڑکوں نے شاید چڑھا رکھی تھی۔ جب میں نے ان کو کسی طرح آگے جا کر روک لیا اور ان سے اس بیہودگی پر بات کرنے کو باہر نکلا تو ڈرائیور سیٹ پر بیٹھے لونڈے نے ہاتھ میں پسٹل تھام رکھا تھا۔ اس نے پسٹل لہراتے الٹا مجھے ننگی گالیاں نوازیں اور میں چپ کرکے وہاں سے چل دیا۔ دوسری وجہ میرے اسفار تھے۔ مجھے بلوچستان، سندھ، بالائی علاقہ جات سمیت پاکستان کے دور دراز علاقوں کے سفر درپیش رہتے تھے۔ یہ علاقے امن و امان کے حوالے سے مخدوش ہیں۔ میرا رزق اس سے وابستہ تھا۔ میں مختلف پراجیکٹس پر ہوتا تھا۔ گوکہ پراجیکٹس کے دوران پولیس یا کہیں کہیں پاک فوج کی پروٹیکشن حاصل ہوتی تھی لیکن ان تک پہنچنے کو تو اکیلے سفر کرنا ہوتا تھا۔

قصہ مختصر، وہ لائسنس پانچ سالہ معیاد کا تھا۔ اس سارے دوران نائن ایم ایم میرے ڈیش بورڈ میں ضرور ہوتا لیکن اللہ کا کرم رہا کبھی اسے نکالنے کی نوبت نہ آ پائی۔ لائسنس ایکسپائر ہوگیا۔ میں جب ری نیول کے لیے جانے لگا تو انکشاف ہوا نئے اسلحہ لائسنسز کے ساتھ ساتھ پرانوں کی ری نیول پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ لہذا جب تک پابندی عائد ہے یہ ری نیو نہیں ہو سکتا۔ تین سال ہو چلے وہ پابندی آج تک عائد ہے۔ اب جب لائسنس نہ رہا تو میرا اسلحہ غیرقانونی تھا۔ مجھے پراسس سمجھایا گیا کہ آپ علاقہ مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہو کر اپنا اسلحہ سرنڈر کریں۔ اس کو مال خانے میں جمع کیا جائے گا اور آپ کو مجسٹریٹ مال خانے کی رسید جاری کرے گا۔ جب آپ کا لائسنس ری نیو ہو جائے آپ تب وہ رسید دکھا کر اپنا اسلحہ واپس لے سکتے ہیں۔ میں نے قانونی طریقہ کار اختیار کیا اور نائن ایم ایم جو کہ امپورٹڈ تھی اور بہت مہنگی تھی اسے جمع کرا دیا اور رسید سنبھال لی ہے۔

یہ قانونی کارروائی نہ بھی کرتا تو کسی کو کیا علم ہوتا۔ لیکن میرے کیس میں میں قانون کا احترام کرنے والا شہری ہوں اور سمجھتا ہوں کسی بھی جھنجھٹ میں نہیں پڑنا چاہئیے۔ میں لکھتا ہوں، بولتا ہوں، خدانخواستہ کسی سبب بھی کوئی طاقتور شخص ناراض ہو جائے اور میرے گھر کسی وجہ سے ریڈ ہو جائے اور اس میں اسلحہ برآمد ہو تو سیدھا سیدھا غیر قانونی اسلحہ کا کیس تو بن گیا۔ لیکن یہاں سرکار سے میرے کچھ ذاتی سوالات ہیں۔

میں Law abiding citizen بن کر رہوں تو کیا حکومت میری جان مال کی ذمہ دار بن سکتی ہے؟ کیا میں راہ چلتے کسی ظلم کو ہوتا دیکھوں تو چپ چاپ گزر جاؤں یا گروپ کیپٹن کی مانند روکنے کی کوشش کرنے پر گولی کھا لوں، یا 15 پر کال کرکے بری الذمہ ہو کر اپنی راہ لے لوں؟ بار دگر عرض ہے، لائسنس دیں نہ دیں لیکن معاشرے کو ناجائز اسلحے سے پاک کرنے کی پوری اور ایمرجنسی کوشش تو کر لیں۔ عین نوازش ہوگی۔

Check Also

Hamara Adalti Nizam

By Muhammad Hanif