Monday, 27 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Syed Mehdi Bukhari
  4. Haji Mastan (1)

Haji Mastan (1)

حاجی مستان (1)

برصغیر کی جرائم پیشہ تاریخ میں اگر کسی نے غربت کی گہرائیوں سے اٹھ کر شہر کی معیشت، سیاست اور سماج پر غیر معمولی اثرات مرتب کیے تو اس میں حاجی مستان کا نام نمایاں ہے۔ وہ نہ کسی آسودہ خاندان میں پیدا ہوا، نہ اس کے پاس سرمایہ تھا اور نہ ہی اعلیٰ تعلیم۔ اس کے پاس اگر کچھ تھا تو غربت کا تلخ تجربہ، محنت کی عادت اور امیر بننے کی بے پناہ خواہش اور اسی خواہش نے حاجی مستان کو بمبئی انڈرورلڈ کا بے تاج بادشاہ بنا دیا۔

حاجی مستان کی پیدائش ایک غریب کسان خاندان میں ہوئی۔ زرعی آمدنی اتنی کم تھی کہ اس کے والد کے لیے خاندان کا گزارہ کرنا مشکل ہوگیا۔ لاکھوں دوسرے ہندوستانیوں کی طرح انہوں نے بھی روزگار کی تلاش میں بمبئی کا رخ کیا۔ بمبئی نے انہیں دولت نہیں بلکہ سخت محنت دی۔ باپ بیٹا سائیکلوں کی مرمت کی ایک معمولی دکان پر دن بھر کام کرتے مگر آمدنی اتنی کم تھی کہ غربت جوں کی توں رہی۔ اسی دوران کم عمر مستان نے پہلی مرتبہ دولت اور غربت کے درمیان وہ واضح فرق دیکھا جو بمبئی کی شناخت تھا۔ ایک طرف فلم سٹارز و سیاستدانوں کے محلات، چمکتی ہوئی امریکی گاڑیاں اور سینما گھروں کی رنگین دنیا، دوسری طرف کچی بستیاں، مزدور اور دو وقت کی روٹی کے لیے جدوجہد۔ اس نے فیصلہ کیا کہ اگر زندگی نے موقع دیا تو وہ صرف زندہ نہیں رہے گا بلکہ طاقت اور دولت دونوں حاصل کرے گا۔ (حاجی مستان کے کچھ انٹرویوز یوٹیوب پر موجود ہیں۔ یہ باتیں اسی کی زبانی ہیں)۔

سنہ 1944 میں اس نے بمبئی پورٹ پر قلی کی حیثیت سے کام شروع کیا۔ یہی بندرگاہ بعد میں اس کی قسمت بدلنے والی تھی۔ روزانہ دنیا بھر سے آنے والے جہاز، درآمدی سامان، کسٹم کے قوانین اور ان قوانین سے بچنے کی کوششیں اس کے سامنے ایک نئی دنیا کھول رہی تھیں۔ چند برسوں میں اس نے یہ سمجھ لیا کہ اصل دولت محنت میں نہیں بلکہ تجارت کے ان راستوں میں ہے جہاں قانون اور منافع آمنے سامنے کھڑے ہوں۔ اسی ماحول میں اس کی ملاقات عرب تاجر شیخ محمد الغالب سے ہوئی جس نے اسے اسمگلنگ کے ابتدائی طریقے سکھائے۔ ابتدا میں کام معمولی تھا۔ چند گھڑیاں، سونے کے بسکٹ یا ریڈیو سیٹ کسٹم سے بچا کر نکالنا۔ مگر یہی چھوٹے کام آگے چل کر ایک منظم مجرمانہ معیشت کی بنیاد بنے۔

ایک واقعے نے مستان کی شخصیت کو نئی شناخت دی۔ بندرگاہ پر ایک مقامی غنڈا مزدوروں سے بھتہ وصول کرتا تھا۔ مستان نے پہلی مرتبہ مزدوروں کو متحد کیا اور اس غنڈے کو مار بھگایا۔ اس کامیابی نے اسے مزدور رہنما کے طور پر بھی متعارف کرایا۔ پچاس کی دہائی کے آغاز میں جب بمبئی میں شراب پر پابندی لگی تو مستان نے اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ اس نے ملازمت چھوڑ کر اسمگلنگ کو باقاعدہ کاروبار بنا لیا اور جلد ہی مشہور بھارتی اسمگلر نارائن باکھیا سے دوستی قائم کر لی۔

اس مرحلے پر مستان ایک اور حقیقت تک پہنچا کہ صرف سرمایہ کافی نہیں طاقت بھی ضروری ہے۔ اسی لیے اس نے شہر کے دو بڑے طاقتور کرداروں کریم لالا اور وردھا بھائی سے تعلقات قائم کیے۔ یہی اتحاد آگے چل کر ممبئی کے اس مشہور "مافیا ٹرائیکا" کی بنیاد بنا جس نے کئی دہائیوں تک شہر کی جرائم پیشہ دنیا پر حکمرانی کی۔ کریم لالا دراصل پٹھان برادری کی سب سے طاقتور شخصیت سمجھا جاتا تھا۔ وہ پٹھانوں کے ایک منظم جرائم پیشہ گروہ کا سرغنہ تھا۔ دوسرا تھا وردھا بھائی جس کا گروہ بھارت کے دیگر شہروں تک پھیلا ہوا تھا۔

یہ تینوں مختلف زبانیں بولتے تھے، مختلف مذاہب سے تعلق رکھتے تھے اور مختلف علاقوں کے نمائندہ تھے، لیکن ان کا مشترکہ مفاد ایک تھا اور وہ تھا بمبئی کی معیشت پر قبضہ، انڈرورلڈ دنیا کا نیٹورک قائم کرنا اور سرکار سے زیادہ طاقتور بننا۔ آنے والے برسوں میں حاجی مستان فلمی ستاروں کا سرپرست بنا، سیاست دانوں کے ساتھ بیٹھا بلکہ اس نے اپنی سیاسی جماعت بھی بنائی اور بالآخر بمبئی کے جرائم کی دنیا میں ایک ایسے دور کی بنیاد رکھی جسے لوگ "گولڈن ایج آف اسمگلنگ" کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ یہ سمجھنا غلط ہے کہ کوئی اکیلا یہ سب کچھ کر سکتا تھا۔ جرائم پیشہ سلطنتیں ہمیشہ اتحاد سے بنتی ہیں۔ ایک شخص سرمایہ لاتا ہے۔ دوسرا راستے مہیا کرتا ہے۔ تیسرا حفاظت کرتا ہے۔ چوتھا سرکاری اہلکاروں سے معاملات طے کرتا ہے اور پانچواں سیاست دانوں تک رسائی رکھتا ہے۔ یوں جرم، سرمایہ اور اقتدار ایک ہی میز پر بیٹھ جاتے ہیں۔ بمبئی میں بھی یہی ہوا۔

جرائم کی دنیا میں خوف ضروری ہے مگر صرف خوف سلطنت نہیں بناتا۔ حاجی مستان کی اصل طاقت اس کی ساکھ تھی۔ بازار میں یہ بات مشہور تھی کہ اگر اس نے کسی سودے پر ہاتھ رکھ دیا تو وہ پورا ہوگا۔ اگر اس نے کسی کو رقم دینی ہے تو ملے گی اور اگر کسی سے وعدہ کیا ہے تو نبھایا جائے گا۔ یہی وجہ تھی کہ بڑے تاجر جنہیں سرکاری عدالتوں پر مہینوں اور برسوں انتظار کرنا پڑتا تھا اپنے تنازعات مستان کے پاس لے جاتے۔ وہ چند گھنٹوں میں فیصلہ کرتا۔ یہی غیر رسمی انصاف بعد میں بمبئی مافیا کی سب سے بڑی طاقت بن گیا۔

ستر کی دہائی تک بھارتی فلم انڈسٹری شدید مالی بحران کا شکار تھی۔ بینک فلمسازوں کو قرض نہیں دیتے تھے۔ بڑی کمپنیاں فلم سازی کو رسکی کاروبار سمجھتی تھیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ فلم سازوں نے سرمایہ وہاں تلاش کیا جہاں نقد رقم موجود تھی اور نقد رقم سب سے زیادہ اسمگلروں کے پاس تھی۔ یہیں سے فلمی دنیا اور زیرِ زمین معیشت کا رشتہ قائم ہوا۔ مافیا فلموں میں سرمایہ لگاتا۔ فلمیں کامیاب ہوتیں اور رقم سفید ہو جاتی۔ اداکار، موسیقار، فلم ساز اور سرمایہ کار ایک نئے معاشی دائرے میں داخل ہو گئے جہاں سب ایک دوسرے کے محتاج تھے۔

حاجی مستان کو اداکارہ مدھوبالا سے شدید عشق تھا اور وہ اس سے شادی کرنا چاہتا تھا۔ اس مقصد کے لیے اس نے اداکار دلیپ کمار کے ہاتھ مدھوبالا کو پیغام بھی پہنچایا تھا۔ مدھوبالا کی طبیعت کی خرابی اور پھر انتقال ہو جانے کی وجہ سے یہ خواہش تو پوری نہ ہو سکی۔ مدھوبالا کے انتقال کے بعد اس جیسی شکل و صورت کی حامل ایک اور اداکارہ سونا فلمی دنیا میں آئی۔ مستان نے جب سونا کو دیکھا تو مدھوبالا سے مشابہت کی وجہ سے اس سے شادی کر لی۔

حاجی مستان نے ڈان والا حلیہ نہیں اپنایا بلکہ ایک مختلف راستہ اختیار کیا۔ اس نے کبھی اسلحے کی نمائش نہیں کی البتہ شخصیت کی نمائش بہت زیادہ کی۔ ہمیشہ سفید لباس پہنا۔ کم بولنا زیادہ سننا۔ اس نے اپنے گرد ایک ایسا تاثر قائم کیا کہ وہ محض اسمگلر نہیں بلکہ ایک باوقار شخص ہے۔ یہ حکمت عملی غیر معمولی حد تک کامیاب رہی۔ عوام کی نظر میں وہ ایک جرائم پیشہ شخص سے زیادہ ایک کاروباری شخصیت دکھائی دینے لگا۔ بڑے جرائم پیشہ گروہوں کی ایک پرانی روایت ہے کہ وہ اپنے زیرِ اثر علاقوں میں ریاست کی بعض ذمہ داریاں خود سنبھال لیتے ہیں۔ کہیں غریبوں کی مدد کر دیتے ہیں۔ کہیں علاج۔ کہیں شادیوں کے اخراجات۔ کہیں روزگار۔ یہ سب صرف سخاوت نہیں ہوتی۔ یہ سرمایہ کاری ہوتی ہے۔ جس شخص نے آپ کی بیٹی کی شادی کرائی ہو اس کے خلاف گواہی دینا آسان نہیں رہتا۔ جس نے مشکل وقت میں قرض دیا ہو اس کی خاموش حمایت معاشرے میں خود بخود پیدا ہو جاتی ہے۔ حاجی مستان نے بھی اس نفسیات کو بخوبی سمجھ لیا تھا۔

جیسے جیسے دولت بڑھی ویسے ویسے سیاست بھی قریب آنے لگی۔ سیاست دانوں کو انتخاب لڑنے کے لیے سرمایہ چاہیے تھا اور اسمگلروں کو تحفظ چاہیے تھا۔ دونوں کی ضرورت ایک دوسرے سے پوری ہونے لگی۔ یہیں سے جرائم، بالی وڈ، سیاست اور کاروبار کے درمیان وہ چوکور بنی جس نے آنے والی دہائیوں میں بھارت کی سیاست کو گہرے طور پر متاثر کیا۔

حاجی مستان کے پاس دولت تھی۔ اثر و رسوخ تھا۔ سیاسی روابط تھے۔ مگر اس کے پاس ایک چیز کی کمی تھی اور وہ تھی منظم مسلح فورس یا مسلح ملیشیا۔ ستر کی وسطی دہائی سے اسی کی دہائی آتے بمبئی کے مختلف نسلی اور لسانی گروہ پٹھان، تامل، گجراتی اور مقامی چھینا جھپٹ گینگ اپنے اپنے علاقوں میں اثر قائم کر رہے تھے۔ ایک نئی نسل پیدا ہونے والی تھی۔ اسمگلنگ اب بھی منافع بخش تھی مگر نئی نسل صرف اسی پر اکتفا نہیں کرنا چاہتی تھی۔ شہر میں رئیل اسٹیٹ کی قیمتیں بڑھ رہی تھیں۔ فلمی صنعت میں سرمایہ کاری بڑھ رہی تھی۔ بین الاقوامی رابطے بھی آسان ہو رہے تھے اور سب سے اہم بات یہ کہ خلیجی ممالک خصوصاً دبئی ایک نئے تجارتی مرکز کے طور پر ابھر رہے تھے۔ یہ وہ تبدیلی تھی جس نے بمبئی کے نوجوان جرائم پیشہ عناصر کو مقامی گینگ سے عالمی نیٹ ورک کی طرف سوچنے پر مجبور کیا۔

ایک دبلا پتلا نوجوان، جو بمبئی کے جھونپر پٹی علاقے ڈونگری کی تنگ گلیوں میں اپنے پولیس کانسٹیبل والد کے گھر پل رہا تھا، خاموشی سے ان سب کو دیکھ رہا تھا۔ اس کا نام تھا داؤد ابراہیم کاسکر جسے دنیا داؤد ابراہیم کے نام سے ہی جانتی ہے۔ حاجی مستان نے اسمگلنگ کی سلطنت بنائی تھی۔ داؤد ابراہیم اسے ایک عالمی جرائم پیشہ نیٹ ورک میں تبدیل کرنے والا تھا۔ وہ صرف شہر پر نہیں پورے خطے پر حکمرانی کا خواب دیکھ رہا تھا اور اس خواب کا نام تھا ڈی کمپنی (داؤد ابراہیم گینگ کا نام)۔ بمبئی کی گلی کوچوں میں گولیوں کی گونج سنائی دینے والی تھی۔ ہر کاروباری سیٹھ، اداکار، ڈاکٹر، انجینئیر بھتہ دینے پر مجبور ہونے والا تھا۔ بمبئی انڈرورلڈ میں گینگ وار شروع ہونے والی تھی۔ اس گینگ وار نے آگے چل کر پاکستان کے شہر کراچی کو بھی لپیٹ میں لے لینا تھا۔

نوٹ: حصہ اول کا اختتام۔ لاہور گینگ وار سیریز سلسلہ وار لکھی تھی تو اس کے بعد کراچی کے حالات پر بھی لکھنے کی بہت فرمائش ہوئی۔ میں کراچی گینگ وار کی تفصیلات میں شاید بوجوہ نہ جا سکوں کیونکہ اسی ملک میں جینا ہے البتہ کسی بھی خاص حالات کو سمجھنے کے لیے اس کے پسِ منظر سے آگاہ ہونا ضروری ہوتا ہے۔ جرم کی دنیا مکڑی کا ایسا جالا ہے جس کی تاریں سرحد پار بھی ملتی ہیں۔ حتیٰ کہ نوے کی دہائی میں بوری بند لاشوں کا دھندا کرنے والے ایم کیو ایم لندن کے پیشہ ور شوٹرز بھی بمبئی انڈرورلڈ سے رابطے میں رہے۔ سنہ 92 میں کراچی میں جنرل نصیر اللہ بابر کے "آپریشن کلین اپ" کے پیچھے بھی انڈرورلڈ کی کہانی ہے۔

Check Also

Haji Mastan (1)

By Syed Mehdi Bukhari