Wednesday, 22 July 2026
  1.  Home
  2. Nusrat Javed
  3. Bharti Cockroach Janta Party Ke Jalway

Bharti Cockroach Janta Party Ke Jalway

بھارتی کاکروچ جنتا پارٹی کے جلوے

تیونس میں ایک ریڑھی والے نے پولیس کی بھتہ خوری سے تنگ آکر خود کو نذرِ آتش کرلیا تو فقط اس ملک ہی نہیں بلکہ 2011ء کا برس شروع ہوتے ہی کئی عرب ملکوں میں بھی نام نہاد "عرب بہار" کی تحریک شروع ہوگئی۔ اس کے نتیجے میں مصر پر کئی دہائیوں سے فرعونی اختیارات کے ساتھ براجمان صدر کا بھی برج الٹ گیا۔ مذکورہ تحریک کو تمام تر ریاستی جبر کے باوجود زندہ رکھنے میں سوشل میڈیا پر ٹویٹر کے نام سے موجود ایپ نے کلیدی کردار ادا کیا۔ ٹویٹر جو اب ایک (X)کہلاتا ہے گویا نظام کہنہ کو شکست دینے کے لئے آہنی ہتھوڑا تصور ہونے لگا۔

سکول سے فارغ ہوتے ہی مجھے بھی "انقلاب" برپا کرنے کا جنون لاحق ہوگیا تھا۔ عمر ساری دیواروں سے مگر ٹکراتے ہی گزری۔ عمر کے آخری حصے میں داخل ہوا تو ٹویٹر کی ایجاد نے جی کو دوبارہ جوان بنادیا۔ دن کے کئی گھنٹے لیپ ٹاپ پر بیٹھا نظام کہنہ کے خلاف "ذہن سازی" میں مصروف رہتا۔ "تبدیلی کا ٹھیکہ" مگر کرکٹ کی بدولت کرشمہ ساز ہوئے ایک کھلاڑی کو مل چکا تھا۔ انہوں نے لاہور میں کینسر کے علاج کے لئے عوام کے دئے چندوں سے ایک جدید ترین ہسپتال بھی تعمیر کیا تھا۔

ہمارے نوجوانوں نے خلوصِ دل سے امید باندھی کہ سیاسی جماعت کی تشکیل کے ذریعے وہ ہمارے دیرینہ مسائل کے حل کے لئے "نیا پاکستان" بھی تعمیر کرسکتے ہیں۔ مجھے ان کی روش "انقلابی" سے زیادہ "فسطائی" محسوس ہوئی۔ اپنے تحفظات کا اظہار شروع کیاتو ٹویٹر ہی پر پھیلائی جھوٹی خبروں نے مجھے حکمرانوں کا چاکر لفافہ صحافی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اعتبار سے بھی قابل گردن زدنی ٹھہرانا شروع کردیا۔ ڈھیٹ ہڈی نے ذات پر اچھالا گند برداشت کرلیا مگر اپنے خیالات کے حامی مؤثر تعداد میں میسر نہ ہوئے۔

دریں اثناء "عرب بہار" بھی خزاں کی زد میں آگئی۔ کچھ عرصہ پسپائی کے بعد نظام کہنہ کو برقرار رکھنے والی قوتیں طاقت کے مراکز پر اپنا اجارہ بحال کرنے میں کامیاب ہوگئیں۔ مصر اب ایسا ہی "پرامن" اور عوام میں خوئے غلامی کا مثالی مظہر ہے جیسا حسنی مبارک کے ایام میں ہوا کرتاہے۔ "تبدیلی" بھی ہمارے ہاں بہت دھوم دھام سے آکر اڈیالہ جیل میں بند ہوچکی ہے۔ جمہوریت اب "ہائی برڈ"ہے۔ بہار کو خزاں میں بدلنے کا عمل سمجھانے میں ایک ترک نڑاد لکھاری -زینب توفیقی- کی لکھی کتاب "آنسوگیس اور ٹویٹر" نے میرے لئے چشم کشا حقائق و دلائل بیان کئے تھے۔ زینب نے عرب بہار کے ایام میں مصر کے التحریر اسکوائر میں انقلابیوں کے ساتھ رہ کر گزارے۔ "خزاں " آنے کے بعد ان کے متحرک رہ نما جیلوں میں گئے تو وہ ان کے خاندانوں میں پرانے ساتھیوں سے مسلسل رابطے میں رہی۔ ان روابط کی بدولت اس نے ٹویٹر کے ذریعے "ذہن سازی" کی بے شمار محدودات دریافت کیں۔ میں ان کے حوالے دیتے ہوئے دورِ حاضر کے انقلابیوں کو سوشل میڈیا سے دور رہنے کے مشورے دینے میں وقت ضائع کرتا رہتا ہوں۔

پیر کے دن سے لیکن سوشل میڈیا کی بدولت انقلاب لانے کو بضد میرے کئی نوجوان لکھاری مجھے ٹویٹر کو جو اب ایکس کہلاتا ہے پر بھیجے براہ راست پیغامات کے ذریعے دیوار سے لگارہے ہیں۔ سو سے زیادہ نوجوانوں نے واٹس ایپ کے ذریعے بھی میری کلاس لی۔ پیغامات کی بھر مار نے مجھے یاد دلایا کہ سوشل میڈیا ہی نے بالآخر مودی حکومت کو حواس باختہ بنادیا ہے۔ زینب توفیقی کی لکھی کتاب سے اچک کر جو دلائل میں نوجوانوں میں مایوسی پھیلانے کو لکھے چلے جارہا تھا وہ باطل ثابت ہورہے ہیں۔

پیر کے روز بھارت کی پارلیمان کے مون سون سیشن کا آغاز ہوا تھا۔ اس کے آغاز کے دن مگر حال ہی میں سوشل میڈیا کے ذریعے ابھری ایک جماعت "کاکروچ جتنا پارٹی" کے کارکنوں نے پارلیمان ہائوس کے گھیرائو کا فیصلہ کیا۔ انہیں پارلیمان تک پہنچنے سے روکنے کے لئے پارلیمان تک جانے والی کئی سڑکیں بند کردی گئیں۔ بے شمار میٹرو اسٹیشنوں کے باہر بھی تالے لگادئے گئے۔ حکومت کی جانب سے لئے پیش بند انتظامات کے باوجود پیر کی صبح سے سورج غروب ہونے تک پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑیوں کے سلسلے دلی بھر کے مختلف مقامات پر جاری رہے۔ کئی مقامات پر آنسو گیس کی بہتات سے سانس لینا بھی دشوار تھا۔

دلی میں مودی سرکار کے خلاف جو مظاہرے پھوٹے ہیں ان کا بنیادی سبب Neetنامی امتحان ہے۔ یہ ہمارے Mcatکی طرح کا ایک امتحان ہے جو طلباء حکومت کے چلائے میڈیکل کالجوں میں داخلے کیلئے دیتے ہیں۔ بھارت میں سرکار کے چلائے میڈیکل کالجوں سے ایم بی بی ایس کرنے کے لئے طالب علم کو مختلف اقساط میں 5سے دس لاکھ روپے فیس ادا کرنا ہوتی ہے۔ پرائیوٹ میڈیکل کالج اس کے مقابلے میں کم از کم دس گنا زیادہ رقم کا تقاضہ کرتے ہیں۔ بھارت کے سرکاری طورپر چلائے میڈیکل کالجوں میں نشستوں کی کل تعداد ایک لاکھ دس ہزار ہے۔ ملک بھر میں پھیلی ان نشستوں پر Neetامتحان کے نتیجے میں ملے نمبر یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ آپ کو داخلہ کونسے کالج میں ملے گا۔ مثال کے طورپر کم نمبر دلی میں پیدا ہوئے ایک طالب علم کو آسام سے بھی پرے منی پور کے میڈیکل کالج میں داخلے کا حق فراہم کریں گے اور اکثر طالب علم گھروں سے دور دراز کالجوں میں داخلے سے انکار کردیتے ہیں اور اپنے نمبر بڑھانے کے لئے Neetکے اگلے امتحان کا انتظار کرتے ہیں۔

رواں برس Neetکا جو امتحان ہوا اس میں ایک لاکھ دس ہزار نشستوں کے حصول کے لئے 20لاکھ سے زائد طالب علموں نے امتحان دیا۔ راجستھان کے ایک امتحانی مرکز سے انکشاف ہوا کہ امتحان میں جو سوالات پوچھے گئے تھے ان میں سے کم از کم 120سوالات ایک مشہور "گیس پیپر" میں ہوبہو چھپ چکے ہیں۔ امتحانی پرچہ "لیک" ہونے کی کہانی چل پڑی۔ کہانی چل پڑی تو دریافت یہ بھی ہوا کہ بمبئی کے قریبی شہر پونہ میں Neetامتحان کی تیاری کرنے والا ایک کوچنگ سینٹر تھا۔ اس سینٹر کا ایک استاد Neetامتحان کا پرچہ تیار کرنے والوں میں بھی شامل تھا۔ اس نے اپنے طالب علموں کو جن سوالات کے جوابات دینے کے لئے تیار کیا روزِ امتحان عموماََ وہی سوالات پوچھے گئے۔ بھارت کے کئی شہروں سے "گیس پیپر" تیار کرنے والوں اور بھاری بھر کم فیس لے کر Neetامتحان کی تیاری کروانے والوں کا "مافیا" کام کرتا محسوس ہوا تو 3مئی 2026ء کے روز ہوئے امتحانات کے نتائج منسوخ کردئے گئے۔

طالب علموں کی کثیر تعداد مگر حکومتی فیصلے سے مطمئن نہ ہوئی۔ مرکزی وزیر تعلیم کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتی رہی۔ اس کے علاوہ صاف شفاف تحقیقات جو Neetکے پوچھے سوالات کی "لیک" کے حقیقی ذمہ داروں کا تعین کرتے ہوئے انہیں عبرت کا نشان بنائیں۔ مودی سرکار نے طلبا اور ان کے والدین کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرنا بھی گوارہ نہ کیا۔

دریں اثناء بھارتی سپریم کورٹ کے ایک جج نے سوشل میڈیا پر اپنے جذبات کا اظہار کرنے والے نوجوانوں کو کاکروچ (لال بیگ) پکارا۔ حقارت بھرے اس لفظ کو کمال مہارت سے استعمال کرتے ہوئے امریکہ کی مشہور یونیورسٹی میں زیر تعلیم ابھی جیت دیپکانامی طالب علم نے سوشل میڈیا پر ہی کاکروچ جتنا پارٹی کے قیام کا اعلان کردیا۔ لاکھوں نوجوانوں نے اس کی رکنیت حاصل کرلی۔ اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ کر وہ بھارت لوٹ آیا اور Neetسیکنڈل کی تحقیقات کے لئے پارلیمان کے گھیرائوکا اعلان کردیا۔ اس کی تحریک نے جو جلوہ دکھایا ہے وہ مجھے ایک حوالے سے تقریباََ غلط ثابت کرتا ہے۔

یہ حقیقت بھی مگر آپ کو ذہن میں رکھنا ہوگی کہ Neetامتحان "سیاسی مسئلہ" نہیں ہے۔ یہ کسی ایک سیاسی جماعت کو نقصان یا فائدہ نہیں پہنچاتا۔ 20لاکھ سے زیادہ جن نوجوانوں نے 3مئی 2026ء کو Neetکا امتحان دیا تھا ان میں سے لاکھوں کے گھرانے آج بھی مودی کے کٹر حامی ہوسکتے ہیں۔ ان کے ساتھ مگر Neetامتحان ناانصافی کرتا محسوس ہوا۔ Neetکے خلاف جو تحریک چلی ہے وہ 20لاکھ گھرانوں کے جوانوں کو بدعنوانی کے ذریعے برباد کرنے کے خلاف اٹھی ہے۔ اسی باعث اس کا اثر بھی بہت شدت سے نظر آرہا ہے۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.

Check Also

Bharti Cockroach Janta Party Ke Jalway

By Nusrat Javed