Wednesday, 22 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Syed Mehdi Bukhari
  4. Siasi Reech

Siasi Reech

سیاسی ریچھ

قدیم زمانے میں بادشاہ شہد نکالنے کے لیے ایک عجیب نسخہ آزماتے تھے۔ وہ جنگل میں موجود شہد کی مکھیوں کے چھتے کو کبھی لاٹھی سے نہیں چھیڑتے تھے، بلکہ ایک تربیت یافتہ ریچھ کو آگے کر دیتے تھے۔ ریچھ زور زور سے غرّاتا، چھتے پر پنجے مارتا، مکھیاں اسی سے الجھ جاتیں اور پیچھے کھڑا شکاری سکون سے شہد اتار کر لے جاتا۔ شام کو ریچھ کو بھی اس کے حصے کا شہد مل جاتا اور اگلے دن وہ پھر غصے کی اداکاری کے لیے تیار ہو جاتا۔ پاکستانی سیاست کی تاریخ میں بھی کئی ریچھ گزرے ہیں۔ کچھ خاکی کھال میں، کچھ سفید شلوار قمیض واسکٹ میں اور کچھ عمامے باندھے ہوئے۔ مسئلہ تب ہوتا تھا جب ریچھ کو شہد سے مطلوبہ حصہ نہ مل پاتا۔ اس وقت ریچھ سچ میں غضبناک ہو کر منہ سے جھاگ نکالتے ہوئے مکھیوں کے چھتے یا بادشاہ میں سے جس سمت منہ ہوتا حملہ کر دیتا۔

سنہ 2002 بھی ایک تماشہ تھا۔ مذہبی جماعتوں نے متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے ہر تقریر میں سامراج کو دفن کرنا شروع کیا تھا، ہر تقریر میں آمریت کا جنازہ نکل رہا تھا اور ہر تقریر میں عوام کو یقین دلایا جا رہا تھا کہ بس اب ظلم کی دیوار گرنے ہی والی ہے۔ مگر جب اسمبلی کا دروازہ کھلا تو وہی ہاتھ جو جلسوں میں مکے بنے ہوئے تھے، ایوان کے اندر جا کر مصافحے کرنے لگے۔ جن لبوں پر "استعمار مردہ باد" تھا، انہی لبوں سے آئینی ترامیم کے حق میں "ہاں" بھی نکل آئی۔ مشرف کا لیگل فریم ورک آرڈر آیا تو اسے پاس کرانے میں ایم ایم اے سہولت کار بنی۔ بعد ازاں جب یہ بکھرے تو جماعت اسلامی مولانا فضل الرحمٰن پر الزام تراشیاں کرنا شروع ہوئی اور جمیت والے جماعت والوں کو آڑے ہاتھوں لیتے رہے۔ پھر پی ڈی ایم کی تحریک بھی آئی، قیادت مولانا کے نصیب میں آئی، پھر پی ڈی ایم اقتدار میں تھی مگر مولانا باہر۔ غصہ فطری تھا سو مولانا نے اختیار کیا۔ پھر آئینی ترمیموں کی باری آئی۔ کبھی خوشی کبھی غم، ترا رم پم پم والا گانا چلتا رہا لیکن بحمدللہ مولانا نے ترامیم پاس کرانے میں سہولت کاری فرمائی مگر اس کے بعد پھر ناراض رہے کہ آپ (مقتدرہ) نے ہمارے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا۔

مولانا کی سیاسی بصیرت کو سرخ سلام پیش کرنے کا دل چاہتا ہے اور اس میں کوئی طنز نہیں چھُپا ہوا۔ پاکستان میں کوئی ایسا سیاسی راہنما ڈھونڈ کر دکھا دیں جس سے بیک وقت دین، سیاست، سماجیات، اخلاقیات اور عمرانیات کا درس کشید کیا جا سکے۔ زیرک ایسے کہ جب چاہیں مقتدرہ کے سہولت کار بن جائیں اور جب چاہیں اپنے سیاسی حریفوں بالخصوص ڈیزل ڈیزل کی صدائیں لگاتی پارٹی کو اپنے ہی در پر حاضری لگوانے پر نہ صرف مجبور کر دیں بلکہ ایسا جادو چلائیں کہ حریف بھی مولانا کی ناموس کی حفاظت پر مامور ہوتا دکھائی دینے لگے۔ مولانا ایک ساتھ پانچ گیند ہوا میں اُچھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور کسی گیند کو گرنے نہیں دیتے۔

رہا نظریہ یا نظرئیے کی سیاست تو ہماری سیاست میں نظریہ اکثر ٹیکسی کی طرح ہوتا ہے۔ جب تک منزل دور ہو میٹر چلتا رہتا ہے۔ منزل آتے ہی مسافر اتر جاتا ہے اور ٹیکسی کسی دوسرے مسافر کو لے کر روانہ ہو جاتی ہے۔ نظریات بھی اقتدار کے دروازے تک ساتھ جاتے ہیں اس کے بعد گاڑی بدل لی جاتی ہے۔ مذہب، جمہوریت، انقلاب، آزادی، آئین وغیرہ وغیرہ ہمارے ہاں یہ سب اکثر اسمِ صفت نہیں بلکہ اسمِ استعمال ہیں۔ جس موسم میں جو لفظ زیادہ بکتا ہو وہی بینر پر لکھ دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں سب سے کامیاب سیاست دان وہ نہیں جو عوام کو قائل کرے بلکہ وہ ہے جو مقتدر قوتوں کو یہ یقین دلا دے کہ وہ عوام کو قائل کر سکتا ہے۔ رہیں مقتدر قوتیں تو انہوں نے سیاسی و مذہبی جماعتوں کو اپنی پراکسی بنا رکھا ہے۔ اسی تناظر میں ہمارے ہاں مُلا ملٹری الائنس کی ٹرم بھی ایجاد ہوئی۔ جب تک جس سے کام نکلتا ہے اسے کاندھے پر سوار کرتے ہیں اور جب وہ کسی سبب سواری بدل لیں تو سابقہ سوار انقلاب زندہ باد، نظام مردہ باد کے نعرے لگانا شروع ہو جاتا ہے۔

عام لوگ سمجھتے ہیں کہ سیاست دو رنگوں کا کھیل ہے۔ سفید اور سیاہ۔ لیکن اقتدار کے مصور کے پاس رنگوں کی پوری دکان ہوتی ہے۔ عوام کو صرف اسٹیج نظر آتا ہے، پردے کے پیچھے ہونے والی ریہرسل نہیں۔ اسی لیے پاکستان میں ہر چند برس بعد قوم کو بتایا جاتا ہے کہ فلاں شخص ریاست کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے اور کچھ عرصے بعد وہی شخص ریاست کا سب سے مفید ساتھی بھی بن جاتا ہے۔ یہاں صرف اسکرپٹ تبدیل ہوتا ہے۔

میں جب بھی کسی سیاست دان کو مائیک کے سامنے بہت غصے میں دیکھتا ہوں تو مجھے ہمیشہ باورچی خانے کی یاد آتی ہے۔ ہنڈیا چولہے پر چڑھی ہوتی ہے، ڈھکن زور زور سے اچھل رہا ہوتا ہے، دیکھنے والا سمجھتا ہے اندر زبردست ابال ہے، مگر ذرا ڈھکن اٹھائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ آنچ اتنی بھی تیز نہیں۔ زیادہ شور تو صرف بھاپ کر رہی ہوتی ہے جس کے پریشر سے ڈھکن ہل رہا ہوتا ہے۔ ہماری سیاست میں بھی بھاپ ہمیشہ سالن سے زیادہ نکلتی ہے۔

تاریخ کا المیہ یہ نہیں کہ اس میں عوام کے ساتھ دھوکے ہوئے، المیہ یہ ہے کہ ہر نسل انہی دھوکوں کو پہلی بار وقوع پذیر ہونے والا واقعہ سمجھتی ہے۔ ہر بار کوئی نیا نعرہ آتا ہے، نئی داڑھی، نئی ٹوپی، نئی وردی، نیا منشور، مگر اقتدار کی میز پر رکھی پلیٹیں وہی رہتی ہیں۔ صرف کھانے والے بدلتے ہیں، کھانا نہیں۔ اس لیے اب جب بھی کوئی رہنما سینہ ٹھونک کر کہتا ہے کہ وہ اقتدار سے نہیں، اصولوں سے محبت کرتا ہے، تو دل بے اختیار مچل جاتا ہے اور ہنسی کا دورہ سا شروع ہو جاتا ہے۔ عمامہ، وردی اور شہد کی مکھی سب ایک ہی تماشے کے حصہ دار کردار ہیں۔

Check Also

Pachas Baras Baad Mukammal Hone Wala Khwab

By Imtiaz Ahmad