Pachas Baras Baad Mukammal Hone Wala Khwab
پچاس برس بعد مکمل ہونے والا خواب

یہ خواب کسی اور نے نہیں میرے والد صاحب نے تقریباََ پچاس برس پہلے دیکھا تھا۔
میری پیدائش سے پہلے کی بات ہے۔ والد صاحب چھوٹے سے گاؤں پھمہ سرا میں رہتے تھے، انہوں نے بڑھئی کا خاندانی کام نہیں کیا اور ایک چھوٹی سی دکان ڈال لی۔
امی ابو مل کر چلاتے تھے، وہاں سبزیاں بھی تھیں، کپڑے بھی تھے، لڈو، جلیباں بھی تھیں، امرود بھی اور دالیں وغیرہ بھی۔
والد صاحب پھمہ سرا سے سائیکل چلاتے ہوئے نوشہرہ ورکاں سامان لینے آتے۔ بابے نذیر اعوان کی دکان نوشہرہ میں سب سے بڑی دکان تھی۔
مجھے کوئی پچیس برس پہلے نوشہرہ ورکاں کے بازار میں ہی ایک باریش بابا جی ملے تھے، بہت ہی ضعیف ہو چکے تھے، چھڑی کے بغیر چل نہیں سکتے تھے لیکن میں ان کے ایمانداری دیکھ کر حیران رہ گیا۔
وہ اگر کسی کو کچھ تول کر دیتے تھے تو وزن والی سائیڈ پر بھی ویسا ہی ایک لفافہ رکھتے تھے، جس لفافے میں وہ کوئی چیز ڈال کر دے رہے ہیں تاکہ ناپ تول میں کوئی رتی برابر بھی کمی نہ ہو۔ اب ایسے لوگ "ٹاواں ٹاواں" ہی ملتے ہیں۔
مجھے کئی برس بعد علم ہوا کہ وہ جماعت اسلامی سے منسلک مشتاق احمد جوئیہ صاحب کے والد تھے۔
خیر انہیں پتہ چلا کہ میں مستری عطا اللہ کا بیٹا ہوں تو انہوں نے مسکراتے مسکراتے انتہائی شفقت بھرے انداز میں میرے سر پر پیار دیا۔ کہنے لگے ہم ایک ہی گاوں سے ہیں، تمہارے ماں باپ کی ایمانداری بہت مشہور تھی، کھرے انسان تھے اور ناپ تول کی سبھی گاوں والے تعریف کرتے تھے۔
مجھے اس وقت پہلی مرتبہ پتہ چلا کہ میرے ماں باپ کبھی کوئی دکان بھی چلایا کرتے تھے۔
خیر بابے نذیر کی طرف آتے ہیں۔ میں یہاں ایک اضافی چیز بتاتا چلوں۔ بابا نذیر شعیہ تھے اور ابو جی دیو بندی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے تھے۔ میری امی جی کا تعلق کٹر بریلوی گھرانے سے ہے۔
امی جی تو فقط قرآن پڑھ سکتی ہیں لیکن ابو جی نے تین چار جماعتیں پڑھی ہوئی تھیں۔
آخری وقت تک اخبار پڑھنے کا شوق رکھتے تھے، جوانی میں اشعار لکھا کرتے تھے اور تھوڑی بہت مذہبی تعلیم بھی تھی۔ خبروں کے اتنے شوقین تھے کہ پھمہ سرا میں سب سے پہلا ریڈیو بھی وہ ہی خرید کر لائے تھے۔
تو اصل بات یہ ہے کہ دیوبندی ہونے کے باوجود ان کی بابا نذیر سے بہت بنتی تھی، زندگی کے صلاح مشورے انہی سے کیا کرتے تھے۔
پنجاب میں فرقہ وارانہ انتہاپسندی نے ابھی جڑیں نہیں پکڑی تھیں۔ لوگ ایک دوسرے کو غیر مسلم نہیں کہتے تھے، ایک دوسرے کا ایمان ابھی کفر و شرک کے ترازو میں تولنے کا رواج نہیں تھا، رواداری تھی، ایک دوسرے کے عقائد اور مذہبی خیالات کا احترام تھا۔
یہ ابو جی ہی تھے، جنہوں نے آٹھویں کلاس میں مجھے فرقہ وارانہ بحث کرتے دیکھ لیا اور بہت غصہ ہوئے۔ ان کی بات کا ایسا اثر ہوا کہ پھر میں نے کبھی ایسی کسی بحث میں حصہ نہیں لیا۔
خیر بابے نذیر نے ہی ابا جی کو مشورہ دیا کہ دیکھو تمہارے بچے ہیں، وہ گاوں میں کیا کریں گے؟ ساری عمر وہاں بھینسوں کو چارہ ڈالتے رہیں گے؟ تم ایسا کرو کہ اپنے بچوں کو نوشہرہ لاو، انہیں پڑھاو، ان کا مستقبل بن جائے گا، ان کی نوکری لگ جائے گی۔
یہ بات ابا جی کے دل کو لگی، ابو جی نے یہ بات ماں جی کو بتائی اور کچھ ہی عرصے بعد امی ابو اپنا سامان سمیٹ کر نوشہرہ ورکاں آ گئے۔ زمین بھی کوئی دو سو یا تین سو روپے مرلہ بابے نذیر سے خریدی اور نئی زندگی کا آغاز کر دیا۔ بابے نذیر نے بھی کہا کہ تم لوگ مکان بناو زمین کے پیسے بعد میں آہستہ آہستہ دے دینا۔
بابے نذیر کے خاندان سے آج بھی ہمارے بہت احترام والے تعلقات ہے، ذیشان اعوان میرا اچھا اور قریبی دوست ہے، ان کے بڑے بھائی بشارت اعوان دبئی میں کامیاب بزنس مین ہیں۔
خیر ابو جی نے کئی جتن کیے، کئی کام کیے لیکن چند برسوں بعد عطا اللہ کے نام کے ساتھ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مستری کا اضافی لفظ نتھی ہوگیا۔
ابو جی کی خواہش تھی کہ میری اولاد پڑھ جائے، میرے بیٹے پڑھ جائیں، میری بیٹیاں پڑھ جائیں۔
ان کا ایک خواب تھا کہ میرا کوئی بیٹا ڈاکٹر بنے لیکن ان کا یہ خواب ان کی زندگی میں پورا نہ ہو سکا۔ نہ تو وسائل تھے اور نہ ہی ہم سے کوئی اس قدر لائق فائق تھا۔
بڑے اعجاز بھائی نے نوے کی دہائی میں راولپنڈی ہولی فیملی ہسپتال سے ڈسپینسر کا کورس کیا اور پھر نوشہرہ ورکاں میں پریکٹس کے ساتھ ساتھ اپنا میڈیکل اسٹور کھول لیا۔ لیکن اپنی وفات سے پہلے بھی کبھی کبھار کہا کرتے تھے کہ ان بچوں میں سے کوئی ایک ڈاکٹر ہونا چاہیے، یہ لوگوں کو شفایاب کرتے ہیں، ڈاکٹر مجھے اچھے لگتے ہیں۔
آپ کو یہ بات چھوٹی لگے گی لیکن زاویہ گھمائیں تو والد صاحب کے لیے یہ بہت بڑی بات تھی۔ چند روز پہلے مجھے مسیج آیا کہ اعجاز بھائی کے بیٹے خبیب نے باقاعدہ طور ڈاکٹر کی ڈگری حاصل کر لی ہے۔ خبیب کا بڑا بھائی صحیب بھی اسی راستے پر گامزن ہے اور بڑی بہن کی بیٹی بھی۔
مجھے ایسے ہی رات لیٹے لیٹے خیال آیا کہ والد صاحب نے یہ خواب آج سے کوئی پچاس برس پہلے دیکھا تھا اور وہ گاؤں چھوڑ کر نوشہرہ ورکاں آئے تھے۔ اس خواب کی تکمیل ان کی وفات سے بھی کوئی پندرہ برس بعد ہوئی ہے۔ اب ماشااللہ سے تمام بھائیوں کے ہی پاس گاڑیاں ہیں، گھر ہیں، ضرورت کا سبھی کچھ ہے۔
میں جب اپنی یا ان سب کی یہ مادی ترقی دیکھتا ہوں تو یونہی خیال آتا ہے کہ ہم سب کے روشن مستقبل کے لیے تہمد باندھنے والے ایک شخص نے گاؤں چھوڑا تھا، جس کی ساری زندگی سردی گرمی میں مزدوری کرتے گزر گئی۔
وہ شخص جس کو اب کوئی کبھی کبھار ہی یاد کرتا ہے۔
اس دوسری نسل کے قہقہے، لگثری گاڑیاں اور کوٹھیاں مستری عطا اللہ کے اس خواب کی تعبیر ہیں، جو ان کو بابے نذیر نے دکھایا۔
دوسری طرف ڈاکٹر خبیب کو شاید ہی علم ہو کہ آج وہ ڈاکٹر کیوں بنا ہے اور یہ خواب کس نے دیکھا تھا؟
کبھی کسی کو خیال تک نہیں آتا کہ ترقیوں کے مینار کے نیچے کس کی ہڈیاں دفن ہیں، کس کے لہو سے بنا گارا لگا ہوا ہے۔
کبھی کبھار اولاد کو یہ خیال تک نہیں آتا کہ ماں باپ نے ان کی خوشیوں کے لیے وہ دکھ جھیلے ہیں، جو وہ آج تک کسی کو نہیں بتا سکے اور خاموشی سے اپنے آنسووں کے ساتھ قبر میں لے گئے ہیں۔
"اور تم ایسے بھلا دیے جاؤ گے، جیسے کبھی تھے ہی نہیں"۔

