Wednesday, 22 July 2026
  1.  Home
  2. Hameed Ullah Bhatti
  3. Aur Haspania Jeet Gaya

Aur Haspania Jeet Gaya

اور ہسپانیہ جیت گیا

جیت تو جیت ہی ہوتی ہے چاہے جیسی بھی ہو۔ ہسپانیہ دوسری بار فیفا ورلڈکپ جیت کر2026 کے لیے فٹ بال کی دنیا کا بادشاہ بن گیا ہے لیکن ساتھ دنیا کے دل بھی جیت چکا ہے۔ طویل اور سنسنی خیز مقابلے کے ایسے شاندار نتیجے کا پہلا سبق تو یہ ہے کہ اگر محنت، لگن اور متحمل مزاجی سے جدوجہد کی جائے تو منزل حاصل کرنا مشکل نہیں رہتا مگر سوچ منفی اور مزاج جارحانہ ہو تو دنیاکی سُپرطاقت کی اعلانیہ حمایت اور طاقتور صیہونی لابی کا ساتھ بھی بے اثر ہوجاتا ہے۔ ہسپانیہ کی جیت دو فلسفوں کی جیت ہے۔ سپین کے طول و عرض میں جیت کا جشن منایا جارہا ہے لیکن ہزاروں کے اجتماعات میں بھی کسی قسم کی توڑ پھوڑ نہیں ہوئی۔ خوشی میں بھی وقار اور نظم و ضبط ہے سرکاری اور نجی املاک مکمل طور پر محفوظ ہیں۔ تحمل اور بُرباری سے ہسپانیہ نے دنیا کو پیغام دیا ہے کہ وہ مہذب قوم ہے بلاشبہ عظیم قومیں نظم و ضبط جیسے زیور سے آراستہ ہوتی ہیں۔ وزیرِ اعظم پیدور سانچز کی قیادت میں ہسپانیہ ایک مہذب ملک بن چکا ہے اور مظلوم قوموں کا ترجمان بھی۔

کئی حکومتی ادوار دیکھے لیکن پیدروسانچز نے حکومت گرانے کے خواب دیکھنے والی جماعتوں کو بھی اخلاق سے جواب دیا۔ الزام تراشی کا جواب تحمل، برداشت اور دلیل سے دیا۔ اُن کے انداز میں وقار نمایاں ہے انھوں نے معاشرے کی ایسی تعمیر کردی ہے کہ قوم پرستی کی آڑ میں کوئی جنونی معاشرے کو عدم برداشت کی طرف نہ لے جا سکے۔ ایسے حالات میں جب یورپ میں تارکینِ وطن سے ناپسندیدگی فروغ پذیرہے پیدروسانچز نے بارہ لاکھ سے زائد ایسے نفوس کو جو سپین میں برسوں سے مقیم ہونے کے باوجود ہنوز غیر قانونی سمجھے جاتے ہیں جس کی وجہ سے نہ صرف بہتر روزگار بلکہ صحت جیسی سہولتوں سے بھی محروم تھے اُنھیں رہائشی اجازت دیکر روزگار اور صحت کی سہولتوں میں حصہ دار بنا دیا ہے۔ اِس فیصلے سے سپین کے ٹیکس دہندگان میں بارہ لاکھ سے زائد نئے لوگ شامل ہونے کا امکان ہے۔ یہ فیصلہ ہسپانیہ کی تعمیر و ترقی کا سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

ہسپانوی ٹیم نے نہ صرف کھیل جیتا بلکہ سامعین کے دل بھی جیت لیے اور کھیلتے ہوئے اخلاقی حوالے سے بلند قامت نظر آئی جبکہ دفاعی چیمپئن ارجنٹائن کے لڑاکے کھلاڑی بونے دکھائی دیے۔ کھیل کے آغاز پر ارجنٹائن کے کھلاڑی نے جس شرمناک رویے کا مظاہرہ کیا اِس کا جواب ہسپانوی ٹیم نے میدان میں دیا اور نوے منٹ کے کھیل میں فٹ بال کو دسترس میں رکھا۔ مقررہ وقت میں دونوں ٹیمیں گول نہ کرسکیں مگر ہسپانوی ٹیم شاندار کھیل سے تابڑ توڑ حملے کرتی رہی اور آخرکار اضافی وقت میں حریف دفاعی چیمپئن کو ایک گول سے شکست دے کر دوسری بار ورلڈ کپ کا ٹائٹل جیت گئی۔ مہذب معاشر ے کی ٹیم کی فتح پر دنیا کی خوشی دیدنی ہے جس کی مزید وجوہات یہ ہیں۔

ارجنٹیناکی ٹیم نے اسرائیل کا پرچم لہرا کر عوامی نفرت مول لی جبکہ ہسپانوی ٹیم نے فلسطینی پرچم اُٹھا کر غزہ میں جاری نسل کشی کی مخالف ہونے کا تاثر دیا۔ اسی بناپر اِس بار فیفا ورلڈ کپ کے حوالے سے دنیا کا جوش و خروش دیدنی تھا کیونکہ اسرائیلی پالیسیاں اور غزہ میں جاری نسل کشی پر دنیا بھر میں گہری رنجیدگی ہے جو ہسپانوی ٹیم کی فتح پر وارفتگی کی صورت میں نظر آتی ہے۔

فیفاورلڈ کپ میں صدر ٹرمپ کی شرکت سے ایسا لگا کہ ارجنٹینا کی جیت کے لیے پسِ پردہ کچھ قوتیں سرگرمِ عمل ہیں جس کا ثبوت کچھ جانبدار فیصلوں سے ملا مگر تھکاوٹ کا شکار ٹیم ایسی امداد کے باوجود اوندھے منہ جاگری کیونکہ اُس کا کھیل جارحانہ ضرور تھا لیکن ایک کھلاڑی جیسی برداشت اور تحمل ناپید تھا۔

ارجنٹینا کے کھلاڑیوں میں ہاتھا پائی کا جذبہ تو تھا لیکن کھلاڑیوں جیسی ہم آہنگی کا فقدان نمایاں نظر آیا جب جیت کے لیے درکار گول کے لیے پیدروپورونے نے عمدہ پیش قدمی کی اور گیند کو دورپوسٹ کی طرف بھیجا تو ارجنٹینا کے کھلاڑی روک نہ سکے اسی دوران نیکو ولیمز حرکت میں آئے اور سر کے زریعے گیند کو گول کرنے کی غرض سے آگے بڑھا دیا ایسی ہم آہنگی کا نتیجہ 105 ویں منٹ میں ہسپانیہ نے فیصلہ کُن گول کردیا اور سولہ برس کی طویل مدت کے بعد دوسری بار ورلڈ کپ کا اعزاز حاصل کر لیا 2010 کے بعد ہسپانوی لوگوں کو یہ جیت نہال کرگئی ہے۔

23 ویں فیفا عالمی کپ کی میزبانی امریکہ سمیت میکسیکو اور کینیڈا نے کی موجود فیفا کپ اِس حوالے سے منفرد ہے کہ پہلی بار تین ملک میزبان ٹھہرے۔ مزید یہ کہ پہلی بار دنیا کی 48 ٹیموں نے حصہ لیکر تاریخ تو رقم کردی مگر آخر کار ہسپانیہ نے ثابت کردیا کہ وہ اخلاق اور تہذیب میں اگر نمایاں ہے تو کھیل کا بھی بادشاہ ہے۔ کھلاڑی جذباتی نہیں ہوتا بلکہ ہر کھاڑی دوسرے کے انداز اور اِشارے پر نظر رکھتا ہے اور بروقت فیصلہ کرتے ہوئے حرکت میں آتا ہے یہ وہ خوبی ہے جو ہسپانوی ٹیم کو ممتاز کرتی ہے اسی خوبی کا نتیجہ ہے کہ تمام مقابلوں میں اُسے صرف ایک شکست ہوئی لیکن حتمی مقابلے میں دفاعی چیمپئن کو چاروں شانے چت کرتے ہوئے فیفاکپ 2026 اپنے نام کر لیا۔

فیفا کپ کے ساتھ رواں برس ہسپانیہ کو فٹ بال کے کھیل میں کئی تاریخی کامیابیاں حاصل ہوئیں نہ صرف مردوں کی ٹیم نے عالمی اعزاز حاصل کیا ہے بلکہ خواتین کی ٹیم بھی فٹ بال کی عالمی فاتح بن گئی ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ مرد و خواتین کی ٹیمیں بیک وقت عالمی اعزاز جیتی ہیں۔ ایک مہذب ملک کی یہ جیت اِشارہ ہے کہ محنت، لگن اور جہد مسلسل سے کامیابی ملتی ہے اور جو کھلاڑی کھیل کی بجائے لڑائی جھگڑے پر یقین رکھتے ہیں وہ منزل حاصل نہیں کرپاتے۔ پیدروسانچز کی حکمتِ عملی پر چل کر ہسپانوی ٹیم نے جزبات پر قابو رکھ کر نظم وضبط اور محنت سے مقابلہ کیا اور آج فٹ بال کی عالمی حکمران ہے۔

ہسپانیہ کا شاہی خاندان بھی اپنے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی میں پیش پیش نظر آیا شہزادیاں تک شہریوں کی طرح جوش و خروش میں نمایاں رہیں۔ خودپیدروسانچز غیر ملکی مصروفیات کے باوجود وقت نکال کر میدان میں اپنی ٹیم کا حوصلہ بڑھانے آئے۔ ٹیم کا وطن واپسی پرشاندار استقبال جاری ہے جس قوم کے رہنما یک جان اور مظلوم کا ساتھ دیتے ہوئے پس وپیش کا شکار نہ ہوں تو جیت مشکل نہیں رہتی۔ ہسپانیہ کی ٹیم میں جیتنے کی لگن تھی اور مظلوم کی حامی ہونے کی وجہ سے دنیا کی دعائیں ساتھ تھیں جبکہ ارجنٹائن نے اسرائیلی پرچم لہرا کر ظلم و بربریت کا حامی ہونے کا جو مظاہرہ کیا وہ میسی جیسے کھلاڑی کے نہ صرف آخری مقابلے میں شکست کے داغ سے رُخصتگی پر منتج ہوا بلکہ پوری ٹیم ظالم قوتوں کی حمایت سے عوامی نفرت کا شکار ہوگئی جبکہ ہسپانوی ٹیم کو لامین یامال کی صورت میں ایک جوہرِ قابل مل گیا ہے جس کا مستقبل شاندار ہوسکتا ہے۔

بورخا جیسے انسانی و سماجی مسائل پر دوٹوک موقف اختیار کرنے والے کھلاڑیوں سے عوام محبت اور ہمدردی رکھتی ہے جنھوں نے ٹرمپ سے مختصر مصافہ کیا ہسپانیہ جیت گیا ہے مگر مقابلے کے کئی پہلو ہمیشہ یاد رہیں گے۔ ہسپانیہ کی ٹیم کے کپتان روڈریگونے باحجاب بچی کے ساتھ جس وقار، عزت اور اعتماد کے ساتھ میدان میں آمد کی وہ ہسپانوی معاشرے کی ہی روایت ہوسکتی ہے جو برداشت، روادی اور انسانی اقدارپر پختہ یقین رکھتا ہے۔

Check Also

Pachas Baras Baad Mukammal Hone Wala Khwab

By Imtiaz Ahmad