Monday, 20 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Syed Mehdi Bukhari
  4. The Odyssey

The Odyssey

دی اوڈیسی

بہت سالوں بعد سینما میں ایک فلم دیکھنے کے قابل آئی ہے۔ کرسٹوفر نولان کی The Odyssey. سینما گئے نجانے کتنے سال بیت گئے۔ سینما میں آخری فلم سنہ 2017 میں The beauty and the beast دیکھی تھی اور اس سے کئی سال پہلے بھارتی فلم PK دیکھی تھی۔ سوچ رہا کہ ایمپوریم مال یا ٹاؤن شپ سینما میں فلم دیکھنے جایا جائے۔ بیگم صاحبہ فرمانے لگیں مجھے بھی جانا ہے لیکن صاحبو میں نے ان کی جانب دیکھ کر ہاتھ جوڑ دیے۔ پھر ان کو سمجھ آئی اور بولیں " وعدہ، میں ایک لفظ نہیں بولوں گی"۔

بیگم کے ساتھ فلم یا سیریز دیکھنا ایک الگ نوعیت کا سیاپا ہوتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے وہ فلم یا سیریز آپ پر ہی بنی ہوئی ہے۔ کچھ دن پہلے ایسی ہی ایک فلم ہم دونوں دیکھ رہے تھے۔ اس کا مرکزی کردار اپنی بیوی کو بھی تحائف دے کر خوش رکھتا ہے اور باہر بھی اس کے کافی چکر چل رہے ہوتے ہیں۔ یکدم بیگم کی آواز آئی "بیغیرت انسان، بیوی کو بھی خوش رکھا ہوا اور باہر بھی چکر چلانے سے باز نہیں آیا"۔ میں نے اس کی جانب دیکھا تو وہ میری جانب ہی دیکھ رہی تھی۔ میں نے اگنور کر دیا کہ شاید ہیرو پر اپنی رائے دے رہی ہے۔

کچھ دیر گزری تو پھر ایسے ہی کسی سین پر بولی"چیپسٹر، بیویوں کے ساتھ بھی لولو پوپو کرتے ہیں اور موبائل پر گرل فرینڈ کے ساتھ بھی لگے رہتے ہیں"۔ میں نے پھر گردن گھما کے اُسے دیکھا۔ وہ اب کے ٹی وی سکرین کی جانب دیکھ رہی تھی۔

پھر کچھ دن بعد ایسے ہی ایک بھارتی سیریز دیکھی۔ جس کی مرکزی کردار ایک عورت تھی جو شوہر کی ڈانٹ ڈپٹ کا شکار رہ کر ذہنی مریضہ بن چکی تھی۔ اچانک بیگم کی آواز آئی "خدمتیں جتنی مرضی کر لو ان کی یہ مینٹل ٹارچر کرنے سے باز نہیں آتے"۔ میں نے اسے دیکھا تو اس نے منہ موڑ لیا۔ پھر ایک سین میں ایک اور کردار سفر سے واپس گھر آتے ہی اپنی بیوی کے لیے پھولوں کا گلدستہ لاتا ہے۔ فوراً مدھم سی آواز میں بولی "کہاں ہوتے ہیں ایسے شوہر آجکل بھلا؟" میں نے اسے کہا "اتنا غصہ کس بات پر ہے؟ وہ بس فکشن سیریز ہے"۔ جواباً گرجدار آواز آئی "آپ کیوں چڑ رہے ہیں جیسے آپ کو کہا ہو؟" میں نے صبر کا گھونٹ بھرا اور سو گیا۔

ایک دفعہ بیگم نے Squid Game کا دوسرا سیزن لگا لیا۔ اچھا بھلا دیکھ رہے تھے۔ اچانک بولی "میرا دل کر رہا میں ساؤتھ کوریا جاؤں"۔ میں سمجھا شو سے متاثر ہو کر کہہ رہی ہے۔ میں نے پوچھا کیوں؟ بولی "وہاں جا کر ان کو کہوں کہ پلیز سکوئڈ گیم کی لسٹ میں میرے ہسبنڈ کا نام بھی شامل کریں مجھے سو فیصد یقین ہے آپ انعام جیت کر ہی آئیں گے"۔

ایک انگریزی سیریز دیکھ رہے تھے جو مشہورِ زمانہ امریکی ڈاکو Billy the Kid کی سوانح حیات پر بنی ہے۔ دیکھتے دیکھتے بولی "یہ فلموں میں غلط لوگوں کو کیوں گلوریفائی کرتے ہیں؟"۔ میں نے کہا "ہر تشدد پر مائل انسان کے پیچھے ایک ہسٹری ہوتی ہے۔ پھولن دیوی ہوگئی یا یہ بلی دی کِڈ ہوگیا۔ کوئی اپنے شوق سے اسلحہ نہیں اُٹھاتا۔ ظلم و جبر سے تنگ آ کر لوگ اسلحہ اُٹھاتے ہیں"۔ بولی "مجھے بھی آپ اسلحہ اُٹھانے پر مجبور نہ کیجئیے گا"۔

ایک تو مجھے پتہ نہیں کس کیڑے نے کاٹا کہ بیگم صاحبہ کے سامنے دانشوری جھاڑنے لگا۔ میرا مشورہ یہی ہے کہ آپ ہو سکے تو الگ الگ فلم دیکھا کریں۔ یہ بیگمات چاہے کسی بھی رنگ، نسل، خطے سے تعلق رکھتیں ہوں مگر ہوتیں مزاجاً ایک سی ہیں۔ کچھ دن پہلے میں نے ساتھ ٹی وی شو دیکھنے سے تنگ آ کر ایک ڈاکومنٹری "پلانٹ ارتھ تھری" لگا لی۔ ہلکی بھوک لگی تو ساتھ نمکو کا پیکٹ کھول لیا۔ اس میں Sir David Attenborough پانڈا کے متعلق بتا رہے تھے کہ پانڈا اگر جاگ رہا ہو تو کھاتا رہتا ہے یا پھر سویا ہی رہتا ہے۔ پانڈا ارد گرد کچرا پھیلاتا رہتا ہے۔ پانڈا اکیلا رہنے میں خوشی محسوس کرتا ہے۔ پانڈا اداس رہتا ہے۔ اس کو آواز آ رہی تھی۔ یکدم بولی "کئیں شوہر بھی پانڈا ہوتے ہیں"۔

میرا حتمی مشورہ یہ ہے کہ آپ ہو سکے تو جو کچھ بھی دیکھنا ہو گھر سے باہر دیکھ لیا کریں۔ میں اب یہ سوچ رہا ہوں بیگم صاحبہ کے وعدے پر اعتبار کر لوں یا اپنے تجربات کے ساتھ ہی ڈٹ کے کھڑا رہوں۔

Check Also

Project Ka Akhri Manzar

By Muhammad Aamir Hussaini