Monday, 20 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Abdul Hannan Raja
  4. Aur To Kuch Nahi Kya Main Ne

Aur To Kuch Nahi Kya Main Ne

اور تو کچھ نہیں کیا میں نے

بعض تجزیہ نگاران کی اس بات سے فوری اتفاق کیسے کیا جائے! کیونکہ تصدیق یا تردید ممکن نہیں کہ "موجودہ رہبر مجتبی خامنہ ای قومہ میں اور ان کے ایما پر فیصلہ سازی پاسداران کے کمانڈر انچیف کے دفتر سے کی جا رہی ہے"۔ ذرائع نے یہ بھی لکھا ہے کہ موجودہ صدر ایران کے سابق سیکرٹری نیشنل سیکورٹی کونسل علی لاریجانی کی شہادت کے بعد باقر ذوالقدر کی تعیناتی نہیں چاہتے تھے گو کہ باقر ذوالقدر پاسداران کے سابق ڈپٹی کمانڈر اور محمود احمدی نزاد کے دور میں وزیر دفاع بھی رہے مگر واقفان حال اسے IRGC کے قائم مقام کمانڈر ان چیف جنرل احمد وحیدی کے دباو کا نتیجہ قرار دیتے ہیں"۔

فی الوقت ایرانی قیادت مومنانہ بصیرت کی بجائے، بے سروپا و اشتعال انگیزی پر مبنی امریکی بیانات پر تحمل اور امن کو موقع دینے کی بجائے ذہنی خلفشار کے شکار صدر کی ذہنی سطح پر آ کر جواب در جواب اور اقدامات اٹھا رہی ہے۔ جو مذاکراتی عمل کو سبوتاژ اور ایران امن کا راستہ کھو رہا ہے۔ جلتی پر تیل کہ پاسداران سرعام معاہدہ اسلام آباد کے خاتمہ کا اعلان بھی کیے بیٹھے ہیں۔ ایران کو علم نہیں کہ معاہدہ اسلام آباد ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر دو چار ملاقاتوں کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ کئی ہفتوں کی مخلصانہ و کٹھن ترین سفارت کاری اور عالی دماغوں کے کئی جگ رتوں کا ثمر کہ جسے نہ صرف مسلم Quad ممالک بلکہ چین حتی کہ روس کی حمایت بھی حاصل تھی اور یورپی یونین بشمول عالمی دنیا اسے خوش آئند قرار دے رہی تھی اور اسی معاہدہ نے ہی آگے چل کر ایران کے لیے دنیا بھر کے لیے دروازے کھولنا اور بتدریج اقتصادی پابندیوں کے خاتمہ کے ساتھ تعمیر نو کی بنیاد بننا تھا۔

اسی معاہدہ نے مشرق وسطی اور جنوبی ایشیا کے مستقبل کا نقشہ بدلنا، مسلم ممالک کا مضبوط اتحاد بنا کر گریٹر اسرائیل کی راہ روکنا اور اگلے ایک دو سالوں میں خلیجی ممالک سے امریکی نفوذ کو ختم یا کم کرنا تھا۔ مگر کیا وجہ رہی کہ عمان کے پانیوں سے برادر ملک قطر اور سعودی عرب کے گزرتے ٹینکرز کو دشمن سمجھ کر نشانہ بنایا گیا؟ اس معاملہ پر ثالثین کو آگاہ اور ٹینکرز کو تنبیہ جیسے اخلاقی جوازات کو بروئے کار نہ لایا گیا؟ یہ سوالات یقیناََ مصالحتی کوششیں کرنے اور مسلم ممالک کے مابین نفرت اور جنگ کو روکنے کی کوشش کرنے والے کرداروں کے ذہنوں میں اٹھنا فطری عمل۔

معاملہ یہاں بھی نہیں رکا بلکہ اس سے آگے IRGC کے ذمہ دار کی جانب سے ثالث پاکستان کے بارے غیر سنجیدہ اور تحقیرانہ بیان نے بھی کھلبلی مچائی اس سارے عمل سے لطف اندوز کون ہو رہا ہے۔ یہی دیکھ کر ہی ایران کو سمجھ جانا چاہیے، کیا اسرائیل، بھارت سمیت پاکستان دشمن اور پاکستان مخالف اس اقدام پہ شادیانے نہیں بجا رہے؟ مگر اس کے باوجود پاکستان اگر مصالحتی کردار سے مایوس نہیں ہوا تو یہ مصالحتی عمل کے مرکزی کردار کی اعلی ظرفی۔ اس سے آگے اپنے برادر ملک کو کوئی عنوان دینا زیبا نہیں۔

انتقام کے نعرے 9 کروڑ ایرانیوں کے صبر کا پیمانہ لبریز کرنے کے مترادف اور ان قربانیوں کے ثمرات کو ضائع کرنے کا سبب۔ سیاسی قیادت تو یہ بات بخوبی سمجھتی بھی پے مگر جنگ بندی کے معاملہ پر اس کی رائے فیصلہ کن نہیں۔

کیا اس حقیقت سے ایران آگاہ نہیں کہ خلیجی ممالک سمیت دیگر ابنائے ہرمز پر ایرانی کنٹرول کو کیسے تسلیم کریں گے کہ پڑوسی ممالک سے بہتر تعلقات بارے ایران کا ماضی شاندار ہے اور نہ ثالث ممالک کی اس کے ہاں قدر۔ اب ان ممالک کے خدشات ایران درست ثابت بھی کر رہا ہے کہ کل کلاں آبنائے ہرمز کی ساری ٹریفک ایران کے رحم کرم پر ہوگی اور پھر ایک المیہ یہ بھی کہ یہ ممالک اگر ایرانی حکومت سے کوئی معاہدہ کر بھی لیں تو پاسداران کی ضمانت کون دے گا؟ یہ سوال ہر ثالث اور دنیا بھر کے لیے پریشان کن۔

عالمی امور کے بعض ماہرین کہ جن کی رائے صائب اور ہم جیسوں پر گراں گزرتی رہی مگر وقت کے ساتھ ساتھ اس کی گرہیں کھلتی نظر آنے لگی ہیں کہ اسرائیل میں نیتن یاہو، امریکہ میں ٹرمپ اس کے وزیر جنگ سمیت طاقتور صیہونی لابی اور ادھر IRGC جنگ بندی نہیں چاہتے۔

بظاہر لگتا ہے کہ IRGC نے شہید راہبر کے جنازہ کو اپنی طاقت کے اظہار کے لیے خوب استعمال کیا۔ جنازہ میں صدر پزشکیان اور عباس عراقچی پر غداری کے نعرے لگوا کر دراصل جنازہ کی توہین کرائی گئی۔ یہ جنازہ کہ جسے ایران کی وحدت کا علامت ہونا چاہیے تھا کیونکر سیاسی و فوجی اختلاف کی آماجگاہ بنا؟ وہ کون سے عناصر ہیں جو ایران سمیت مشرق وسطی میں قیام کے خلاف، وہ کون ہیں جو معاشی، اقتصادی، سفارتی اور تہذیبی طور پر ایران کو طاقتور اور عوام کو خوش حال نہیں دیکھنا چاہتے؟

یہ ایسے سوالات ہیں کہ جنہوں نے کفر و اسلام کی اس جنگ کو انا اور مفادات کی جنگ بنا رہے ہیں۔ کیا قطر، سعودی عرب اور عمان پر حملوں نے چینی قیادت کو مضطرب نہیں کیا ہوگا؟ کہ جو پس پردہ رہ کر پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششوں کی کامیابی میں کردار ادا کر رہی تھی اور پاکستان نے بھی مذاکرات کے تمام عمل میں چین اور سعودی عرب کو لمحہ بہ لمحہ باخبر بھی رکھا اور ان کی تجاویز کو اعزاز بھی دیا۔

پاکستان مجتبی خامنہ ای کو براہ راست صورتحال سے آگاہ اور مجوزہ تجاویز بارے اعتماد میں لینے کا خواہاں رہا صدر پزشکیان اور عباس عراقچی تو متفق مگر طاقت کا مرکز کبھی اس پہ آمادہ نہ ہوا۔ اب علی خامنہ ای کے جنازہ میں سرعام صدر اور وزیر خارجہ کو نہ صرف متنازع بلکہ باقاعدہ احتجاج اور نوبت اس حد تک آ گئی کہ مذکورہ شخصیات کو بمشکل بحفاظت نکالنا پڑا۔ ان حالات میں کون کس سے مذاکرات اور کس کی بات پائیدار متصور ہوگی علم نہیں مگر یہ کہ ایران کو جس سمت دھکیلا جا رہا ہے۔

دراصل وہ اسرائیل کا ترتیب کردہ منصوبہ کہ مستحکم ایران، عرب ایران متوازن تعلقات اور اس پر پاکستان کی ایٹمی چھتری اور جدید و طاقتور ترکیہ کی بحری و فضائی حمایت، پاکستان اور ایران دشمنوں کو قبول نہیں۔ یہ حقیقت ایران کے پیش نظر رہنی چاہیے کہ ریاستیں جذبات اور مقبول عام مگر قومی استحکام کے برخلاف فیصلوں سے نہیں دور اندیشی، حکمت اور تدبر سے چلتی ہیں۔ عقل سے عاری اگر کچھ کہتے ہیں کہ ایران نے تو کچھ نہیں کیا تو اس کا اظہار نامور شاعر سفیر احمد سفیر کی زبان میں پہلا شعر ایران کی نذر۔۔

اور تو کچھ نہیں کیا میں نے
خود کو برباد کر لیا میں نے

شاید دوسرا پاکستان پہ صادق آتا ہو

تیرے غم میں کیا تھا چاک جسے
وہ گریباں ابھی سیا میں نے!

Check Also

The Odyssey

By Syed Mehdi Bukhari