Monday, 20 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Abid Mehmood Azaam
  4. Molana Fazal Ur Rehman: Kamyab Siasat Dan, Nakam Rehnuma

Molana Fazal Ur Rehman: Kamyab Siasat Dan, Nakam Rehnuma

مولانا فضل الرحمٰن: کامیاب سیاست دان، ناکام رہنما

ممکن ہے بہت سے لوگ مجھ سے اختلاف کریں، لیکن میرے نزدیک مولانا فضل الرحمٰن ایک کامیاب سیاست دان تو ہیں، مگر ایک کامیاب رہنما نہیں۔ سیاست دان ہونا الگ بات ہے اور رہنما ہونا الگ بات ہے۔ سیاست میں مولانا فضل الرحمٰن کا ایک بڑا نام ہے۔ وہ سیاسی جوڑ توڑ کے ماہر ہیں، سیاست کی پیچیدہ گتھیاں سلجھانا جانتے ہیں اور بہت سے سیاست دان انہیں اپنا استاد مانتے ہیں۔ وہ اسٹیبلشمنٹ، حکومت اور اپوزیشن، تینوں کے ساتھ بیک وقت توازن قائم رکھنے کا ہنر جانتے ہیں۔ وہ اپوزیشن میں ہوتے ہوئے بھی حکومت کا کردار ادا کر لیتے ہیں اور بظاہر اسٹیبلشمنٹ مخالف ہوتے ہوئے بھی اسٹیبلشمنٹ کے لیے مفید ثابت ہوتے ہیں۔ وہ اسٹیبلشمنٹ کو وہ بات بھی سختی سے کہہ دیتے ہیں جس کی پاداش میں دوسرے سیاست دان جیلوں میں بند ہو جاتے ہیں۔ یہ سب کچھ وہ اس مہارت سے کرتے ہیں کہ بیک وقت کئی متضاد کردار ادا کرنے کے باوجود ان کی سیاسی حکمتِ عملی پر باآسانی انگلی اٹھانے کا موقع نہیں ملتا۔ یہی ان کی سیاسی مہارت کی دلیل ہے۔ ایک ماہر سیاست دان سیاسی بساط پر کامیاب چالیں چل سکتا ہے، حکومتیں بنا اور گرا سکتا ہے، اتحاد تشکیل دے سکتا ہے اور اپنے سیاسی مفادات حاصل کر سکتا ہے، لیکن ایک حقیقی رہنما کا کام صرف سیاسی کامیابیاں حاصل کرنا نہیں ہوتا۔ رہنما اپنے کارکنوں، پیروکاروں اور اپنے سے عقیدت رکھنے والوں کی فکری، اخلاقی اور انسانی تربیت بھی کرتا ہے۔ میرے خیال میں مولانا فضل الرحمٰن اس میدان میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جمعیت علمائے اسلام کے بہت سے کارکن اپنی جماعت، اپنے قائدین اور اپنے سیاسی مؤقف سے اختلاف کرنے والوں کو گالم گلوچ، الزام تراشی اور بدزبانی کا نشانہ بناتے ہیں۔ بڑے بڑے علماء کرام بھی ان کی بد اخلاقی سے محفوظ نہیں رہے۔ مختلف ادوار میں مولانا طارق جمیل سے مفتی محمد تقی عثمانی تک، مولانا عدنان کاکا خیل سے مولانا زاہد صاحب تک، مفتی طارق مسعود سے مفتی عبد الرحیم تک، مولانا محمد خان شیرانی سے مولانا احمد لدھیانوی تک، متعدد علماء کرام کے خلاف جمعیت کے بعض کارکنان سوشل میڈیا پر انتہائی نامناسب زبان استعمال کرتے رہے ہیں۔ یہ فہرست یقیناً اس سے کہیں زیادہ طویل ہے۔ طعن و تشنیع، دشنام طرازی، الزام تراشی، بدتمیزی اور بداخلاقی بعض کارکنان کی گفتگو کا مستقل حصہ بن چکی ہے۔ یہ لوگ صرف ان علماء کا احترام کرتے ہیں جو ان کی جماعت اور ان کے قائدین کے سیاسی مؤقف سے اتفاق کریں۔ جو اختلاف کرے، اس کے خلاف سوشل میڈیا پر ہر قسم کی بدزبانی کو اپنا حق سمجھ لیا جاتا ہے۔ بعض اوقات علماء کرام کے بارے میں ایسی غلیظ اور بازاری زبان استعمال کی جاتی ہے کہ پڑھ کر حیرت ہوتی ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایسے لوگ بھی کسی دینی جماعت کے کارکن ہوں۔ اختلاف اپنی جگہ، سیاسی وابستگی اپنی جگہ، لیکن کسی عالمِ دین کی تضحیک، تحقیر، کردار کشی اور گالم گلوچ کو کسی بھی صورت دینی یا جماعتی وابستگی کا لازمی حصہ نہیں بنایا جا سکتا۔

سوشل میڈیا پر جمعیت علمائے اسلام کے ایسے سینکڑوں کارکنان کی گفتگو دیکھی جا سکتی ہے۔ یہ کوئی آج کا مسئلہ نہیں، بلکہ برسوں سے جمعیت علمائے اسلام کے بعض کارکنان کے مزاج کا حصہ بنا ہوا ہے۔ متعدد علماء کرام اس رویے پر شکوہ اور سنجیدگی کا اظہار بھی کر چکے ہیں، لیکن اس کے باوجود اس طرزِ عمل میں کوئی بہتری دکھائی نہیں دیتی، کیوں کہ ان کارکنان کی مطلوبہ فکری اور اخلاقی تربیت نہیں کی گئی۔ مزید افسوس کی بات یہ ہے کہ جب کوئی اس بداخلاقی پر تنقید کرتا ہے تو جماعت کے بعض سنجیدہ لوگ بھی کارکنوں کی اصلاح کرنے کے بجائے یہ کہتے نظر آتے ہیں: "اگر جمعیت علمائے اسلام سے اختلاف کرو گے، اس کی مخالفت کرو گے تو کارکنان گالیاں تو دیں گے، اس کے لیے تیار رہو، گالیاں سننے کا حوصلہ پیدا کرو۔ " یہ جملہ دراصل گالم گلوچ اور الزام تراشی کو جواز فراہم کرنے کے مترادف ہے۔ کسی جماعت سے اختلاف کرنے والے کو گالی سننے کے لیے تیار رہنے کا مشورہ دینا بد اخلاقی کو معمول بنانا ہے۔ اگر کسی جماعت کے کارکن اپنے قائد کی محبت میں مخالفین کو گالیاں دیں تو قائد اور جماعت کے سنجیدہ لوگوں کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اس رویے کی اصلاح کریں، نہ کہ اسے جماعتی وابستگی یا سیاسی غیرت کے نام پر درست ثابت کریں۔ یہاں مولانا فضل الرحمٰن کی قیادت پر سوال اٹھتا ہے۔ رہنما اپنے کارکنوں کے ہر ذاتی عمل کا براہِ راست ذمہ دار نہیں ہوتا۔ ہر انسان اپنے قول و فعل کا خود جواب دہ ہے، لیکن رہنما کی ذمہ داری ضرور ہے کہ وہ اپنے کارکنوں کو اخلاقی اصول سکھائے، بدزبانی کی حوصلہ شکنی کرے، گالم گلوچ اور الزام تراشی کو جماعتی مفاد کے نام پر برداشت نہ کرے اور اختلافِ رائے کے آداب سکھائے۔ خاص طور پر ایک ایسی جماعت کے قائد سے یہ توقع مزید بڑھ جاتی ہے جو دینی شناخت رکھتی ہو اور جس کے کارکن اپنے قائد کو ایک دینی رہنما کی حیثیت سے بھی دیکھتے ہوں۔

اگر کسی جماعت کے کارکن مسلسل بدزبانی کرتے رہیں، علماء کرام کی توہین کریں، مخالفین پر تہمتیں لگائیں اور جماعتی وابستگی کو ہر اخلاقی اصول سے بالاتر سمجھنے لگیں تو رہنما سے یہ سوال ضرور کیا جانا چاہیے کہ اس نے کارکنان کی اصلاح کی ذمہ داری کس حد تک نبھائی ہے؟

مولانا فضل الرحمٰن کو اپنے کارکنوں سے واضح طور پر کہنا چاہیے کہ دینی تعلیمات صرف دوسروں کو سنانے کے لیے نہیں ہوتیں، خود عمل کرنے کے لیے بھی ہوتی ہیں۔ دنیا میں اسلام نافذ کرنے کی بات کرنے سے پہلے اپنی ذات، اپنے کردار اور اپنی زبان پر اسلام نافذ کرنا ضروری ہے۔ انہیں اپنے کارکنوں کو یہ بھی سمجھانا چاہیے کہ علماء کسی بھی جماعت، ادارے یا نظریے سے تعلق رکھتے ہوں، بہرحال احترام کے مستحق ہیں۔ کسی عالمِ دین سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، اس کے موقف پر تنقید کی جا سکتی ہے اور اس کی سیاسی وابستگی سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، لیکن اس اختلاف کو گالم گلوچ، تہمت، تضحیک اور کردار کشی میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ یہ کہنا کافی نہیں کہ بد اخلاقی، بدتمیزی، گالم گلوچ، طعن و تشنیع اور الزام تراشی حرام ہیں، اپنے عمل سے بھی یہ ثابت کرنا ضروری ہے کہ ہم واقعی انہیں حرام سمجھتے ہیں۔ اختلاف کیجیے، تنقید کیجیے، سیاسی مؤقف پر طنز بھی کیجیے، لیکن ہر اختلاف کو کفر و اسلام کا مسئلہ نہ بنائیے۔ ہر سیاسی مخالف دین کا دشمن نہیں ہوتا اور ہر ناقد جماعت کا دشمن نہیں ہوتا۔ اختلاف کرنے والے کو دشمن سمجھ لینا اور پھر اس کے خلاف ہر زبان استعمال کرنا کسی دینی یا سیاسی جماعت کی کامیابی نہیں، بلکہ اخلاقی شکست ہے۔

رہنما کی ذمہ داری صرف یہ نہیں کہ وہ ایک بڑا ہجوم جمع کر لے، کارکنوں سے نعرے لگوا لے، انہیں جماعت کے لیے قربانیاں دینے پر آمادہ کر دے یا سیاسی مخالفین کے خلاف صف آرا کر دے۔ ایک حقیقی رہنما اپنے کارکنوں کو یہ بھی سکھاتا ہے کہ حق جماعت سے بڑا ہے، اخلاق سیاست سے بڑا ہے اور سچ کسی بھی شخصیت سے بڑا ہے۔ وہ اپنے کارکنوں کو صرف اپنے لیے لڑنا ہی نہیں، اپنے کردار کو سنوارنا بھی سکھاتا ہے۔ وہ انہیں مخالفین سے اختلاف کرنا سکھاتا ہے، مگر بدتمیزی نہیں۔ وہ انہیں سیاسی جدوجہد کا حوصلہ دیتا ہے، مگر اخلاقی حدود سے تجاوز نہیں کرنے دیتا۔ وہ انہیں جماعت سے وفاداری سکھاتا ہے، مگر حق و انصاف کو جماعتی وابستگی پر قربان نہیں ہونے دیتا۔ اگر کوئی رہنما اپنے کارکنوں کو صرف اپنی جماعت کے مفاد کے لیے استعمال کرے، ان سے قربانیاں لے، ان کے جذبات کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرے، لیکن ان کی اخلاقی اور فکری تربیت کی طرف توجہ نہ دے تو وہ قیادت کی ایک بنیادی ذمہ داری پوری نہیں کر رہا۔

رہنما اپنے کارکنوں کے ہر گناہ کا براہِ راست ذمہ دار نہیں ہوتا، لیکن اگر وہ اپنے کارکنوں کو بد اخلاقی، گالم گلوچ اور الزام تراشی سے نہیں روکتا اور اصلاح کی ذمہ داری سے مسلسل گریز کرتا ہے تو وہ اپنی قیادت کی اخلاقی ذمہ داری سے بھی مکمل طور پر بری الذمہ نہیں ہو سکتا۔ قیادت صرف طاقت کا نام نہیں، ذمہ داری کا نام بھی ہے۔ جس طرح ایک استاد اپنے شاگردوں کی تعلیم و تربیت کا ذمہ دار ہوتا ہے اور ایک والد اپنے بچوں کی تربیت کی فکر کرتا ہے، اسی طرح ایک رہنما بھی اپنے زیرِ اثر لوگوں کے فکری اور اخلاقی رجحانات سے مکمل طور پر لاتعلق نہیں رہ سکتا۔ وہ ہر فرد کے عمل کا ذمہ دار نہیں، لیکن وہ ایسا ماحول ضرور بناتا ہے جس میں کارکنوں کے رویے تشکیل پاتے ہیں۔ کامیاب رہنما وہ نہیں جو صرف لاکھوں لوگوں کو اپنے پیچھے کھڑا کر دے، کامیاب رہنما وہ ہے جو ان لاکھوں لوگوں کے کردار کو بھی بہتر بنائے۔ اگر کوئی رہنما اپنے کارکنوں کی اخلاقی تربیت کی ضرورت کو نظر انداز کرتا رہے، ان کی بد اخلاقی پر خاموش رہے یا جماعتی وابستگی کے نام پر ان کے غلط رویوں کا دفاع ہونے دے تو سیاسی کامیابیوں کے باوجود اس کی قیادت کا ایک بنیادی پہلو ضرور ناکام سمجھا جائے گا اور روزِ قیامت ہر شخص کو اپنے اعمال کا جواب خود دینا ہوگا۔

Check Also

Mushkil Kaam

By Rauf Klasra