Tuesday, 21 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Hanif
  4. Talaq (3)

Talaq (3)

طلاق (3)

طلاق بائن عربی زبان میں بلکل جدا ہونے اور قطع کرنے کو کہتے ہیں۔ ایسی طلاق جس کے ذریعے میاں بیوی کے باہمی تعلقات ختم ہو جائیں اور وہ ایک دوسرے سے الگ ہو جائیں طلاق بائین کہلاتی ہے۔ عدد کے لحاظ سے دو طلاقیں دینا طلاق بائین ہی کی صورت ہوگی بشرطیکہ عدت کی مدت گزر جائے اس دوران شوہر رجوع نہ کرے۔ مثلاً جو کہے انت طلاق انت طلاق انت طلاق یا پھر یوں کہے انت طلاق بعد طلاقینیں (یعنی تو دو طلاقوں سے طلاق ہے)۔

طلاق بائین کی ایک عام صورت یہ بھی ہے کہ خاوند کنایہ کے الفاظ میں بیوی کو طلاق دے کنایہ سے مراد ان الفاظ کا استعمال ہے جن سے ایک سے زائد مفہوم نکلتے ہوں مثلاً یوں کہے انت بائن (تو جدا ہے)۔ میں نے تجھے تیرے گھر والوں کے سپرد کیا تو آزاد ہے۔ اپنے گھر والوں سے جا مل وغیرہ وغیرہ غرض فقہا کے نزدیک سوائے تین کنایات کے (اعتدی، استبری رحمک، انت واحدۃ) باقی تمام کنایت سے ایک طلاق بائن واقع ہوتی ہے لیکن یہ طلاق جب ہی ہوگی کہ نیت ثابت ہو۔

اگر خاوند نیت کا انکار کرے اور معاملہ عدالت میں جائے تو قاضی اس بات کی تحقیق کے بعد فیصلہ دے گا کہ خاوند نے کیا الفاظ کن حالات میں کہے تھے۔ طلاق بائن کی حد بھی دو طلاق تک ہے اس سے عورت فوراً نکاح سے نکل جاتی ہے۔ عدت کے اختتام پر عورت اگر چاہے تو دوسرے مرد سے نکاح کر سکتی ہے لیکن اگر میاں بیوی راضی ہو تو تجدید نکاح بھی کر سکتے ہیں۔

3۔ طلاق مغلظہ: جب تین طلاق دے دی جائیں خواہ رجعی ہو یا بائن تو وہ طلاق مغلظہ ہو جاتی ہے جس سے خاوند کو نہ رجوع کرنے کا حق باقی رہتا ہے اور نہ تجدید نکاح کا۔ بلکہ جیساکہ پہلے بیان ہو چکا ہے تحلیل کے بغیر سابق میاں بیوی کا ایک دوسرے سے نکاح نہیں ہو سکتا۔

طلاق کی اقسام (سنت و بدعت کے لحاظ سے)

طلاق سنت کی دو مختلف صورتیں ہیں، ایک طلاق حسن اور دوسری طلاق احسن۔

طلاق حسن: وہ طلاق ہے کہ مرد اپنی بیوی کو تین طہور میں ایک ایک کرکے تین طلاقیں دے اور ان ایام میں اس سے مباشرت نہ کرے۔

طلاق احسن: وہ طلاق ہے کہ مرد اپنی بیوی کو ایک طہر میں ایک طلاق دے اور اس طہر میں یا اس کے بعد اس سے مباشرت نہ کرے حتی کہ عدت کا زمانہ گزر جائے۔

طلاق بدعت: اس کی کئی صورتیں ہو سکتیں ہیں مثلاً حالت حیض میں طلاق دے دی جائے یا ایسے طہر میں طلاق دی جائے جس میں ہم بستری کی گئی ہو یا ایک ہی طہر میں دو یا دو سے زیادہ طلاقیں دے دی جائیں ان تمام صورتوں میں طلاق تو ہو جائے گی مگر طلاق دینے والا گناہ کا مرتکب ہوگا۔

Check Also

Munda Ziyada Sanwla Aye

By Syed Mehdi Bukhari